Posts

Fareb Najdiya Risala E Suwem 3

Image
 وسعت علم نبی کے دشمن                                                                              Download Book فریب  نجدیہ  رسالہ سوم وسعت علم نبیﷺ کے دشمن ؟ از سعد حنفی تحریک اصلاح عقد                کیا حضور علیہ السلام کی وسعت علم قرآن میں نہیں ؟        محترم دوستوں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ جیسا کہ ہم نے یہ سلسلہ "فریب نجدیہ"اس مقصد کے تحت شروع کیا ہے کہ عوام اہلسنت ایک آسان زبان میں ان نجدی وہابیوں کے مکروفریب کو سمجھ سکیں۔جس کے تحت ہم اپنے دو رسالے آپ کے سامنے پیش کر چکے ہیں اب ہم تیسرا رسالہ پیش کررہے ہیں جس میں "براہین قاطعہ" نامی کتاب میں ایک ناپاک عبارت پر ان نجدیوں کی چالبازیاں ملاحظہ کریں گے  کہ کس طرح اس کتاب میں ان منافقین نجدیہ نے حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کرتے ہوئے اپنے ناجائز باپ ابلیس کی مدح خوانی کی ہے اور جب علمائے اہل سنت نے ان کی گرفت کی تو کس طرح مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے مکر کئے ہیں ۔اور عوام میں کس طرح اپنی بے معنی تاویلات پیش کیں ۔        اس معاملہ میں علمائے حرمین شریفین نے بھی اپنے فتاویٰ صادر کئے اور اپنی مبارک

22 Rajjab Ke Kunde Aur Munafikeen

                  بزرگان دین کے نام ایصال ثواب اور منافقین          رجب المرجب : اچانک واٹس اپ پر ایک فتویٰ پر نظر پڑی پڑھنے کے بعد اس بات کا اندازہ باآسانی لگ گیا کہ یہ کسی منافق کی منافقت ہے ۔جس کا تعلق یہودیوں سے ہے وہی فتنہ جو انگریزوں کے دور حکومت میں ہندوستان کی سرزمین میں پیدا ہوا اور چند سکوں میں اپنے ایمان کا سودہ کر بیٹھا حالانکہ عہد رسالت سے ہی ان منافقین کو ذات رسول پاک ﷺ اور آپ کے اصحاب سے بغض وحسد تھا اور آج بھی ان منافقین کی اولادیں اپنے آباواجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امت میں نئے نئے فتنوں کو جنم دیتےرہے ہیں ۔انکی پوری کوشش ہوتی ہے کہ مسلمان حضور علیہ السلام کا تذکرہ بند کر دیں انکے اصحاب اور انکی اولاد کا نام نہ لیں لیکن جن کے ذکر کو خود اللہ رب العزت نے اونچا کیا جن کا چرچا خود رب کائنات کرے انکا اور انکی اولاد واصحاب کا ذکر بھلا کیونکر بند ہو سکتا ہے ۔ کونڈہ کیا ہے اور اسکی شرعی حیثیت کیا ہے ؟  اس پر کسی جاہل نام نہاد مفتی نے ایک واقعہ لکڑہارے کا لکھا اور اس کو بے بنیاد بتایا جبکہ اس سے سوال کیا گیا تھا کونڈے کی شرعی حیثیت اس وقعہ کی داستان کے بارے میں نہیں پ

Hussamul Harmain Par Bahes Kio????

Image
  حسام الحرمین پر بحث کیوں؟       ہم نے اپنی ایک پوسٹ”حسام الحرمین کا پس منظر“ ابھی کچھ دنوں قبل ہی شئر کی ہے جس میں ہم نے واضح طور پر یہ ثابت کر دیا تھا کہ منافقین نجدیہ کی تحریک کس طرح ہندوستان میں پھیلنا شروع ہوئی اور علمائے اہل سنت نے اس پر اپنے کیا کیا کردار ادا کئے،ایک بار سرسری طور پر ہم اس کو دہرا دیتے ہیں:      1831ء؁ میں تقویۃ الایمان شائع ہوئی جس میں وہابیت کی بو کو علمائے اہل سنت نے محسوس کیا یا یوں کہئے وہابی مذہب کی بنیاد ڈالنے کی پہلی کوشش اسی کتاب کے ذریعے ہندوستان میں پڑی۔اس وقت نہ دیوبندی تھے نہ بریلوی امام اہل سنت کی ولادت بھی نہ ہوئی تھی۔تب اس کتاب کاعلمائے اہل سنت نے خود رد فر مایا اور اس پر بڑی بحث جامع مسجد میں چھڑی،پھر 1871ء؁ میں تحذیر الناس لکھی گئی جس پر علمائے اہل سنت قادیانیوں کے مذہب کو تقویت پہنچانے والی اس عبارت کا خوب رد فر مایا۔یہاں تک مولوی اشرف علی تھانوی نے خود اس کا اقرار کیا ہے کہ جب قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس لکھی پورے ملک میں کسی نے بھی ان سے موافقت نہ کی،سوائے مولوی عبدالحی کے پھر اسکے بعد جب براہین قاطعہ لکھی گئی جسے مولوی خلیل احمد انبیٹھوی ن