DEO FITNA KI JIHALAT KA RADD
کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہنا ناجائز وشرک ہے ;238;
میرے عزیز دوستوں السلام علیکم
امت مسلمہ میں ایک جدید فتنہ پیدا ہوا جسے دیوبندی کہا جاتا ہے ۔
اس کے عقائد شروع سے ہی وہابیوں سے تھے لیکن کیا کریں سنیوں کے بیچ میں رہ کر اپنے اس ناپاک فتنے کو قائم رکھنا تھا اس لئے ان لوگوں نے خود حنفی سنی کہنا شروع کر دیا کیوں یہ لوگ جانتے تھے کہ جو عقائد اشرف علی تھانوی ،رشید احمد گنگوہی ،قاسم نانوتوی اور خلیل سہارنپوری کے ہیں ان عقائد کی بناء پر عوام اہل سنت سے ان کو سوائے جوتوں کی مار کے کچھ نہیں ملنے والا اس لئے عوام اہل سنت کو فریب دینے کیلئے ان لوگوں نے خود سنی حنفی کہنا شروع کر دیا جس کی بناء پر عوام اہل سنت ایک بڑے فریب کا شکار ہو گئی اور مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اندھی تقلید کی بناء پر انکی پیروی میں لگ گیا ۔
بہر کیف اس معاملہ میں مزید گفتگو ہمارا رسالہ ’’نجد کی پیٹ سے دیوبندیت کا جنم‘‘ میں ملاحظہ فرمائیے ۔
اندھی تقلید میں مست دیوبندی عوام اور اسکے جاہل طلبہ وفارغین دیوبند کے ایک ٹیلیگرام گروپ میں کسی بھائی نے سوال کر دیا کہ’’ یا رسول اللہ کہنا کیسا;238; ‘‘اس کے جواب میں ایک دیوبندی نے کہا شرک ہے پھر ایک نے سوچا کہ یہ تو بالکل سیدھا جواب ہو گےا تو اس نے کہا کہ ہر جگہ شرک نہیں مطلب مطلقاً شرک نہیں اگر حضور علیہ السلام کے روضے اطہر کے پاس کہا جائے تو جائز ہے کیوں کہ آپ وہاں موجود ہیں اور اس سے دور ہو کر اگر یہ عقیدہ رکھ کر کہا جائے کہ حضور علیہ السلام ہماری آواز سنتے ہیں اور حاضر ہیں تو شرک ہے کیونکہ حضور صرف اپنی قبر میں ہی حاضر ہیں اور اسکے علاوہ کسی جگہ حاضر نہیں ۔ اور اگر مدد کیلئے پکارا جائے تب بھی شرک ہے ،اشعار میں محبت بھرے انداز میں شعراء کا کلام الگ بات ہے لیکن اگر استمداد کیلئے پکارا جائے تب بھی شرک ہے ۔
اب دیکھتے ہیں دیوبندی عوام مدارس دیوبند میں ظاہراًعالم کی سند لیکر بھی جاہل کیوں ہیں ;238;
سب سے پہلے ہم یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ دیوبندی عوام اور انکے علماء اپنی اندھی تقلید کی بناء پر جاہل وگمراہ ہیں ۔ کیوں کہ انکی تحقےق صرف اتنی ہی ہے جتنی انکے اکابرین کی کتب اسکے آگے یہ پڑھنا ہی نہیں چاہتے ۔ جب کسی سنی عالم دین سے فتویٰ لیا جاتا ہے تو سنی عالم اکابرین اہل سنت فقہ حنفی کے دیگر کتب واحادیث کے حوالہ سے فتویٰ دیتا ہے اور جب کسی دیوبندی سے فتویٰ لیا جاتا اور خاص کر وہ فتویٰ جس میں انکے عقائد کی پول کھلنے والی ہو تو انکے حوالے صرف اکابرین دیوبند کے آگے نہیں جاتے کہیں فتاویٰ رحیمیہ ،کا حوالہ کہیں محمودیہ کا حوالہ تو کہیں رشیدیہ کا حوالہ ۔ پتا چلا انکے عقائد کی حد صرف ان جاہل مولویوں کی اندھی تقلید تک ہی محدود ہے ۔
بہر کیف اب ہم اپنے سوال کی جانب آتے ہیں ’’کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہنا شرک ہے ‘‘ ۔
ہم نے اوپر دیوبند کی جہالت کا نمونہ دیکھا اب آئیے ان دیوبندی عالموں سے سوال کئے جائیں
(۱) اگر صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور پر ہی لفظ یا کا استعمال جائز ہے اور دیگر مقام سے شرک ہے تو اسکی کوئی حنفی ،شافعی ،حنبلی،مالکی ،یا کسی بھی معتبر اکابرین اہل سنت سے یا انکی معتبر کتب سے یہ اصول ثابت کریں ;238;
