YAUM E TAHAFFUZE NAMUSE RISALAT
یوم تحفظ ناموس رسالت
ناموس رسالت کے اس سپہ سالار کو سلام جسے پوری سنی دنیا میں
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے نام سے جانتی ہے
یہ وہ دن ہے جب قدرت نے اپنے اس خاص بندے کو اس جہاں میں بھیجا جس نے تحفظ ناموس رسالت کیلئے گستاخان رسول ﷺ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور انکے باطل وگمراہ کن عقائد کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی،جس پر آج گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ڈرے اور سہمے ہو ئے نظر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ منافقین کی وہ جماعت جس نے ”تقویۃ الایمان“کے ذریعے توحید کا نام لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کو گھٹانے کی ناپاک کوششیں کیں۔جس کے پیش نظر علماء اہل سنت نے اپنے وجود کا اظہار کرتے ہوئے اسکا بھر پور رد فرمایا اور جب اسی فتنے سے ایک اور فتنہ بنام دیوبند پیدا ہوا اور میرے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں طرح طرح کی گستاخانہ عبارتیں تحریر کرتے ہو ئے اس فتنہ کے منافق مولویوں نے کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کوجانوروں اور پاگلوں سا بتایا کہیں ان نامرادشیطان کے بندوں نے ابلیس لعین کے علم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے زیادہ بتایا،کسی نے آقا کریم ﷺ کی تعظیم پر قید لگاتے ہو ئے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی کی تعظیم صرف بڑے بھائی کی طرح کی جائے یا گاؤں کے مکھیاکی طرح کی جائے یا اس بھی کم کی جائے مطلب انکے نزدیک گاؤں کے چودھری، مکھیاکی تعظیم سے بھی کم نبی کریم ﷺ کی تعظیم مانی جاتی تھی اور یہ اسی کی تعلیم دیتے تھے۔انکے ایک منافق مولوی نے یہاں تک لکھ دیا کہ نماز میں نبی کریم ﷺ کا خیال لانا بیل،گدھے کے خیال لانے سے بھی برا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی مزاراقدس کو بت کہا جانے لگا اور آپکی تعظیم کو شرک قرار دیا جانے لگا۔کوئی نبوت کا دعویٰ کئے بیٹھا تھا تو کوئی نبوت کا چور دروازہ اپنے خاص مریدین کیلئے کھو ل رکھا اور اس فتنہ دیوبند کے مولوی رشید احمد گنگوہی جنھیں اپنا مرید بنانے کی خواہش رکھا کرتے تھے اس کو اس منصب سے فائدہ بھی پہنچایا گیا۔
ایسے حال میں بریلی سے امام اہل سنت مجدددین ملت نے ان فتنہ پرور مولویوں کو آگاہ کیا کہ جو کارنامے آپکے ہیں وہ بالکل بھی درست نہیں اور اگر کوئی صفائی یا تاویل ہو تو پیش کریں لیکن چونکہ اس دجالی فتنہ پرور مولویوں کو امت محمدیہ میں فتنہ کا بیج بونا تھا اس لئے ان لوگوں نے اس پرچپی سادھی اور امام اہل سنت کے کسی بھی مکتوب کا جواب نہ دیا بارہا آگاہی اور اخبارات میں اشتہارات کے باوجود جب ان شیطان کے پجاریوں نے چپی نہ توڑی اور کوئی بھی صفائی اور نہ کوئی رجوع یا توبہ نامہ پیش کیا تو امام اہل سنت نے علمائے ہند سمیت علماء اہل سنت حرمین طیبین سے فتاویٰ طلب کئے اور سبھی نے اس ناپاک مذہب وہابیہ کی کھلے عام تکفیر کی اور خاص طور سے علماء حرمین کے فتاویٰ کو امام اہل سنت نے بنام حسام الحرمین شائع کروائے جس کی اشاعت کے بعد بھی اس فتنہ وہابیہ کے بے غیرت وبے ایمان مولویوں نے نہ تو بہ کی نہ رجوع کیا اور نہ ہی اس پر کوئی زبان کھولی۔
