DEO BANDI MUREEDE SHAITANI KI JIHALAT KA JAWAB
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بدعتی مرید شیطانی کی جہالت کا جواب
ابھی کچھ روز قبل ہمارے ایک اسلامی بھائی نے ایک پوسٹ بعنوان ’’غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل‘‘تحرےر کی جس میں شب برات کے حلوہ کے بارے میں تذکرہ تھا ،شاید یہ تذکرہ اتنا پر اثر ثابت ہوا کہ واقعی میں وہابیہ خیموں میں آگ لگ گئی ہو ۔ ایک جاہل مرید شیطانی نے اس پوسٹ کا جواب لکھنا چاہا لیکن کامیاب نہ ہو سکا اور صرف اِدھر اُدھر کی باتوں سے علمائے اہل سنت کی توہین کرنا شروع کردیا جو کہ ان وہابیہ مرید شیطانیہ کا شیوہ رہا ہے ۔
اس مرید شیطانی کو اس بات کی زبردست مرچی لگ گئی کہ مےرے عزیز دوست نے ان کے دجالی فتنے وہابیہ کی ناجائز اولاد دیابنہ کو جدید فرقہ کہا جبکہ اس نے جماعت اہل سنت کو بدعتی کہا اور علمائے اہل سنت کی بے بنیاد دلیلوں سے توہین کی اور کہا کہ اس کے جاہل علماء نے بدعتوں کی نشاندہی کی ۔ اب دیکھتے ہیں کہ ان کے جاہل علماء نے کن باتوں کو بدعت کہا اور کن باتوں سے منسوب کر کے عوام اہل سنت کو بدعتی کہا ،انکے مولوی اشرفعلی نے کہا کہ ’’جو لوگ متبع سنت ہیں اور اپنی جماعت کے ہیں (دیوبندی)ان کے یہاں بھی بس یہی دو چار چیزیں بدعت ہیں جیسے مولود کا قیام ۔ عرس ۔ تےجا ۔ دسواں ،اسکے علاہ جو اور چیزیں بدعت کی ہیں انہیں وہ بھی بدعت نہیں سمجھتے ۔ چاہے وہ بدعت ہونے میں ان سے بھی اشد ہوں ،مثلاً بیعت ہی کو دیکھئے جس ہئیت اور جس عقیدہ سے آج کل لوگ اس کو ضروری سمجھتے ہیں وہ بالکل بدعت اور غلیظ عقیدہ ہے لیکن کسی سے کہیں تو سہی اپنی ہی جماعت کے لوگ مخالفت پر آمادہ ہو جائیں ‘‘ ۔ (الافاضات الیومیہ جلد دہم جز اول ص ۳۱ قدیم ) اہل دیوبند کے امام وحکیم اشرف علی کے اس دوٹوک اعلان سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ وہابی دیوبندی مذہب میں صرف میلاد فاتحہ جیسے کام ہی پر بدعت کے فتوے لگائے جاتے ہیں ان کاموں کے علاوہ خود دیوبندی جو مرضی کرتے رہیں لیکن ان کو بدعت نہیں کہتے چاہے وہ اصول وہابیہ کے مطابق بدعت ہونے میں میلاد وفاتحہ سے بھی اشد ہی کیوں نہ ہوں ۔
پتہ چلا کہ دیوبندیوں نے بدعت کا نام لیکر صرف اہل سنت کو بدنام کر نا چاہا بقول تھانوی جی کے خود دیوبندی عوام اس سے بڑی بدعت میں مبتلا ہیں لیکن انھیں ان سے کہا نہیں جاتا ۔
اب یہ بات خود تھانوی جی سے صاف ہو گئی کہ تم لوگو ں نے بدعت کا نام لیکن صرف اہل سنت کو بدنا کر نا چاہا اور بلا وجہ ان کو بدعتی کہا ،اب دیکھتے ہیں کیا وہ چیزیں بدعت ہیں جن کو جناب تھانوی صاحب نے گنوائی ۔ جیسا کہ بدعت کا مفہوم ہی یہی ہے کہ وہ طریقہ جس کی اصل دین میں نہ ملے ،جبکہ عرس،تیجہ،دسواں ان سب کی اصل یہی ہے کہ یہ ایصال ثواب کی نیت سے کئے جاتے ہیں ان میں کئے جانے والے امور چاہئے طعام کا نظم ہو یا سبیل انکا ایصال ثواب کرنا جائز ہے انکی اصل قرآن واحادیث میں ملتی ہے ۔ اگر میری بات وہابیہ کے بچوں کو نہ سمجھے تو میں انکے گھر سے ثابت کردیتا ہوں ۔
