ILME GAIB E RASOOL AUR DEOBANDI MUNAFEQAT
علم غیب رسول اور بد مذہبوں کی منافقت
سلسلہ نمبر 3
قرآن پاک میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
وَ اُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَۙ فِىۡ بُيُوۡتِكُمۡ
(پارہ ۳ آیت ۹۴ سور عمران)
ترجمہ: اور تمہیں بتاتاہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔
اس آیت کریمہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا علم غیب ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام ہر شخص کے کھانے اور جو کچھ لوگ گھروں میں جمع کرتے ہیں ان پر بھی آگاہ ہو تے“۔
اب کیا یہاں یہ کہا جائے کہ اگر انبیاء کو بعض علوم غیبیہ حاصل ہیں تو اس میں انکی کیا تخصیص ایسا علم غیب تو جانوروں پاگلوں کوبھی حاصل ہے۔کیا یہ جملہ انبیاء کی تو ہین نہیں ہو تی تو غور کیجئے کہ جس دیوبندی مولوی اشرفعلی تھانوی نے حضور پر نور امام الانبیاء کی شان میں ایسا لکھا وہ گستاخ رسول کیوں نہیں ہے کیا اس سے بڑی اندھی تقلید کہیں اور ملے گی،کیا اس بڑی شخصیت پرستی کہیں اور ملے گی؟
اب ملاحظہ کیجئے دیوبندیوں نے جب مولوی تھانوی کی شان بڑھانا چاہی تو بانی پاکستان محمدعلی جناں صاحب کے حوالے سے یہ بات اڑائی کہ انھوں نے کہا کہ میرے نزدیک پورے ہندوستان کے علماء ایک طرف اور مولوی اشرفعلی تھانوی کا علم ایک طرف۔مطلب پورے ملک کے علماء سے بڑا عالم دیوبندیوں نے مولوی اشرفعلی تھانوی کو ثابت کرنا چاہا اگر سنی اپنے آقا علیہ السلام کیلئے کہیں کہ جتنا علم غیب حضور علیہ السلام کو اللہ نے عطا کیا اتنا کسی بھی مخلوق کو نہیں ملا تو یہ منافق کہتے ہیں کہ دیکھوں سنیوں نے حضور علیہ السلام کے علم کو اللہ کے برابربتا دیا۔مطلب یہ جاہل اللہ کا علم ذاتی جو مخلوق سے تشبہیہ بھی نہیں دیا جاسکتا اس علم کے بار ے میں عاشقان رسول سے کہتے ہیں کہ تم نے رسول اللہ کا علم اللہ کے برابر بتا دیا۔کیا دیوبندیوں نے اللہ رب العزت کے علم غیب کو تولہ ہے جو سیدھا مخلوق کے علم سے موازنہ کرنے لگے،ہم اہل سنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب مخلوق کی مناسبت سے سب سے زیادہ مانتے ہیں جبکہ اللہ رب العزت خالق ہے اور اور خالق کی کسی بھی صفت کا موازنہ مخلوق سے نہیں کیا جا سکتا ہاں اللہ رب العزت ہی اپنی مرضی سے اپنے انبیاء کو یہ علم عطا کرتا ہے۔
دیوبند کے جو منافقین اہل سنت پر یہ الزام تراشی کرتے ہیں کہ بریلوی سنی حضرات رسول اللہ کا علم غیب اللہ کے برابر مانتے ہیں تو وہ اپنے حلالی ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے اس الزام کو ثابت کر کے دکھائیں۔