(۲) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد وصال مدد کیلئے لفظ ’’یا‘‘ کا ستعمال شرک ہے ۔ دیوبندی اپنے اس اصول کو کسی بھی فقہ کے امام سے یا اکابرین اہل سنت کی معتبر کتب سے ثابت کریں ;238;
(۳) حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشعار میں محبت بھرے انداز میں لفظ یا سے پکارنا شرک نہیں تو یہ کس اصول سے ثابت ہے جو بھی اصول ہے اسے کسی بھی فقہ کے امام(حنفی،شافعی،حنبلی،مالکی) کی کتب سے ثابت کریں ;238;
دیوبندیوں کے عقائد اور انکے نظر یات سب بدعت اور امت میں ایک بڑا فتنہ ہے ;238;
دیوبندیوں کا یہ عقیدہ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دور سے پکارنا شرک ہے حضور علیہ السلا م صرف قبر میں موجود ہیں اور کسی بھی جگہ حاضر نہیں ہو سکتے وہ ہماری آواز ہر جگہ سے سن نہیں سکتے ۔ یہ سب عقائد وہابیوں کے ہیں ۔ اہل سنت و احناف کا اسطرح کا کوئی نظر یہ نہیں ۔
حاجی امداد اللہ مکی مہاجر رحمۃ اللہ علیہ :چونکہ اس فتنہ جدید وبدعتی جماعت کو دین اسلام میں اپنے جدید فتنوں کو جنم دینا تھا اس لئے اس جماعت کے منافق مولویوں نے اس دور میں حاجی امداداللہ علیہ الرحمہ کا سہارا لیا اور انکے اکابرین چونکہ حاجی صاحب کی مریدی کا پٹہ باندھنے کا دعویٰ کرتے تھے اس لئے انکے لئے وہ رحمۃ اللعالمین کا درجہ رکھتے تھے ۔ لیکن کیا سچ میں دیوبندیوں کا نظریہ حاجی صاحب کے نظریہ کے مطابق تھا ;238; تو چلئے دیکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ ’’یا ‘‘ سے پکارنا حاجی صاحب کیلئے کیسا تھا کیا آپکے نزدیک بھی شرک تھا;238;
حاجی امداداللہ مکی مہاجر اپنی کتاب کلیات امداد یہ میں ایک مناجات تحرےر کرتے ہیں جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں ۔ مناجات
یا رسول کبریا فریاد ہے یا محمد ﷺ مصطفےٰ فریاد ہے
آپ کی امداد ہو میرا یا نبی ﷺ حال ابتر ہوا فریاد ہے
سخت مشکل میں پھنسا ہوں آجکل
اے مرے مشکل کشا فریا د ہے
اس مناجات میں حاجی امداد اللہ مکی مہاجر علیہ الرحمۃ نے ان سب دیو کے بندوں کے نظریات کو باطل قرار دے دیا جس کی بناء پر یہ خود کو دیوبندی کہتے ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیا گےا ہے کہ جس طرح انکے (دیوبندیوں )یہاں لفظ یا رسول اللہ شرک ہے ۔ اگر کوئی دیوبندی مولوی کہئے کہ مدد کیلئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ یا سے پکارنا شرک ہے تو حاجی صاحب نے کیوں پکارا ۔ اگر اس پر بھی کوئی دیوبندی کہے کہ یہاں حاجی صاحب نے حضورﷺ کے بارے میں وہ عقیدہ نہیں رکھ کر کہا ہے جو بریلوی رکھتے ہیں تو یہ بتائیے حاجی صاحب نے کہاں لکھا کہ میں یہ عقیدہ نہیں رکھتا جو بریلویوں کا عقیدہ ہے جبکہ سنیوں کو جس بناء پر دیوبندی اندھے مقلد لفظ یا پر مشرک قرار دےتے ہیں حاجی امداد اللہ علیہ الرحمہ نے اس کی پوری وضاحت کر دی کہ وہ اسی انداز میں لفظ ’’ یا ‘‘ کا استعمال کرتے ہیں جس انداز میں عاشقان رسول کی جماعت اور امام اہل سنت کو ماننے والے کرتے ہیں ۔ یہاں پر حاجی امداداللہ علیہ الرحمۃ نے لفظ یا کا استعمال’’مدد‘‘امداد کیلئے استعمال کیا ہے اور یہاں تک مشکل کشا بھی حضور کریمﷺ کو مانا ہے توکیا دیوبندی اپنے فتویٰ میں حاجی صاحب کو بھی شامل کرتے ہیں جس کی بناء پر یہ جاہل مولوی عوام اہل سنت کو مشرک قرار دےتے ہیں ۔
ہو سکتا ہے کوئی دیوبندی مرید شیطانی یہ جواب دے کہ چونکہ اشعار میں شاعر کے کلام میں لفظ یا کا استعمال جائز ہے اور یہاں حاجی صاحب حضور علیہ السلام کے دیدار کیلئے اور آپ ﷺ کی محبت میں یہ اشعار کہہ رہے ہیں ۔
