Qabron par phool Chadhana Bidaat Ya Sunnat

منافق کتنی جہالت دکھا ئے گا

           دیوبند سے پہلے کا بھی کچھ پڑھ لوکیا دیوبند کے وجود سے پہلے کے سبھی بزرگان دین بدعتی تھے؟

         از: سعد حنفی 

     السلام علیکم 

      عزیز دوستوں ابھی ہم نے  واٹس اپ پر ایک دیوبندی کی پوسٹ دیکھی جس میں قبر پر پھول ڈالنے کے بارے میں ایک حدیث پاک کے حکم کو محدود اور خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا دراصل حدیث پا ک یوں ہے 
     ”ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا،ان دونوں قبر والوں پر عذاب ہو رہا ہے۔ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا۔پھر آپ نے کھجور کی سبز شاخ چیر کر دونوں قبروں پر گاڑ دی اور فرمایا،جب تک یہ تر رہیں گی ان کے عذاب میں کمی رہے گی۔
(بخاری جلد اول کتاب الجنائز) 
    اب کچھ لوگ عہد رسالت کے منافقین کے نقش قدم چلتے ہو ئے دین میں بگاڑ پیدا کر نا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے نظریات کو بے وجہ بدعت ثابت کرنے پر تلے ہو ئے رہتے ہیں۔اس حدیث کے بارے میں ان منافقین دیوبند نے اپنا ذاتی نظریہ گڑھتے ہو ئے یہ بات کہنا شروع کر دی ہے کہ یہ عمل حضور علیہ السلام کیلئے خاص تھا اور صرف اس وقت کیلئے خاص تھا اب اس عمل کی ممانعت ہو گئی اب اسے تر ک کر دینا چاہئے۔
تو اب ہم مسلمانوں سے عرض کرتے چلیں کہ یہ کب سے منع ہو گیا۔اور کیوں یہ منافق اسے ترک کرنے کی بات کررہے ہیں۔
  شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ یہ ہمارے سنی اکابرین میں سے ہیں اور اگر دیوبندی نظر یہ سے دیکھا جائے تو جن معمولات کی بناء پر یہ ہمیں بریلوی کہتے ہیں تو یہ ہمارے خاص اکابرین میں سے ہیں مطلب بریلوی اکابر ہیں اور یہ وہ شخصیت ہیں کہ جن کے بارے میں دیوبند کا کوئی منافق منہ نہیں کھو ل سکتا کہ یہ بدعتی ہیں۔اب ملاحظہ فرمائیے اس حدیث کے مطابق آپ کیا فرماتے ہیں: اس حدیث سے ایک جماعت نے قبروں پر سبزہ،پھول اور خوشبو ڈالنے کے جواز پر دلیل قائم کی ہے۔(اشعۃ اللمات) مطلب جس زمانے میں دیوبند کا وجود بھی نہ تھا اس وقت بھی سنی جماعت اس حدیث کو اپنے مزارات پر پھول ڈالنے کے جواز میں پیش کرتی تھی۔دیوبند کے وجود سے پہلے کے ایک معتبر بزرگ  محدث ہیں جنکا نام ملا   علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ہے آپ فرماتے ہیں:قبروں پر تر پھول ڈالنا سنت ہے (مرقاۃ) طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے ہمارے بعض متاخرین اصحاب نے اس کی رو سے فتویٰ دیا کہ خوشبو اور پھول قبروں پر ڈالنا سنت ہے۔
دیوبند کے وجود سے پہلے مسلک احناف کے ایک معتبر بزرگ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
  عذاب قبر میں کمی کی وجہ ان کا خشک نہ ہونا ہے یعنی انکی تشبیح کی بر کت سے عذاب میں کمی ہو ئی کیونکہ تر شاخ میں ایک طرح کی زندگی ہے اسلئے تر شاخ کی تسبیح خشک شاخ کی تسبیح سے زیادہ کامل ہے
(شامی جلد اول باب زیارۃ القبور) 
اب دیوبندی حضرات جواب دیں اگر حضور علیہ السلام کا یہ عمل صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ہی خاص تھا تو محدثین نے ایسا حکم کیوں فرمایا کیا حدیث کا علم دیوبند والوں نے محدثین زیادہ سیکھ لیا ہے۔اب اکابرین اہل سنت اور دیوبندیوں نے جن نظریات کی بناء پر ہمیں بدعتی کہا تو سن لو بریلویوں کے ایک اکابر اور ہیں جو دیوبند کے وجود سے قبل عہد رسالت میں موجود تھے  صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے وصیت فرمائی تھی کہ وصال کے بعد ان کی قبروں پر دوشاخین گاڑدی جائیں (صحیح بخاری جلد اول کتاب الجنائز) اب دیوبندیوں جواب دو کیا رسول خدا کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے بھی یہی نظر یہ رکھتے تھے کہ یہ عمل خاص اسی وقت کیلئے ہے اور بعد میں ترک کیا جانا چاہئے نہیں بلکہ وہ اس عمل پر یک بعد دیگر نسل در نسل عمل کرتے چلے آئے اور الحمدللہ اہل سنت بریلوی بھی اسی پر قائم ہیں جبکہ اس عمل کو تر ک کرنے کا حکم دینے والے اور جاہلانہ من گڑھت اصول ونظریات گڑھنے دین میں فساد بر پا کرنے والے بعد میں پیدا ہو ئے ہیں۔جبکہ دیوبند کے وجود سے پہلے بزرگان دین نے اسے سنت تک قرار دیا جسے یہ جاہل آج بدعت کہتے ہیں۔


تحریک اصلاح عقائد (باطل فرقوں کا مکمل رد)
ہمارے فیس بک پیج کو لائیک کریں اور ہماری پوسٹ کو خوب شئر کریں


Comments

Popular posts from this blog

یہ د رد کس کے لئے ہے؟

Bidatiyon Ke Propagende Part 4

Hussamul Harmain Par Bahes Kio????