اب دیوبندیوں نے ثابت کرنا چاہا کہ فتنہ پرور انکا مولوی اشرفعلی تھانوی کا علم پورے ملک ہندوستان کے علماء سے زیادہ ہے۔تو کیا اب یہاں تھانوی کو کل علم کا عالم مانا جائے گا یا بعض علم کا اگر بعض علم اسے پورے ہندوستان کے علماء سے بڑا عالم بنا سکتا ہے تو میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اور جو کچھ آپ غیب خبریں اللہ کی عطا سے جانتے تھے وہ ساری مخلوق سے زیادہ غیب جاننے والے کیوں نہ ہوئے کیوں انکے بعض علوم غیبیہ کو جانوروں اور پاگلوں سے تشبیہ دی گئی کیا دیوبندیوں کے یہاں نبی کو بعض علوم غیبیہ اتنے ہی معلوم ہوتے ہیں جتنے جانوروں اور پاگلوں کو۔جب نبی کے معنی غیب کی خبریں دینے والے کے ہیں اور مطلقاً علم غیب انبیاء کا انکار کفر ہے تو دیوبندیوں جب انبیاء کے بعض علوم غیبیہ اتنے ہی ہو تے ہیں جتنے جانوروں اور پاگلوں کے تو انہیں چاہئے کہ وہ کسی پاگل،یا کسی جانور یا بچہ کو ہی اپنا نبی مان لیں۔کیوں کہ کہ مسلمانوں کے یہاں تو انبیاء کو جو بھی علم غیب اللہ رب العزت کی طرف سے عطا ہو تا وہ عام مخلوق سے زیادہ ہو تا ہے اور جب امام الانبیاء کی بات ہو تو کیونکر آپ علیہ السلام کا علم کسی سے کم ہو تا۔
اگر مولوی تھانوی کو کل علم عطا نہیں ہیں اور یہ بعض علم ہی رکھتا ہے تواس میں اس مولوی کی کیا خصوصیات ایسا علم تو ہر جاہل کے پاس بھی ہو تا۔راہ چلتے ہو ئے آوارہ لوگوں کے پاس بھی ہو تا تو اس ملعون کے بارے میں یہ کیسی ہوا چلا ئی گئی کہ ہندوستان کے علماء ایک طرف اور تھانوی ایک طرف۔کیونکہ بعض علوم کی بناء پر کسی عالم کے بارے میں بقول تھانوی یہ کیوں کہا جائے۔جیسا کہ اس مولوی نے کہا تھا کہ حضور علیہ السلام کیلئے اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تخصیص ایسا علم غیب تو ہر پاگل،جانوروں اور بچوں کو بھی حاصل ہو تا ہے،جبکہ اگر یہ مولوی اپنے سینے میں ذرہ برابر بھی علم رکھتا تو یہی کہتا کہ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو ایسا علم کسی بھی مخلوق کو حاصل نہیں۔لیکن تھانوی کے نزدیک بعض علم حضور علیہ السلام کے اتنا ہی ہے جتنا جانوروں اور پاگلوں کے،تو ظاہر سی بات ہے جب بعض علوم اتنے ہی ہیں تو تھانوی صاحب کے بارے میں کیا کوئی دیوبندی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ تھانوی کو کل علم عطا ہو گیا تھا اگر دعویٰ کرتا ہے تب بھی وہ کافر ہے کیونکہ کل علوم تو رب تعالیٰ کے پاس ہے اللہ اس علم کو اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور اگر دیوبندیوں کے یہاں عطا ئی علم بعض ہو تا اور صرف اتنا ہو تا ہے جتنا پاگلوں اور جانوروں کو تو کیوں تھانوی کو اپنا اکابر چن لیا کسی کتے بلی کو ہی اپنا اکابر مان لیتے۔
ان دیوکے بندوں کے یہاں جب اپنے مولوی کی بات آئی تو اسکا بعض علم پورے ملک کے علماء کے مقابلے میں رکھ دیا اور جب بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض علوم غیبیہ کی آئی تو پاگلوں اور جانوروں سے مقابلہ کر دیا۔
نبی کریم کا علم غیب تو ماننا پڑے گا چاہے جتنا بھی مانوں کیوں کہ اگر حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے ہو تو علم غیب رسول علیہ السلام کو ماننا ہی پڑے گا اور اگر تمہارے نزدیک بعض علوم مصطفےٰ اتنا ہی ہے جتنا جانوروں پاگلوں،کو ہے تو جاؤ کسی جانور کوہی اپنا نبی مان لو یا کسی پاگل کو اپنا نبی مان لو کیوں کہ ایمان والوں کا نبی اتنا علم غیب جانتا ہے کہ مخلوق میں کوئی اس کی برابری نہیں کر سکتا۔یہی وجہ ہے کہ جبرئیل آیت لوح قرآنی لاتے تو جبرئیل بھی نہ سمجھتے لیکن میرے آقا اللہ کا پیغام زمین پر رہ کر سمجھ لیتے۔ اگلی قسط میں علم غیب رسول بزرگان دین کی کتب سے ملاحظہ کیجئے جڑے رہیے ہمارے بلاگ،سے اور ہمارے فیس بک پیج سے اور زیادہ سے زیادہ اسے شئرکریں تاکہ دیوبندیوں کی نانی مر جائے۔اور اپنے اکابرین کی طرح یہ بھی اپنی نانی کے پاخانہ کو چاٹتے پھریں۔
