Taqviatul Eiman Ke Musannif Ki Munafeqat

 سلسلہ اصلاح عقائد     سلسلہ نمبر ۱                     

            از: سعد حنفی 

کڑوا ہے مگر سچ ہے اور آپ کو سچ کی طرح ہم بلاتے ہیں خدا کیلئے آج ہی اپنے ایمان کا محاسبہ کریں اور چھوڑیں اس جاہلیت کو اندھ بھکتی کو۔

آج لے انکی پناہ آج مدد مانگ انسے     پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں کسی اسماعیل دہلوی جیسے منافق کو نہیں 

ہم سنی اہل سنت والے ہیں اور ہم اسی پر چلتے ہیں جو آقاکریمﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعلیم ہے۔

”تقویۃ الایمان میں اسماعیل دہلوی منافق لکھتا ہے ”یعنی مشرک پر لے درجہ کے بے وقوف ہیں کہ اللہ تعالیٰ جیسے قدرت وعلم والے کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں جو نہ تو ان کی پکار کو سنتے ہیں اور نہ کسی بات کی ان میں قدرت و سکت ہے اگر یہ قیامت تک بھی پکارتے رہیں تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔معلوم ہوا کہ جو لوگ بزرگوں کو دور سے پکارتے ہیں اور انہیں پکار کرصرف یہی کہتے ہیں کہ یا حضرت آپ دعا فرمادیں کہ حق تعالیٰ ہماری حاجت پوری کر دے یہ بھی شرک ہے گو وہ اس وجہ سے اس کو شرک نہ سمجھتے ہوں کہ حاجت بر آوری کی دعا تو اللہ ہی سے کی گئی،کیونکہ غائب شخص کو پکارنے کی وجہ سے اس میں شرک آیا کہ ان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھا گیا کہ وہ دور سے اور قریب سے سنتے ہیں حالانکہ یہ الٰہی شان ہے اور اس آیت میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں،پکارنے والے کو سنتے ہی نہیں گو وہ قیامت تک چیختا رہے“(تقویۃ الایمان،ص:۴۷)

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم:

”حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ تم میں سے کوئی شخص جب کوئی شئے گم کر بیٹھے اور وہ کسی غیر مانوس جگہ پر ہوتو چاہئے کہ وہ اس طرح کہے۔”اے اللہ کے بندومیری مدد کر وکیونکہ کچھ بندے ہوتے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھ پاتے۔یہ نسخہ میرا آزمودہ ہے(حصن حصین۔طبرانی۔مجمع الذوائد) 

بزرگوں کی تعلیم:

ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ حدیث میں وارد ہونے والے یا عباداللہ کی تشریح کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ”(اے اللہ کے بندو) سے مراد ملائکہ یا مسلمان جن یا رجال الغیب ابدال مراد ہیں یعنی اولیا و کرام۔(الحرزالسمین) 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ”اشعۃ اللمعات باب زیارت القبور“میں فرماتے ہیں ”امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جس سے اس کی زندگی میں مدد لینا جائز ہے اس سے بعد وفات بھی مدد طلب کرنا جائز ہے مشائخ عظام میں سے ایک نے فرمایا ہے کہ میں نے چار مشائخ کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی قبور میں اس طرح تصرف کرتے ہیں جس طرح اپنی زندگی میں تصرف کرتے تھے یا اس سے بھی بڑھ کر ایک قوم کہتی ہے کہ زندہ کی امداد قوی تر ہے میں کہتا ہوں کہ میت کی امداد قوی تر ہے شیخ نے فرمایا ہاں کیونکہ وفات یا فتہ بزرگ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے سامنے ہے۔

اہل علم انصاف کریں اور اگر برادران اسلام کا ضمیر مرا نہیں تو جواب دیں کہ ایک طرف 1856ء کا مولوی ہے اسماعیل دہلوی جس نے تقویۃ الایمان نامی کتاب لکھی اور امت میں فتنہ پیدا کیا اور ایک طرف نبی کریم ﷺ کی تعلیم جن کے صدقے ہمیں اشرف المخلوقات کا درجہ ملا۔اور آپ ﷺ کی حدیث پر ہم نے اسماعیل منافق کی طرح اپنا ذاتی اور من گڑھت نظریہ نہیں بیان کیا بلکہ بزرگان دین سے اس کو ثابت کیا اب بتائیں اگر اسماعیل منافق کو حق مانتے ہیں تو کیا بزرگان دین مشرک نہیں ٹھہرے یہاں تک اس کے من گڑھت اصولوں سے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی معاذ اللہ مشرک ٹھہرے کیونکہ اس نے اصول بیان کیا کہ کسی غائب کو پکانے سے شرک لازم آیا تو حضورعلیہ السلام نے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دی۔

فیصلہ کریں آحادیث کی روشنی میں منافق کون ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

تحریک اصلاح عقائد 

باطل فرقوں کا مکمل رد 

آئیے ہم اپنے عقائد کی اصلاح کریں 

جڑ جائیں ہم سے اور ہماری اس غیر سیاسی تحریک سے چھوڑ دیجئے اندھی تقلید 

https://www.facebook.com/islaheaqaid786

Comments

Popular posts from this blog

یہ د رد کس کے لئے ہے؟

Bidatiyon Ke Propagende Part 4

Hussamul Harmain Par Bahes Kio????