مولوی رشید احمد گنگوہی سے کسی نے پوچھا کہ ’’کسی مصیبت کے وقت بخاری شریف کا ختم کرانا قرون ثلٰثہ سے ثابت ہے یا نہیں اور بدعت ہے یا نہیں ;238; ‘‘
اس کے جواب میں مولوی رشید احمد گنگوہی نے لکھا ’’قرون ثلٰثہ میں بخاری تالیف نہیں ہو ئی تھی مگر اس کا ختم درست ہے کہ ذکر خیر کے بعد دعا قبول ہو تی ہے اس کا اصل شرع سے ثابت ہے بدعت نہیں ‘‘ ۔
( فتاویٰ رشیدیہ صفحہ ۶۶۱)
اب یہاں مرید شیطانی کا کیا کہنا ہے جس طرح مولوی رشید احمد گنگوہی اس کی اصل کو دیکھتے ہو ئے اسے بدعت نہیں کہتے تو بتائیے عرس تیجہ اور دسواں ،کی حقیقت جو کہ ایصال ثواب ہے کیا قرآن واحادیث سے ثابت کرنے کے بعد بھی بدعت ہے ;238;
یہ بات اور ہے کہ تم یہاں تعین یوم کی بات کروگے اور یہ بھی اصول کہ کسی دن کا تعین کرکے کوئی نیک عمل کر نا بدعت ہے یہ بھی تمہارے ناپاک وجود کی دلیل دیتا ہے کہ جن فتنوں نے انگریزوں کی جوچتےاں چاٹ کر جنم لیا ہو وہ ایسے ہی انوکھے سوال کرتے ہیں ۔ تعین یوم کب سے بدعت ہو گےا اور وہ بھی بناء کوئی شرط کے ۔ اگر مرید شیطانی کو ذرا بھی عقل فہم یا تھوڑا بھی علم ہو تو اسکا جواب دیں ۔ کہ کب سے تعین یوم بدعت ہوا اور وہ بھی بناء کسی شرط کہ ،ہم نے حاجی صاحب کا فیصلہ ہفت مسئلہ دیکھا جس میں آپ نے بھی کچھ شرط قائم کی ہیں تعین یوم کے بدعت ہونے میں اور الحمدللہ اہل سنت بھی ان شرط کے مطابق انہیں بدعت جانتے ہےں اسی لئے ہمارا عقیدہ تو حاجی صاحب سے ملتا ہے چناچہ حاجی صاحب اپنے فیصلہ ہفت مسئلہ صفحہ ۰۲ پر لکھتے ہیں کہ ’’اب رہا تاریخ مقرر کرنا تو بات تجربے سے معلوم ہوتی ہے جو کام کسی خاص وقت میں کیا جاتا ہے وہ اس وقت بھی یاد آجاتا ہے اور ضرور انجام پاتا ہے نہیں تو سالہا سال گزرجاتے ہیں کبھی اس کا خیال بھی نہیں آتا اس قسم کی مصلحتیں ہر بات میں ہیں بہر حال اس قسم کی مصلحتےں اگر ایک خاص شکل اختےار کرنے کا باعث ہو تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ ‘‘
اور اسی طرح صحابہ کرام سے بھی ملتا ہے انھوں نے بھی اپنے دور میں دن کو تعین کیا ۔
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے اجتہاد سے وضو کے بعد نفل پڑھنے کو مقرر کر لیا تھا اس سلسلے میں انھوں نے سر کا ردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا بھی نہیں تھا حضور کریمﷺنے دریافت کیا حال کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ تم نے اپنی طرف سے نوافل کیلئے یہ وقت کیوں مقرر کر لیا ۔ نفلی عبادات کیلئے اپنی طرف سے وقت کا مقرر کر لینا اور اس پردوام کرنا اگر بدعت وگمراہی ہے تو حضور اکرم ﷺ نے اس کا رد کیوں نہیں فرمایا رد کرنا تو دور کی بات ہے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی تحسین کرکے امت کیلئے یہ رہنمائی فرمادی کہ نفلی عبادات کیلئے اپنے اجتہاد سے وقت معین کرنا جائز ہے چناچہ علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں ویستفاد منہ جواز الاجتھاد فی التوقےت للعبادۃ لان بلا لا توصل الیٰ ماذکر نا بالاستنباط فصوبہ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ ترجمہ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی عبادات کیلئے اپنے اجتہاد سے وقت معین کرنا جائز ہے ،کیونکہ بلال(رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ) نے وضو کے بعد نوافل اپنے استنباط سے متعین کیے تھے اور حضور نے اسے درست قرار دیا تھا ‘‘ ۔
صحیح بخاری جلد اول صفحہ ۹۵۱’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کے دن مسجد قبا پیدل یا سواری پر جاتا کرتے تھے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عمر بھی ہفتہ کے دن مسجد قبا کی زیارت کیلئے جاےا کرتے تھے ‘‘
علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری جلد سوم پر اس حدیث کے تحت اس حدیث فوائد بیان کرتے ہو ئے فرماتے ہیں :وفی ھٰذا الحدیث علی اختلاف طریقہ دلالۃ علی جواز تخصیص بعض الایام ببعض الاعمال الصالحۃ والمداومۃ علیٰ ذالک ۔ ترجمہ : اس حدیث میں باوجود اختلاف طرق کے اس بات پر دلالت ہے کہ بعض اعمال صالحہ کی ادائیگی کو بعض ایام کے ساتھ خاص کر لینا اور اس پر عمل میں دوام کرنا جائز ہے ‘‘ ۔
اب جناب مرید شیطانی صاحب اس بات کا جواب دیں کہ نجد کی روش پر چلنے والے اور کافر حکمرانوں کے تلوے چاٹنے والے دیوبندی اکابرین نے کس بناء پر علمائے اہل سنت کو بدعتی قرار دیا جبکہ جن اصول کی بناء پر تمہارے ناکارہ کافر مولویوں نے اہل سنت کو بدعتی کہا وہ اصول بھی تمہارے اکابرین کی ذاتی پیداوار تھی اگر یہ اصول پہلے موجود ہوتے تو علامہ حجر عسقلانی اس کی صفائی نہ دےتے اور نہ ہی حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے عمل کو درست قرار دےتے ۔ گنگوہی کے فتویٰ سے یہ ثابت ہوا کہ جس کی اصل درست ہو وہ بدعت نہیں لہٰذا اب تمہارا الزام بدعت کی کوئی حیثےت نہیں باقی رہی اب میری اس بات کی طرف توجہ کیجئے کہ علمائے دیوبند نے اپنے کفر کو چھپانے کیلئے ہی علمائے اہل سنت پر بے بنیاد الزام تراشی کی اور تم نے جو امام اہل سنت کو بدنام کر نا چاہا تو یہ کوئی ایک امام اہل سنت کا مسئلہ نہیں تھا کہ علمائے دیوبند کا فر ہیں بلکہ آپ سے پہلے کہ علماء نے بھی ان انگریزوں کے ایجنٹ بکاوَ مولویوں کی تکفےر کی تھی اور اسکے علاوہ پورا ہندوستان ان ابلیس کے مزار پر بیٹھے مجاروں کو کافر جانتا تھا ۔ اس کے بر عکس یہ انگریزی ایجنٹ ملک میں نام بدل کر بھاگے بھاگے پھرتے تھے ۔