علم غیب رسول اور بد مذہبوں کی منافقت
سلسلہ نمبر 3
علم غیب اور بد مذہبوں کی منافقت
اللہ کا اتنا کرم وفضل ہے کہ جب بھی علم غیب کا نام آتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آہی جاتا ہے،کیونکہ اللہ نے آپ علیہ السلام کو اپنا پیغمبر بنایا اپنا رسول بنایا اپنا نبی بنایا۔جب تک کوئی شخص کلمہ طیبہ پڑھ نہ لے وہ مسلمان ہو نہیں سکتا اور کلمہ بھی وہ جس میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت کا رسول یقین کیا جائے اور اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے۔لیکن کچھ لوگ کلمہ تو پڑھ لیتے ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت کا انکار کرتے ہیں مطلب آپکے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ کو غیب کی کوئی خبر نہیں تھی،دراصل یہ کہنے والے شیطان کے پجاری ہوتے ہیں جو زبرستی میں حضور علیہ السلام کی عظمت کو گھٹانے میں لگے ہو تے ہیں۔
علم غیب رسول کا منکر ررسول اللہ کی نبوت کا منکر ہے:؛ یہ ہم نہیں کہتے بلکہ اکابرین اہل سنت کہتے ہیں اور وہ اکابرین اہل سنت جنھیں ماننے کا ڈھونگ یہ دیوبندی منافق بھی کرتے ہیں اور انکے ناجائز باپ کے اصل بچے وہابی بھی کرتے ہیں۔
نبی کا معنی:۔ نبوت اطلاع علی الغیب کا عین ہے یا لازم۔نبی مشبہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہمیشہ غیب کی خبر دینے والے کے ہو تے ہیں،نیز اللہ تعالیٰ کی رضا اور عدم رضا فی الامور جو اعلیٰ درجہ کا غیب ہے کا کامخبر ہو تا ہے تو نبی کا معنی ہمیشہ مطلع علی علم الغیب ہوا ملاحظہ فرمائیے،مواہب اللدنیہ صفحہ ۵۴،۶۴۔جلد دوم از امام قسطلانی شارح بخاری،شفا شریف صفحہ ۲۰۱ از امام المحدثین قاضی عیاض اور شرح مواھب از امام زرقانی،شرح شفا از علامہ علی قاری حنفی ونسیم الزیاض شرح شفا از امام خفاجی۔
جب اطلاع علی علم الغیب نبوت کا عین یا لازم ثابت ہوا تو مطلقاً نفی علم غیب ثابت کرنے والا منکر نبوت ہو گا۔
ایک گفتگو کے دوران ایک دیوبندی مولوی سے ہم نے پو چھا کہ کیا علمائے دیوبند مطلقاً علم غیب کے منکر ہیں تو کہتا ہے نہیں،ہم نے پو چھا تو پھر کس لئے علم غیب شرک ہوا۔تو کہتا ہے کہ اگر شرکیہ عقائد رکھ کر مانا جائے تو شرک ہو گا۔ہم نے کہا تو اس طرح مانتا کون ہے۔تو اس نے کہا بریلوی ہم نے پو چھا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ بریلویوں کا علم غیب رسول پر شرکیہ عقیدہ ہے۔تو گفتگو حاضر وناظر پر آگئی ہم سوچا بہت بڑا جاہل لگتا ہے میں نے پو چھا آپ نے یہ کہا پڑھ لیا کہ ہم ہر وقت اور ہر جگہ نبی کو موجود مانتے ہیں جبکہ اہل سنت کا یہ عقیدہ نہیں۔بلکہ اہل سنت کا نظر یہ ہی ہے کہ”قوت قدسیہ والا ایک مقام میں رہ کر اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح تمام عالم کو دیکھے اور قریب دور کی آواز سن سکتا ہوا سے ناظر کہتے ہیں۔اورایک ہی ساعت میں عالم کی سیر کرنے پر قادر ہو اور یہ اختیار خواہ روحانی ہو یا نورانی یا علمی ہوا سے حاضرکہتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسم اس وقت یا ہر وقت یہاں موجود ہیں یہ عقیدہ نہیں ہے۔