اس کے جواب میں میں یہی کہوں گا کہ پہلے آپ مناجات کا لغوی معنی واصطلاحی معنیٰ تلاش کر لیں منافقین کی اندھی تقلید میں جاہلانہ تاویلات صرف کچھ بھولے بھالے عوام اہل سنت کو بہکانے میں کام آسکتی ہیں لیکن اس فتنہ پروری کی کوئی تاویل آخرت میں کام نہ آئے گی ۔
مناجات کا لغوی معنی ہے ،دعا کرنا اور اسطرح دعا کرنا کہ اپنی عاجزی کو بیان کرتے ہو ئے اپنے مالک کی تعریف کی جائے اور دعا کی جائے ۔ اب یہاں حاجی صاحب کس سے دعا فرما رہے ہیں ;238;اگر رسول کریم کی جدائی کا تذکرہ کرتے ہو ئے دعا گو ہیں تو سیدھا اللہ رب العزت سے دعا کرنا چاہئے حاجی صاحب رسول خدا ﷺ سے کیوں فریاد کررہے ہیں جبکہ بقول آپ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دور سے سن نہیں سکتے انکو پکارنا امداد کیلئے شرک ہے ۔ تو جب اس نظم کا عنوان ہی اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہاں حاجی صاحب اپنی عاجزی کو بیان کرتے ہو ئے دعا کررہے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشکل کشا مان رہے ہیں تو اب دیوبندکے منافقین کے اندھے مقلد جواب دیں کہ یہاں تمہارا نظر یہ حاجی صاحب کے نظر یہ سے کس طرح میل کھاتا ہے ۔
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رضہ اطہر سے دور سے پکارنا شرک ہے ;238;
یاد رہے دیوبندیوں کے وہابی ہو نے کی ایک وجہ انکا یہ عقیدہ بھی ہے جو کہ سنیوں میں میں کہیں نہیں پایا جاتا ہے اور انکا ایک جاہل مناظرجس نے اپنی ہی جماعت کے ایک بھگوڑے مناظر کی پیروی کرتے ہو ئے آج کے اس دور میں خود کو محمد بن عبدالوہاب کا پیروکار کہہ کر نجدیوں (وہ لوگ جو محمد بن عبدالوہاب کے پیروکار ہیں ) کو بھی سنیوں کی جماعت میں شامل کر نا چاہتا ہے ۔ (ساجد نسبندی دیوبندی پاکستانی) بھی اپنے ان جاہل مولویوں کے اس نظر یہ و اصول اکابرین اہل سنت کی معتبر کتب سے ثابت کر کے دکھا ئے ۔
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ: فرماتے ہیں ’’اور تحقےق ہمارے علمائے کرام نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور زندگی میں کوئی فرق نہیں ۔ آپ ﷺ اپنی امت کو دیکھتے اور ان کے احوال وعزائم اور ان کے ارادوں کو جانتے ہیں اور یہ بات آپ ﷺ کے نزدیک بالکل واضح ہے اس میں کوئی پوشیدگی نہیں ‘‘ ( مواہب ۔ ج:۲ باب زیارۃ قبر شریف )
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ امام غزالی کے حوالے سے فرماتے ہیں :فرمایا امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے کہ جب تم مسجد میں داخل ہو تو رسول اللہ ﷺ پر سلام عرض کرو ۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود ہو تے ہیں ۔ (مرقاۃ ۔ شرح مشکوٰۃ)
امام غزالی علیہ الرحمہ: فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کو اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان اجمعین کے ساتھ عالم دنیا میں سیر فرمانے کا اختےار حاصل ہے اور آپ کو کثیر اولیاء کرام نے دیکھا بھی ہے (روح البیان آخر سورۃ ملک)
علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ اور ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ کا نظر یہ :اگر گھر میں کوئی شخص نہ ہوتو تم اس طرح کہو’’ السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبر کاتہٗ( شفا شریف ج ۲ ص:۲۵)