اب اسکے بعد حسام الحرمین پر جو جناب مرید شیطانی نے طنز کیا کہ اس کتاب میں امام اہل سنت عبارات میں پھیر بدل کیا ہے تو اس پر ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ جس وقت حسام الحرمین منظر عام پر آئی اس وقت سے لیکر اعلیٰ حضرت کی وفات تک کسی بھی دیوبندی مولویوں نے اس پر اعتراض کیوں نہ کیا ۔ بعد وفات ہی کیوں اعتراض شروع کر دیا گےا ۔ اعلیٰ حضرت نے حسام الحرمین میں دیوبند کے منافق مولویوں کی تکفےر اپنی طرف سے نہیں کی بلکہ انکی کفریہ عبارات کی بناء پر علمائے حرمین سے فتاویٰ لئے ۔ اور حسام الحرمین کی صداقت دیکھئے کہ نہ ہی گنگوہی کا منہ کھلا نہ ہی تھانوی جی کچھ کر سکے باقی بچے ان ابلیس کے مزار بیٹھے مجاور تو یہ اپنی اوقات سے آگے کی بات کرتے ہو ئے ہمیشہ کی طرح اپنی ہی عزت داوَ پر لگا بیٹھتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح حرکتےں کبھی مفرر مناظر دیوبندی مولوی منظور سنبھلی نے کی تھی جس پر اعلیٰ حضرت کی کیا بات آپکے شاگرد نے اسکی وہ حالت کر دی کہ میدان مناظرہ چھوڑ کر بھاگنا پڑا اور صرف بھاگا ہی نہیں بلکہ دوبارہ مناظرہ نہ کرنے کی قسم تک کھا لی یہ حالت تھی بریلی شہر میں آنے کے بعد آپ کے بھگوڑے مناظر کی کہ دوبارہ مناظرہ کرنے کا خیال بھی نہ لاسکا ۔ حسام الحرمین کے موضوع پر آج تک دیوبندیوں کے یہاں کوئی مولوی مناظرہ جیتنا تو دور بلکہ میدان مناظرہ میں ٹکا بھی نہیں ۔ ہر میدان مناظرہ میں اہل سنت کا ڈنکا بجا ۔ اے مرید شیطانی تم کب تک جھوٹی روئداد پڑھ پڑھ کر اپنے دلوں کو تسلی دوگے اہل سنت کے سوالات آج بھی قائم ہیں چاہے وہ مناظرہ بریلی ہو یا اور مناظرہ سبھی مناظروں میں جن جن سوالات پر تمہارے مولویوں کی نانی مر گئی تھی وہ سبھی سوالات آج بھی قائم ہیں ۔ لیکن تم ان سوالوں کا جواب دےنے کی بجائے ابلیس لعین کی طرح ڈھٹائی دکھاتے ہو ۔ شاید اسی لئے آپکے مولوی ابلیس کا مزار بنانے کے خواہش مند تھے ۔
مولوی منظور کی مناظروں سے دستبرداری
مولوی منظور صاحب ایک پیشہ ور منہ پھٹ زبان دراز مناظر تھا ۔ بار بار مناظرہ کرتا بار بار شکست فاش سے دوچار ہو تا پھر چیلنج کرتا پھربھاگ جاتا،پھر شیخی و شوخی میں آجاتا ،پھر چیلنج بازی کرتا پھر ہار جاتا اس پر شکستوں کے خول پر خول چڑھے ہو ئے تھے اس کے پاس ضد تھی علم نہ تھا ،ہٹ دھرم اور ضدی تھا ۔ نہ دوسرے کی بات سمجھنے کی اہلیت تھی نہ اپنا مانی الضمیر بیان کر سکتا تھا ،رٹے ہو ئے اور بار بار کے تردید شدہ مضامین بار بار سنا تا رہتا تھا ۔ یہ تھا اس کا مناظرہ اور مناظرانہ استعداد وقابلیت لیکن یہ امام اہل سنت نائب اعلیٰ حضرت سیدی حضرت محدث اعظم پاکستان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی درخشاں وتابندہَ کرامت تھی کہ مولوی منظور صاحب نے آپ سے مناظرہَ بریلی میں عبرتناک شکست کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مناظرہ سے تو بہ کر لی اور کہیں کسی بھی جگہ میدان مناظرہ میں نظر نہ آیا اس کی چرب زبانی یا وہ گوئی کی جارحانہ جراَت وجسارت محدث اعظم علیہ الرحمۃ سے شکست فاش کھانے کے بعد ختم ہو گئی اسی دلکش نظاروں میں (افتراء واعتراف کیا ہے) ۔ ’’مناظرہَ بریلی میں شکست کے بعد ‘‘۷۳۹۱ء;247;(۶۵۳۱ھ;247;) حضرت مولانا(منظور سنبھلی ) نعمانی نے اپنی مساعی جمیلہ کا رخ ملک کے دوسرے عالم حالات کو دیکھ کر دوسری طرف بدل دیا دوسرے تمام کاموں (مناظرہ وغےرہ) سے دلچسپی ختم ہوگئی اور سارے کام چھوڑ چھاڑ کے بس اسی ایک کام کو اپنا لیا یہاں تک کہ بریلی کے اسی تکفیری فتنہ کے رد میں بعض اہم کتابیں جو اس وقت تک لکھی جاچکی تھےں لیکن چھپنے کی ابھی نوبت نہیں آئی تھی ان کے مسودات کی حفاظت کی بھی فکر نہیں رہی بلکہ ان میں دو کتابیں وہ تھےں جن کے خاصے حصے کی کتابت بھی ہو چکی تھی۔۔۔ان کی بھی کتابت رکوادی گئی۔۔۔وہ ساری کاپیاں اور سارے مسودات ضائع ہو گئے ۔ (دلکش نظار صفحہ ۹۱)
بریلوی طبقہ کے ساتھ بحث ومناظرہ کے بارے میں اب حضرت مولانامحمد منظور صاحب نعمانی صاحب کی رائے کافی بدل چکی ہے اور وہ (مولوی منظور سنبھلی) اب ان موضوعات پر ان لوگوں سے مناظرہ اور یہ طریق بحث ومباحثہ پسندی ہی نہیں فرماتے ‘‘ ۔
(دلکش نظارہ صفحہ ۴۲)
نوٹ : مندرجہ بالا عبارت مناظرہ بریلی سے لی گئی ہے
اس طرح سے مولوی منظور کی حالت ہوگئی کہ کبھی مناظرہ کا نام نہ لیا ۔
مرےد شیطانی نے اپنی اس جاہلانہ پوسٹ میں ہر جگہ اعلیٰ حضرت کو نشانہ بنایا ہے اور منہ بھرکر آپ کی شان میں گستاخیاں کیں ہے ۔ ویسے بھی جن کے یہاں اللہ اور اسکے رسول کی شان میں منہ بھر کر گالیاں دی جاتےں ہوں ان سے ہم امید ہی کیا کر سکتے ہیں ہمارے سخت الفاظ صرف اس لئے کہ ان کے مولویوں نے اللہ عزوجل اور اسکے پیارے حبیب ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں اور انکی گالیاں صرف اس لئے کہ ان کے اکابرین کو ہم نے نازیبا الفاظ میں یاد کیا اور یہ بھی صحابہ کی سنت ہے نہ کہ بدعت ۔ میرے آقا کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے ساتھ صحابہ کرام نے بھی کبھی محبت نہ جتائی ۔ بلکہ ان منافقین جنھوں نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی ان کے بارے میں اللہ عزوجل قرآن میں ارشاد فرماتا ہے ’’اے غیب بتانے والے (نبی) کافروں پر اور منافقوں پر جہاد کرو اور ان پر سختی فرماوَ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی برا انجام ۔ (پ:۸۲ ۔ سورۃ التحریم ،آیت ۹)