حاضر وناظر کی تعریف میں حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب لکھتے ہیں بے شک حاضر وناظر کے نظریہ کا تعلق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس کے ساتھ نہیں ہے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسم کی بشریت کے ساتھ ہے بلکہ اس نظریہ کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسم کی نورانیت اور روحانیت کے ساتھ ہے۔اور یہی عقیدہ بزرگان دین کابھی ہے جو ہمارا ہے۔پھر اس پر دیوبندیوں کا یہ کہنا کہ وہ آپ کی طرح نہیں مانتے تھے یہ فقط ہٹ دھرمی اور منافقت ہے۔پتہ چلا کہ نجد کی ناجائز اولاد دیوبندیوں نے اپنے گستاخانہ اور کفریہ عقائد کی پردہ پوشی کیلئے ہی اہل سنت پر بہتان تراشی اور اپنی جانب سے نظریات گھڑے ہیں جبکہ اکابرین اہل سنت کا ایسا کوئی نظر یہ نہیں جو صحابہ کرام علیہم الرضوان سے الگ ہو۔
اب یہ شر زور اور منہ پھٹ منافقین اہل دیوبند کہتے ہیں کہ بریلوی لوگوں کا عقیدہ علم غیب شرکیہ ہے۔تو اس کی کوئی دلیل انکے ناجائز باپ شیخ نجد ی بھی نہیں پیش کر سکتا سوائے اپنے جاہلانہ من گھڑت واقعات کو اہل سنت پر تھوپنے کے۔منافقین دیوبند اور انکے ناجائز باپ شیخ نجدی نے خود ہی رسول کریم کی شان اقدس میں گستاخیاں کیں اور اپنے آپ کو بچانے کیلئے اہل سنت وجماعت پر کیچڑ اچھالا جب کہ اہل سنت کے وہ عقائد نہیں جو یہ منافق بتاتے ہیں۔منافقین کی جماعت نے اہل سنت پر یہاں تک بہتان تراشیاں کیں ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ بریلوی حضرات حضور کا علم غیب اللہ کی مانند مانتے ہیں۔جبکہ ایسا کوئی نظریہ اہل سنت جماعت کا نہیں یہ بھی منافق نجدیوں کی گندگی میں پنپنے والے کیڑوں کا اپنا خود بنایا ہوا نظر یہ ہے جسے یہ اہل سنت کی طرف منسوب کر کے عوام اہل سنت کو الجھاتے ہیں تاکہ مسلمان انکے کفریہ عقائد کی طرف متو جہ نہ ہوں۔
اگلی قسط میں بقیہ اعتراضات ملاحظہ فرمائیں اور علم غیب رسول کا ثبوت صحابہ کرام سے بھی ثابت کیا جائے گا
تحریک اصلاح عقائد
باطل فرقوں کا مکمل رد
علم غیب رسول اور بد مذہبوں کی منافقت
سلسلہ نمبر ۲
از سعد حنفی
سلسلہ ن
نمبر ۲
دیوبندیوں اور ا نکے جاہل مقتدیوں کو بحث علم غیب میں بہت مزا آتا ہے حالا کہ یہ کسی بھی موضوع میں اہل سنت جماعت کے سامنے ٹک ہیں پاتے عوام اہلسنت کو طرح طرح کے مکر وفریب سے گمراہ کرتے ہیں اور جب کسی اہل علم کا سا منا ہو جاتا ہے تو ہوس حواس گل ہو جاتے ہیں۔
کیا دیوبندی منافقین اور ا نکے ناجائز باپ شیخ نجد ی مطلقاً علم غیب رسول کے منکر تھے؟ تو اس کا جواب یہ ہی ہے کہ بالکل یہ لوگ مطلقاً علم غیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں۔اور بات رہی ات.ا علم غیب اور اس سے زیادہ جو یہ لوگ بہانا بناتے ہیں یہ صرف بھولی سنی عوام کو دھو کا دینے کیلئے ہی کہتے ہیں۔
اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو روز اول سے روز آخر تک کا علم دیا اور تمام علوم مندرجہ لوح محفوظ نیز اپنی ذات وصفات کی معرفت سے متعلق بہت اور بے شمار علوم عطا فرمائے جمیع جزئیات خمسہ کا علم دیا جس میں خاص وقت قیامت کا علم بھی شامل ہے احوال جمیع مخلوقات تمام ماکا ن ومایکون (چوکچھ ہو چکا اور جو ہو گا) کا علم عطا فرمایا لیکن بایں ہمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم عطائی ہونے کی وجہ سے حادث ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی وقدیم۔سرکار محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا علم ہزگز اللہ کے علم کے مساوی(برابر) نہیں علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متناہی ہے۔اب اسکے باوجود کوئی جاہل دیوبندی یہ کہے کہ سنی لوگ حضور علیہ السلام کا علم اللہ کی ما نند ما نتے ہیں تو ما ن لو کہ اسکا مقصد صرف اہل سنت وجماعت میں فساد بر پا کر نا ہے۔
حدیث پاک میں ہے کہ ”حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مقام پر کھڑے ہو ئے اورآپ ﷺ نے ہمیں تمام مخلوق کی پیدائش کے بارے میں بتایا حتیٰ کہ جنتی اپنے ٹھکا نے پر جنت میں داخل ہو گئے اورجہنمی اپنے ٹھکا ے پر جہنم میں پہنچ گئے۔جس شخص نے اس کو (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو) یادرکھا اس نے یادرکھا اور جو بھول گیا سو وہ بھول گیا۔(بخاری شریف ج:۱۔ص:۳۵۴)
اس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ نے ا نسا ن یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت تک کہ دخول جنت اور دوزخ کے احوال کے بارے میں بیان فرمادیا۔پتہ چلا کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت تک کا علم عطا کیا گیا ہے۔اور یہ بھی پتہ چلا کہ کسی صحابی رسول کو اس پراعتراض نہیں ہوا کہ آپ ماکا ن ومایکون کا علم کیسے جا تے ہیں جیسے آج کے دیوبندی منافقین کو ہو تا ہے ہاں ا نکے پر کھوں (عہد رسالت کے منا فقین) کو اس وقت بھی اعتراض تھا اور آج ا نکی اولادیں اسی پر اعتراض کررہی ہیں۔
دیوبندیوں کے یہاں علم غیب رسول پر قید لگائی جاتی ہے جب کہ یہ قید کسی حدیث میں نہیں ملتی مثلاً ا نکے یہاں ا نکے اکابرین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم علم کو اپنی جاہلا نہ تحقیق کی بناء پر شیطا ن سے کم بتایا۔اور ایک نالائق نے تو یہاں تک لکھدیا کہ اگر حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض علم غیب مان بھی لیا جائے تو اسمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تخصیص ایساعلم غیب تو ہر پاگل،جا نور،اور بچوں کو بھی ہوتاہے۔پتہ چلا کہ دیوبند کے منافقین جو کہتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کےمطلق منکر نہیں تویہ لوگ اتنا ہی غیب ما نتے ہیں جتنامعاذاللہ جا نوروں اورپاگلوں اوربچوں کو ہوتاہے.