اس کی شرح کرتے ہو ئے ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :لانَّ روح النبی علیہ السلام حاضر فی بیوت اھل الاسلام اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رو ح مبارک ہر مسلمان کے گھر میں موجود ہو تی ہے ( شرح شفاء نسیم الریاض ج:۳ ص:۴۶۴)
اب دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کی سنئے ’’نیز مرید کو یقین کے ساتھ یہ جاننا چاہئے کہ شیخ کی روح کسی خاص جگہ میں مقید ومحدود نہیں ہے پس مرید جہاں بھی ہو گا خواہ قریب ہو یا بعید رو گو شیخ کے جسم سے دور ہے لیکن اس کی روحانیت سے دور نہیں جب اس مضمون کو پختگی سے جانے رہیگا اور ہر وقت شیخ کو یادرکھے گا تو ربط قلب پیدا ہو جائے گا اور ہر دم استفادہ ہو تا رہے گا اور جب مرید کو کسی واقعہ کے کھولنے میں شیخ کی حاجت پیش آئے گی تو شیخ کو اپنے قلب میں حاضر مان کر بزبان حال سوال کرے گا اور ضرور شیخ کی روح باذن خداوندی اس کو القا کردے گی‘‘ ( امدادالسلوک صفحہ ۷۶،۸۶)
یہ ہے خود دیوبندیوں کے مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب جن کے نزدیک پیر کی روح ہر جگہ موجود ہو تی ہے اور مرید اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے تو پیر کی روح خدا وند کریم کے حکم سے ضرور القاء کرے گی ۔ اب جب دیوبندیوں کا مولوی خود پیر کیلئے یہ باتےں کہہ سکتا ہے تو دیوبند کے اندھے مقلد کس بناء پر یہ اصول بنائے بیٹھے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے علاوہ کسی اور جگہ سے لفظ یا کا استعمال کرنا شرک ہے ۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد کیلئے پکارنا شرک ہے ۔ جبکہ امام غزالی کا نظریہ ہم نے بیان کیا ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ سیر فرماتے ہیں اور آپ کو کثیر اولیاء کرام نے دیکھا بھی ہے مطلب کثیر اولیاء کرام کا بھی یہی نظر یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ ہر جگہ آ جا سکتے ہیں تبھی تو اللہ کے نیک بندوں کی اس جماعت نے اس کا مشاہدہ بھی کیا جس کا تذکری خود امام غزالی فرما رہے ہیں ۔
اس کے علاوہ امام غزالی و ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اکابرین اہل سنت بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی روح مومنین کے گھروں میں موجود ہو تی ہے اور مسجدوں میں بھی موجود ہو تی ہے اس کا مطلب مسجد میں بھی یا رسول اللہ کہنا درست ہے اور گھر میں رہ کر یا رسول اللہ کہنا بھی درست ہے ۔ اب دیوبند کے جاہل فارغین کا اصول کہاں گےا ۔ ہم نے کوئی چودھویں صدی کے مولویوں کا حوالہ یا انکی کتاب کا حوالہ نہیں دیا اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے ۔ اب دیوبندیوں سے گزارش ہے کہ ذرا اپنی تحقےق کو اپنے جاہل اکابرین سے آگے لے جائیں اور اپنے علم کو رضوی مریدین کی طرح وسعت بخشیں ۔ ورنہ آج تو تم شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کو حق پر مان کر اسے اپنا اکابر شمار کرتے ہو کل غلام احمد قادیانی کو بھی حق مان کر اپنا اکابر شمار کر لو نگے ۔
یار سول اللہ کہنا اور اکابرین اہل سنت :
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے ،فرماتے ہیں کہ لکھنے والے فرشتوں کے سوا اللہ تعالیٰ نے ایسے ملاءکہ مقرر فرمائے ہیں جو درختوں کے ان پتوں کو لکھ لیتے ہیں جو گر پڑتے ہیں بس جب دوران سفر تم میں سے کسی شخص کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ اس طرح نداء کرے’’ اے اللہ کے بندوں میری مدد کرو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے ‘‘( امام بزاز;234;کشف الاستار ۔ المصنف ۔ امام ابن ابی شیبہ)