حدیث مبارکہ میں ہے :جب تم کسی بدمذہب کو دیکھوں تو اس کے سامنے ترش روئی سے پیش آوَ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہر بد مذہب کو دشمن رکھتا ہے ( ابن عساکر جلد ۳۴،ص ۷۳۳)
اسی طرح مرید شیطانی نے مرتضی حسن دربھنگی کے حوالہ سے یہ بات کہی کہ اس نے اعلیٰ حضرت کے گھر کے سامنے بارہا مناظرہ کیلئے چیلنج کیا لیکن امام اہل سنت کے گھر سے کوئی جواب نہ ملا ۔
اس کا جواب علمائے اہل سنت نے اس وقت بھی دے دیا تھا جب کہ مرتضیٰ حسن شیخی بگھارتا گھوم رہا تھا ۔ جس وقت اس نے بمبئی کی سرزمین پر یہ اعلان کیا اسی کے فوراً بعد بمبئی کی عوام نے مولانا حشمت علی لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بلایا اور آپ نے اسی وقت بھرے جلسہ میں یہ اعلان کیا کہ اگر مرتضی حسن اتنا ہی بتا دے کہ اعلیٰ حضرت کے گھر کا دروازہ کس سمت میں ہے تو میں مناظرہ میں اپنی ہار مان جاؤں گا لیکن آپ کے اس اعلان کے بعد بھی مرتضی حسن دیوبندی جسے آپ کی طرح صرف زبان مین زور تھا سامنے نہ آیا ۔
موت کا پیغام دیوبندی مولویوں کے نام
جناب مرید شیطانی کے دماغ میں اس کتاب کا ایسا خوف طاری ہو گےا ہے کہ وہ اپنا دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح کبھی منظور سنبھلی اور اسکے چیلوں کے ہوس ہراس غم ہو ئے تھے ۔
اس کتاب میں بھی وہی سوال قائم تھے جو کبھی منظور سنبھلی کے سامنے مناظرہ بریلی میں ہو تے لیکن کیا کیا جائے منظور سنبھلی جسے دیوبندی بدعتی جماعت نے اپنا سب سے بڑا مناظرمان بیٹھے تھے وہ منطق کے موضوع پر مناظرہ اسلام حضرت علامہ مولانا سرادار احمد رحمہ اللہ علیہ کے شاگردمولانا نظام الدین الہٰ آبادی کے سوال پر اپنا موضوع بدل کر راہ فرار اختےار کر نا چاہا ۔ یہ ہے دیوبند کا وہ مناظر جس پر مرید شیطانی اور اسکے اکابرین فخر کرتے ہیں اور وہ مناظر بریلی کے مناظر اہل سنت کے شاگرد کے ایک سوال کا جواب بھی نہ دے سکا ۔
’’ موت کا پیغام دیوبندی مولویوں کے نام ‘‘اس کتاب پر طنز کرنے والوں کیلئے آج بھی یہ کتاب ایک بڑا سوال کرتی ہے جس کا جواب دیوبندی خیمہ میں نہیں پایا جاتا ،اگر مرید شیطانی نے اس کتاب کو بناء پڑھے ہی اس پر طنز کیا ہے تو ہم اس کتاب کے چند سوالات مرید شیطانی اور انکے جاہل اکابر مولویوں سے کرتے ہیں ۔
اس کتاب میں مولوی اشرفعلی تھانوی کی کتاب حفظ الایمان کی کفریہ عبارات پرجو گفتگو کی گئی ہے وہ ہمارے گھر کی گفتگو نہیں بلکہ خود دیوبندی خیمہ میں ہوئی افراتفریح کو بیان کیا گےا ہے ۔ جسے تم بکواس کہتے ہوں وہ تمہارے ہی گھر کی کتب کے حوالہ سے کی گئی ہے ۔
اشرفعلی تھانوی کی ناپاک عبارت
’’ پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غےب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غےب تو زید وعمرو صبی ومجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کیلئے بھی حاصل ہے ۔ ‘‘