اب یہاں تحقیق یہ کہتی ہے کہ جب تھا نوی جی جو اس گستاخا نہ عبارت کوگڑھ نے والے ہیں ا نکی تکفیر کی گئی اسوقت کسی میں اتنی جرأت نہیں بن پڑی کہ وہ کیاجواب دیں تکفیر کے بعد ا ن منافقین جو منہ کھولا وہ ا نکی جہالت کو اوربھی زیادہ بے پردہ کرتا ہے۔اسکی تاویل میں اس فتنہ پرور گروہ نے ایک تاویل یہ بھی پیش کی کہ مولوی تھا نوی صاحب تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو ما نتے ہی نہیں نہ بعض اور نہ کل۔تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی مشابہت کیسی ہوئی۔مطلب ا نکے یہاں جا نوروں اور پاگلوں کو تو علم غیب ہو تا ہے لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ہے معاذاللہ۔
تھا نوی جی کی محبت میں کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کا مطلقاً منکر بن بیٹھا اور کوئی لفظ”ایسا“جو اس عبارت میں استعمال کیا گیا اس میں الجھ کر رہ گیا پھربھی وہ اپنے منافق نیم حکیم کو کفر کے دلدل سے نہ بچا سکے۔
اگلی قسط میں علم غیب رسول بزرگان دین کی کتب سے ملاحظہ کیجئے جڑے رہیے ہمارے بلاگ،سے اور ہمارے فیس بک پیج سے اور زیادہ سے زیادہ اسے شئرکریں تاکہ دیوبندیوں کی نا نی مر جائے۔اور اپنے اکابرین کی طرح یہ بھی اپنی نا نی کے پاخا نہ کو چاٹتے پھریں۔
علم غیب رسول اور بد مذہبوں کی منافقت
سلسلہ نمبر ۲
از سعد حنفی
سلسلہ ن
نمبر ۲
دیوبندیوں اور ا نکے جاہل مقتدیوں کو بحث علم غیب میں بہت مزا آتا ہے حالا کہ یہ کسی بھی موضوع میں اہل سنت جماعت کے سامنے ٹک ہیں پاتے عوام اہلسنت کو طرح طرح کے مکر وفریب سے گمراہ کرتے ہیں اور جب کسی اہل علم کا سا منا ہو جاتا ہے تو ہوس حواس گل ہو جاتے ہیں۔
کیا دیوبندی منافقین اور ا نکے ناجائز باپ شیخ نجد ی مطلقاً علم غیب رسول کے منکر تھے؟ تو اس کا جواب یہ ہی ہے کہ بالکل یہ لوگ مطلقاً علم غیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں۔اور بات رہی ات.ا علم غیب اور اس سے زیادہ جو یہ لوگ بہانا بناتے ہیں یہ صرف بھولی سنی عوام کو دھو کا دینے کیلئے ہی کہتے ہیں۔
اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو روز اول سے روز آخر تک کا علم دیا اور تمام علوم مندرجہ لوح محفوظ نیز اپنی ذات وصفات کی معرفت سے متعلق بہت اور بے شمار علوم عطا فرمائے جمیع جزئیات خمسہ کا علم دیا جس میں خاص وقت قیامت کا علم بھی شامل ہے احوال جمیع مخلوقات تمام ماکا ن ومایکون (چوکچھ ہو چکا اور جو ہو گا) کا علم عطا فرمایا لیکن بایں ہمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم عطائی ہونے کی وجہ سے حادث ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی وقدیم۔سرکار محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا علم ہزگز اللہ کے علم کے مساوی(برابر) نہیں علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متناہی ہے۔اب اسکے باوجود کوئی جاہل دیوبندی یہ کہے کہ سنی لوگ حضور علیہ السلام کا علم اللہ کی ما نند ما نتے ہیں تو ما ن لو کہ اسکا مقصد صرف اہل سنت وجماعت میں فساد بر پا کر نا ہے۔