حسا م الحرمین کی اشاعت کے بعد ان مولویوں کی وہ حالت ہوگئی کہ جہاں بھی جاتے چپل کھاتے کوئی انہیں پوچھنے والانہ تھا۔اسی لئے ان خارجیوں نے خود کو سنی حنفی کہنا شروع کر دیا اور اپنے ہی امام (نجدی شیخ) کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا تاکہ عوام اہل سنت کو یہ یقین ہو جائے کہ ہم وہابی نہیں سنی حنفی ہیں۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا یہ عظیم کا رنامہ تھا کہ انہیں پوری سنی دنیا میں چودھویں صدی کے مجدد کے طور پر مانا جانے لگا چونکہ دین میں پیدا ہونے والے اس ناپاک فتنہ وہابیہ کا نہ صرف رد فرمایا بلکہ ان دین میں اٹھنے والی طرح طرح بدعات و خرافات سے اس دین محمدی (ﷺ) کو پاک کیا اور عقائد ومعمولات اہل سنت کو اسطرح روشن کر دیا کہ پوری نجدیت وہابیت اپنے باطل عقائد ونظریات کی حدودکو وسعت نہ دے سکی۔
چودھویں صدی میں تحفظ ناموس رسالت کی جو شمع امام عشق محبت نے جلائی اسی کی روشنی آج بھی علمائے اہل سنت کے دلوں کو منور کئے ہوئے اور یہ تحفظ ناموس رسالت کے وہ سپاہی ہیں جن کے سامنے آج بھی نجد کی یہ نجاست جسے دیوبندی،اور انکے پیدا کئے ہوئے جھوٹے نبی غلام احمد قادیانی اور اس جیسے دیگر دیوبندی مبلغین جو وقتا فواقتاً اپنی جعلی نبوت کا اعلان کرتے ہیں سب کے سب بے بس نظر آتے ہیں۔
تحفظ ناموس رسالت کا یہ سپہ سالار اپنی ساری زندگی عشق رسول میں کاٹ دی اور آپ کی شخصیت کا یہ رعب ودبدبہ تھا کہ کسی بھی گستاخ رسول کی ہمت نہ ہوئی کہ دوبارہ سے رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کامرتکب ہو۔
امام اہل سنت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا محبت رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا کلام ”حدائق بخشش“ آج بھی عوام اہل سنت کو زندگی بخشتا ہے۔جس کے ہر کلام کا یہ حال ہے کہ جو سنتا ہے جو پڑھتا ہے وہ نبی کریم ﷺ کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
اے امام اہل سنت امام احمد رضا آپ کے اس کارنامے کو سلام،آپ کی شخصیت کو سلام کے جس پر وقت کا ایک زندہ ولی فرماتا ہے اے احمد رضا آپ اعلیٰ حضرت ہو۔
اے امام قوم ملت کے نگہباں زندہ باد
زندہ باد اے صوفیئ احمد رضا خاں زندہ باد
ناموس رسالت کے اس سپہ سالار کو سلام جسے پوری سنی دنیا میں
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے نام سے جانتی ہے
یہ وہ دن ہے جب قدرت نے اپنے اس خاص بندے کو اس جہاں میں بھیجا جس نے تحفظ ناموس رسالت کیلئے گستاخان رسول ﷺ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور انکے باطل وگمراہ کن عقائد کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی،جس پر آج گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ڈرے اور سہمے ہو ئے نظر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ منافقین کی وہ جماعت جس نے ”تقویۃ الایمان“کے ذریعے توحید کا نام لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کو گھٹانے کی ناپاک کوششیں کیں۔جس کے پیش نظر علماء اہل سنت نے اپنے وجود کا اظہار کرتے ہوئے اسکا بھر پور رد فرمایا اور جب اسی فتنے سے ایک اور فتنہ بنام دیوبند پیدا ہوا اور میرے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں طرح طرح کی گستاخانہ عبارتیں تحریر کرتے ہو ئے اس فتنہ کے منافق مولویوں نے کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کوجانوروں اور پاگلوں سا بتایا کہیں ان نامرادشیطان کے بندوں نے ابلیس لعین کے علم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے زیادہ بتایا،کسی نے آقا کریم ﷺ کی تعظیم پر قید لگاتے ہو ئے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی کی تعظیم صرف بڑے بھائی کی طرح کی جائے یا گاؤں کے مکھیاکی طرح کی جائے یا اس بھی کم کی جائے مطلب انکے نزدیک گاؤں کے چودھری، مکھیاکی تعظیم سے بھی کم نبی کریم ﷺ کی تعظیم مانی جاتی تھی اور یہ اسی کی تعلیم دیتے تھے۔انکے ایک منافق مولوی نے یہاں تک لکھ دیا کہ نماز میں نبی کریم ﷺ کا خیال لانا بیل،گدھے کے خیال لانے سے بھی برا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی مزاراقدس کو بت کہا جانے لگا اور آپکی تعظیم کو شرک قرار دیا جانے لگا۔کوئی نبوت کا دعویٰ کئے بیٹھا تھا تو کوئی نبوت کا چور دروازہ اپنے خاص مریدین کیلئے کھو ل رکھا اور اس فتنہ دیوبند کے مولوی رشید احمد گنگوہی جنھیں اپنا مرید بنانے کی خواہش رکھا کرتے تھے اس کو اس منصب سے فائدہ بھی پہنچایا گیا۔