اس ناپاک عبارت میں حضورت پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم شریف کو بچوں ،پاگلوں ،جانوروں چارپایوں کے علم سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میں صریح تو ہین اور کھلی گستاخی ہے ،عرب وعجم ،ہندوسندھ کے علمائے اہلسنت وجماعت ومشاءخ عظام وفضلائے کرام نے اس ناپاک عبارت کو صریح کفر بتاےا اور اس ناپاک عبارت کے لکھنے والے پر کفر کا فتویٰ دیا مگر دیوبندی مولویوں نے اس ناپاک عبارت پر پردہ ڈالنا چاہا اسے صاف وبے غبار بتایا لہٰذا مناظر اہل سنت محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ نے ارادہ کیا کہ ان دہن دوزی کیلئے خود ان کے قرار سے ثابت کر دکھائے کہ یقینا اس ناپاک عبارت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میں تو ہین اور کھلی گستاخی ہے ۔
عبارت حفظ الایمان کی صفائی میں مولوی حسین احمد صاحب صدر دیوبند نے اپنی کتاب الشہاب الثاقب کے صفحہ ۱۱۱ پر عبارت حفظ الایمان کی تو ضیح میں لکھاہے ۔ ’’حضرت مولانا(اشرفعلی تھانوی) عبارت میں لفظ ایسا فرمارہے ہیں لفظ اتنا تو نہیں فرمارہے ہیں اگر لفظ اتنا ہوتا تو اس وقت البتہ یہ احتمال ہو تا کہ معاذ اللہ حضور علیہ السلام کے علم کو اور چیزوں ( بچوں پاگلوں چار پایوں ) کے علم کے برابر کر دیا ‘‘
اس کا مطلب صدر دیوبند کے نزدیک اگر عبارت میں لفظ ’’ایسا‘‘ کی جگہ اتنا ہوتا تو مولوی اشرف علی تھانوی کا کفر واضح ہو جاتا ہے ۔ تو اب ملاحظہ کیجئے لفظ ’’ ایسا‘‘ اتنا کے معنی میں لیا گےا یا نہیں ;238;
مولوی مرتضیٰ حسن دربھنگی صاحب ناظم شعبہ تبلیغ اور مرید شیطانی کے وہ مناظر جس کے ہر جھوٹ کو جناب سچ مان بیٹھتے ہیں اب دیکھتے ہیں مناظرہ کے چیلنج والا جھوٹ تو جناب نے خوب اچھی طرح دل بٹھا لیا اب دیکھتے ہیں یہ عبارت ان کو ہضم ہو تی ہے یا نہیں ۔ دربھنگی صاحب حفظ الایمان کی عبارت مذکور کی شرح میں اپنے رسالہَ توضیح البیان کے صفحہ ۷۱ پر لکھتے ہیں ’’عبارت متنازعہ فیہا( یعنی عبارت حفظ الایمان ) میں لفظ ’’ایسا‘‘ بمعنی ’’اسقدر واتنا ‘‘ ہے ۔ اور اسی رسالہ کے صفحہ ۸ پر ہے واضح ہو کہ ایسا کا لفظ فقط مانند اور مثل ہی ہے معنی میں مستعمل نہیں ہو تا بلکہ اسکے معنی اسقدر اور اتنے کے بھی آتے ہیں جو اس جگہ (عبارت حفظ الایمان میں ) متعین ہیں ۔ ان دونوں عبارتوں کا صاصل یہ ہے کہ حفظ الایمان کی عبارت میں ایسا کے معنے ہی اتنا اور اس قدر کے ہیں ‘‘ ۔
اب بتائیے مرید شیطانی صاحب اب آپ اپنے کس اکابر کو چھوڑے گے اور کس کو ساتھ لیکر چلے گے ۔ عبارت حفظ الایمان کو جس بناء پر آپکے صدر کفریہ بتا رہے ہیں اس کا خلاصہ بھی آپکے جاہل اور منہ پھٹ مناظر نے واضح کر دیا اب بتائیے اب آپ اپنے اس منہ پھٹ جاہل مناظر کی وضاحت کو صحیح مانے گے یا نہیں ۔ اگر مانتے ہیں تو آپ کو کہنا ہو نگا کہ مولوی اشرفعلی تھانوی صاحب بقول مولوی حسین احمد صاحب صدر دیوبند کے کافر ثابت ہوا ۔