حدیث پاک میں ہے کہ ”حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مقام پر کھڑے ہو ئے اورآپ ﷺ نے ہمیں تمام مخلوق کی پیدائش کے بارے میں بتایا حتیٰ کہ جنتی اپنے ٹھکا نے پر جنت میں داخل ہو گئے اورجہنمی اپنے ٹھکا ے پر جہنم میں پہنچ گئے۔جس شخص نے اس کو (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو) یادرکھا اس نے یادرکھا اور جو بھول گیا سو وہ بھول گیا۔(بخاری شریف ج:۱۔ص:۳۵۴)
اس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ نے ا نسا ن یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت تک کہ دخول جنت اور دوزخ کے احوال کے بارے میں بیان فرمادیا۔پتہ چلا کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت تک کا علم عطا کیا گیا ہے۔اور یہ بھی پتہ چلا کہ کسی صحابی رسول کو اس پراعتراض نہیں ہوا کہ آپ ماکا ن ومایکون کا علم کیسے جا تے ہیں جیسے آج کے دیوبندی منافقین کو ہو تا ہے ہاں ا نکے پر کھوں (عہد رسالت کے منا فقین) کو اس وقت بھی اعتراض تھا اور آج ا نکی اولادیں اسی پر اعتراض کررہی ہیں۔
دیوبندیوں کے یہاں علم غیب رسول پر قید لگائی جاتی ہے جب کہ یہ قید کسی حدیث میں نہیں ملتی مثلاً ا نکے یہاں ا نکے اکابرین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم علم کو اپنی جاہلا نہ تحقیق کی بناء پر شیطا ن سے کم بتایا۔اور ایک نالائق نے تو یہاں تک لکھدیا کہ اگر حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض علم غیب مان بھی لیا جائے تو اسمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تخصیص ایساعلم غیب تو ہر پاگل،جا نور،اور بچوں کو بھی ہوتاہے۔پتہ چلا کہ دیوبند کے منافقین جو کہتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کےمطلق منکر نہیں تویہ لوگ اتنا ہی غیب ما نتے ہیں جتنامعاذاللہ جا نوروں اورپاگلوں اوربچوں کو ہوتاہے.
اب یہاں تحقیق یہ کہتی ہے کہ جب تھا نوی جی جو اس گستاخا نہ عبارت کوگڑھ نے والے ہیں ا نکی تکفیر کی گئی اسوقت کسی میں اتنی جرأت نہیں بن پڑی کہ وہ کیاجواب دیں تکفیر کے بعد ا ن منافقین جو منہ کھولا وہ ا نکی جہالت کو اوربھی زیادہ بے پردہ کرتا ہے۔اسکی تاویل میں اس فتنہ پرور گروہ نے ایک تاویل یہ بھی پیش کی کہ مولوی تھا نوی صاحب تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو ما نتے ہی نہیں نہ بعض اور نہ کل۔تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی مشابہت کیسی ہوئی۔مطلب ا نکے یہاں جا نوروں اور پاگلوں کو تو علم غیب ہو تا ہے لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ہے معاذاللہ۔
تھا نوی جی کی محبت میں کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کا مطلقاً منکر بن بیٹھا اور کوئی لفظ”ایسا“جو اس عبارت میں استعمال کیا گیا اس میں الجھ کر رہ گیا پھربھی وہ اپنے منافق نیم حکیم کو کفر کے دلدل سے نہ بچا سکے۔
اگلی قسط میں علم غیب رسول بزرگان دین کی کتب سے ملاحظہ کیجئے جڑے رہیے ہمارے بلاگ،سے اور ہمارے فیس بک پیج سے اور زیادہ سے زیادہ اسے شئرکریں تاکہ دیوبندیوں کی نا نی مر جائے۔اور اپنے اکابرین کی طرح یہ بھی اپنی نا نی کے پاخا نہ کو چاٹتے پھریں۔

Comments