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رواےت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص جب کوئی شے گم کر بیٹھے اور وہ کسی غےر مانوس جگہ پر ہوتو چاہئے کہ وہ اس طرح کہے ’’ اے اللہ کے بندو میری مدد کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ہو تے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھ پاتے‘‘ یہ نسخہ میرا آزمودہ ہے( حصن حصین ۔ طبرانی مجمع الزاوئد)
ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ حدیث میں وارد ہونے والے الفاظ یا عباداللہ کی تشریح کرتے ہو ئے لکھتے ہیں (اے اللہ کے بندو) سے مراد ملاءکہ یا مسلمان جن یا نیک مسلمان مرد یعنی اولیاء کرام مراد ہیں جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں ۔
پتہ چلا کہ مدد کیلئے لفظ یا کا استعمال صحابہ کرام علیہم الرضوان اجمعین بھی مانتے تھے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے لیکن کیا جائے نجد کی پیٹ سے جنم لینے والے اس فتنہ پرور جماعت دیوبند کے اندھے مقلد وں نے سیدھا اپنے جاہلانہ اصول جو کہ سوائے دیوبندی منافقین کے کسی بھی اصول اہل سنت سے نہیں ثابت اس بدعتی اصول کی بناء پر سارے سنی مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہو ئے کہتے ہیں کہ لفظ یا امدادکیلئے استعمال کرنا شرک ہے مطلب انکے نزدیک اب صحابہ بھی مشرک ٹھہرے ۔ اور ابھی تک کہ سبھی اکابرین اہل سنت بھی مشرک بھی ٹھہر ے ۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام حنفی سنی سے زیادہ کون جانے گا آپ فرماتے ہیں ’’جب کسی انسان کی کوئی چیز گم ہو جائے اور وہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی چیز واپس لوٹا دے تو کسی اونچے مقام پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر سورۃ فاتحہ پڑھے اور نبی کریم ﷺ کو اس کا ثواب ایصال کرے پھر اس کا ثواب سید احمد بن علوان کو ہدیہ کرے اور کہے اے میرے سردار احمد بن علوان اگر آپ میری چیز نہیں لوٹا ئیں گے تو میں آپ کو ولیائے کرام رحمۃ اللہ علیہم کے دفتر سے خارج کردوں گا تو اللہ تعالیٰ ان کی بر کت سے گمشدہ چیز واپس لوٹا دے گا ۔ ( در مختار ج :۳ باب اللقطہ)
حنفیوں کے معتبر عالم دین واکابر اہل سنت علامہ شامی نے کیا خوب وضاحت فرمائی ہے یہاں یہ بات بھی ثابت ہو تی ہے کہ علامہ شامی کے نزدیک اللہ کے ولیوں کو دور سے مدد کیلئے پکارنا جائز اور انکا مدد کرنا بھی ظاہر ہے ۔ اب پاکستانی میں موجود دیوبندیوں کا وہ جاہل مناظر ساجد نسبندی جس کو خود شوق ہوا تھا
عقائد علمائے بریلی کو حنفیت سے ثابت کرنے کا تو اب ساجد نسبندی جاہل مناظر کو بھی سمجھ میں آجانا چاہئے کہ جن کے اکابرین میں محمد بن عبدالوہاب نجدی شامل ہو جائے وہ سنی تو دور حنفی بھی نہیں ہو تابلکہ خارجی ہو تا ہے جیسا کہ خودعلامہ شامی نے اس نجدی خبیث کے بارے میں واضح بیان فرمایا ہے لیکن چونکہ ساجد نسبندی اور اسی کی طرح تمامی ہی دیوبندی اندھ بھکتوں نے ابن وہاب نجدی کو اپنا پیروکار مانا ہے اس لئے اب یہ سنی نہیں بلکہ وہابی جو کہ خارجیوں کی ایک جماعت ہے ان میں انکا شمار ہو تا ہے ۔ اسی طرح انکے اصول بھی انکی طرح جدید ہیں جن کی حد صرف دیوبند کے جاہل اکابرین تک ہی محدود ہو تی ہے ۔
از : سعد حنفی
رکن : تحرےک اصلاح عقائد
(باطل فرقوں کا مکمل رد)



Comments