ایسے حال میں بریلی سے امام اہل سنت مجدددین ملت نے ان فتنہ پرور مولویوں کو آگاہ کیا کہ جو کارنامے آپکے ہیں وہ بالکل بھی درست نہیں اور اگر کوئی صفائی یا تاویل ہو تو پیش کریں لیکن چونکہ اس دجالی فتنہ پرور مولویوں کو امت محمدیہ میں فتنہ کا بیج بونا تھا اس لئے ان لوگوں نے اس پرچپی سادھی اور امام اہل سنت کے کسی بھی مکتوب کا جواب نہ دیا بارہا آگاہی اور اخبارات میں اشتہارات کے باوجود جب ان شیطان کے پجاریوں نے چپی نہ توڑی اور کوئی بھی صفائی اور نہ کوئی رجوع یا توبہ نامہ پیش کیا تو امام اہل سنت نے علمائے ہند سمیت علماء اہل سنت حرمین طیبین سے فتاویٰ طلب کئے اور سبھی نے اس ناپاک مذہب وہابیہ کی کھلے عام تکفیر کی اور خاص طور سے علماء حرمین کے فتاویٰ کو امام اہل سنت نے بنام حسام الحرمین شائع کروائے جس کی اشاعت کے بعد بھی اس فتنہ وہابیہ کے بے غیرت وبے ایمان مولویوں نے نہ تو بہ کی نہ رجوع کیا اور نہ ہی اس پر کوئی زبان کھولی۔
حسا م الحرمین کی اشاعت کے بعد ان مولویوں کی وہ حالت ہوگئی کہ جہاں بھی جاتے چپل کھاتے کوئی انہیں پوچھنے والانہ تھا۔اسی لئے ان خارجیوں نے خود کو سنی حنفی کہنا شروع کر دیا اور اپنے ہی امام (نجدی شیخ) کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا تاکہ عوام اہل سنت کو یہ یقین ہو جائے کہ ہم وہابی نہیں سنی حنفی ہیں۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا یہ عظیم کا رنامہ تھا کہ انہیں پوری سنی دنیا میں چودھویں صدی کے مجدد کے طور پر مانا جانے لگا چونکہ دین میں پیدا ہونے والے اس ناپاک فتنہ وہابیہ کا نہ صرف رد فرمایا بلکہ ان دین میں اٹھنے والی طرح طرح بدعات و خرافات سے اس دین محمدی (ﷺ) کو پاک کیا اور عقائد ومعمولات اہل سنت کو اسطرح روشن کر دیا کہ پوری نجدیت وہابیت اپنے باطل عقائد ونظریات کی حدودکو وسعت نہ دے سکی۔
چودھویں صدی میں تحفظ ناموس رسالت کی جو شمع امام عشق محبت نے جلائی اسی کی روشنی آج بھی علمائے اہل سنت کے دلوں کو منور کئے ہوئے اور یہ تحفظ ناموس رسالت کے وہ سپاہی ہیں جن کے سامنے آج بھی نجد کی یہ نجاست جسے دیوبندی،اور انکے پیدا کئے ہوئے جھوٹے نبی غلام احمد قادیانی اور اس جیسے دیگر دیوبندی مبلغین جو وقتا فواقتاً اپنی جعلی نبوت کا اعلان کرتے ہیں سب کے سب بے بس نظر آتے ہیں۔
تحفظ ناموس رسالت کا یہ سپہ سالار اپنی ساری زندگی عشق رسول میں کاٹ دی اور آپ کی شخصیت کا یہ رعب ودبدبہ تھا کہ کسی بھی گستاخ رسول کی ہمت نہ ہوئی کہ دوبارہ سے رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کامرتکب ہو۔
امام اہل سنت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا محبت رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا کلام ”حدائق بخشش“ آج بھی عوام اہل سنت کو زندگی بخشتا ہے۔جس کے ہر کلام کا یہ حال ہے کہ جو سنتا ہے جو پڑھتا ہے وہ نبی کریم ﷺ کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
اے امام اہل سنت امام احمد رضا آپ کے اس کارنامے کو سلام،آپ کی شخصیت کو سلام کے جس پر وقت کا ایک زندہ ولی فرماتا ہے اے احمد رضا آپ اعلیٰ حضرت ہو۔
اے امام قوم ملت کے نگہباں زندہ باد
زندہ باد اے صوفیئ احمد رضا خاں زندہ باد
Comments