یہ درد کس کے لئے ہے؟ پچھلے ڈیڑھ برس سے غزہ میں اسرائیلی ظلم وستم نے حد یں پار کررکھی ہیں ایسے وقت میں دنیا کے کونے کونے سےمسلمانوں نے اسرائیلی ظلم وستم کے خلاف آوازیں بلند کیں ۔سوائے منافقین کے جو خود کو مسلمان بتاتے ہیں لیکن ہر لمحہ انکے دلوں میں اسرائیل اور یہودیوں کیلئے ہمدردی کا بلبلہ پھوٹتا نظر آتا ہے یوں تووہابیت زدہ عرب ممالک کے حکمرانوں کا حال کسی سے چھپا نہیں جہاں ایک طرف یمن اپنے سمندری راستے اسرائیل لے جانے والےامریکی ہتھیاروں سے لیس جہازوں کیلئے بند کر دیئے ہیں وہیں سعودی یہودیوں نے انکے لئے الگ سے راستے مہیا کئے ہیں تاکہ فلسطینیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنے والے ان یہودیوں کو کوئی تکلیف نہ ہو ۔اسطرح ان وہابی یہودیوں نے کھلے عام اپنے یہودی آقاؤ ں کا ہی ساتھ دیا ۔ایسے حالات میں مسلمانوں کیلئے صرف ایک راستہ دعا ہی کا بچتا ہے جو کہ دنیا کے کونے کونے سے مسلمان اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کیلئے کررہے ہیں۔ یہ دعاؤ کا اثر ہی ہے کہ جو اسرائیل اپنی طاقت کے گھمنڈ میں یہ دعویٰ کر بیٹھا تھا کہ ہم سات دنوں میںغزہ سے مزاحمت کا صفایہ...
بدعتیوں کے پروپگینڈے سلسلہ نمبر 4 سعد حنفی یہ بات ہر علم والا جانتا ہے کہ اہل سنت وجماعت وہی جماعت ہے جو نجات پانے والی ہے اور بقیہ ناری فرقے بھی اس بات کو مانتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ بھی خود اہل سنت ہی کہتے ہیں جبکہ یہ کسی بھی طرح اہل سنت سے نہیں اسلئے کہ آج چودہ سو سال بعد اگر اہل سنت وجماعت کی حقیقی پہچان اور حقیقی نام وایمان کے ساتھ اگر کوئی جماعت موجود ہے تو وہ ہے بریلوی جماعت حالانکہ علمائے اہل سنت نے تو خود کو کبھی بھی بریلوی نام نہیں دیا جبکہ منافقین اس جماعت کو اسی نام سے پکارتے ہیں۔ہاں علمائے اہل سنت نے خود کوان ناری فتنوں سے الگ بتانے کیلئے مسلک اعلیٰ حضرت کا نام دیا ہے۔تاکہ حقیقی اہل سنت وجماعت پر وہ مہر لگ جائے کہ باطل فرقے اس نام سے ہی بھاگ کھڑے ہوں اورمسلک اعلیٰ حضرت وہ مہر ہے جسے منافقین کبھی بھی چرا نہیں سکتے۔یہ خود کو محمدی بتا سکتے ہیں۔سنی بتا سکتے ہیں سلفی بتا سکتے ہیں قادری بتا سکتے ہیں۔چشتی۔سہروردی۔حنفی۔مالکی۔شافعی۔حنبلی۔سب بتا سکتے ہیں سبھی کے ٹائیٹل چوری کر سکتے ہیں لیکن مسلک اعلیٰ حضرت وہ مہر ہے جسے یہ نہیں چرا سکتے۔یہی وجہ ہے کہ ان باطل فرقوں نے امام...
حسام الحرمین پر بحث کیوں؟ ہم نے اپنی ایک پوسٹ”حسام الحرمین کا پس منظر“ ابھی کچھ دنوں قبل ہی شئر کی ہے جس میں ہم نے واضح طور پر یہ ثابت کر دیا تھا کہ منافقین نجدیہ کی تحریک کس طرح ہندوستان میں پھیلنا شروع ہوئی اور علمائے اہل سنت نے اس پر اپنے کیا کیا کردار ادا کئے،ایک بار سرسری طور پر ہم اس کو دہرا دیتے ہیں: 1831ء میں تقویۃ الایمان شائع ہوئی جس میں وہابیت کی بو کو علمائے اہل سنت نے محسوس کیا یا یوں کہئے وہابی مذہب کی بنیاد ڈالنے کی پہلی کوشش اسی کتاب کے ذریعے ہندوستان میں پڑی۔اس وقت نہ دیوبندی تھے نہ بریلوی امام اہل سنت کی ولادت بھی نہ ہوئی تھی۔تب اس کتاب کاعلمائے اہل سنت نے خود رد فر مایا اور اس پر بڑی بحث جامع مسجد میں چھڑی،پھر 1871ء میں تحذیر الناس لکھی گئی جس پر علمائے اہل سنت قادیانیوں کے مذہب کو تقویت پہنچانے والی اس عبارت کا خوب رد فر مایا۔یہاں تک مولوی اشرف علی تھانوی نے خود اس کا اقرار کیا ہے کہ جب قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس لکھی پورے ملک میں کسی نے بھی ان سے موافقت نہ کی،سوائے مولوی عبدالحی کے پھر اسکے بعد جب براہین قاطعہ لکھی ...
Comments