اب ذرا آپکے بھگوڑے مناظر کا کیا کہنا ہے اس عبارت حفظ ایمان کو لیکر ملاحظہ فرمائیں ۔
مولوی منظور سنبھلی دیوبندی نے مناظرہ بریلی میں بیان کیا کہ حفظ الایمان کی اس عبارت میں بھی ایسا تشبیہ کیلئے نہیں ہے بلکہ وہ بدون تشبیہ کے اتنا کے معنی میں ہے ‘‘اور ایک دفعہ یہ بیان کیا کہ حفظ الایمان کی عبارت میں بھی جیسے کہ میں بددلائل قاہرہ ثابت کر چکا ہوں ( یعنی لفظ ایسا) بغےر تشبیہ کے اتنا کے معنی میں ہے ۔ پہلی عبارت بریلی کی روئداد مرتبہ وہابیہ دیوبندیہ مسماۃ فتح بریلی کا دلکش نظارہ کے صفحہ ۴۳ پر ہے اور دوسری اسی روئداد کے صفحہ ۰۴ پر ہے اور اسی روئداد کے صفحہ ۸۴ پر ہے ایسا تشبیہ کے علاوہ دوسرے معنوں میں بھی مستعمل ہوتا ہے اور حفظ الایمان کی عبارت میں وہ بلاتشبیہ کے اتنا کے معنی ہوتا ہے ۔
اسکا مطلب اب اگر مرید شیطانی اپنے دونوں بھگوڑے مناظرین کی باتےں مانیں تو صدر دیوبند کی رو سے مولوی اشرف علی تھانوی کافر وگستاخ رسول ثابت ہو تا ۔
اسی کو مناظر اسلام مولانا سردار احمد علیہ الرحمہ نے اپنی اس کتاب’’ موت کا پیغام دیوبندی مولویوں کے نام‘‘ میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے ۔ اور اسکا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نجد کی گندگی میں پلنے والی یہ فتنہ پرور جماعت اعلیٰ حضرت پر نہ جانے کتنے نا زیبا الفاظ صرف اس بناء پر کہے کہ اعلیٰ حضرت نے انکے جعلی حکیم الامت کو بے پردہ کر دیا تھا اب جناب مرید شیطانی ان مولویوں میں سے کس کو گالی دےن گے کیوں کے اگر وہ اپنے دو بھگوڑے مناظرین کی مانیں تو صدر دیوبند کو گالیاں دیں کیوں کہ انھوں نے اسی بناء پر تھانوی کو گستاخ رسول کافر قرار دیا جو صفائی آپ کے بھگوڑے مناظرین نے پیش کی ۔
اسی طرح حفظ الایمان کا کفر بھی باقی رہتا ہے کہ اس پر ایک بھی دلیل خاص نہیں پیش کی گئی سب اپنی ذاتی منطق اوراپنی جانب سے من گھڑت اصولوں کی بناء پر مولوی اشرفعلی تھانوی کی کفریہ عبارت کی تاویل پیش کی لیکن کوئی صحیح تاویل نہ کر سکے اگر واقعی تھانوی کی کفریہ عبارت بے داغ ہو تی تو آپ کے مولویوں کو اپنے ہی گھڑے ہو ئے اصولوں کی بناء پر تاویل کرنے کی نوبت نہ آتی اور وہ آپس میں ہی نہ ٹکراتے ۔
کیا سنی دیوبند کی نقل کرتے ہیں
مرید شیطانی نے جو ایک الزام اہل سنت وجماعت پرلگاےا کہ سنی حضرات دیوبندیوں کی نقل کرتے ہیں ۔ جبکہ یہ انکا اپنا نظریہ ہے بلکہ اہل سنت جماعت نے عوام کی اصلاح کیلئے وہ کام کئے جن سے وہ گمراہ نہ ہو سکے ۔ جس طرح جعلی شہد کے مقابلے اصلی شہد بازار میں لایا جاتا ہے تو اس میں ایک خاص نشان لگاےا جاتا ہے اسی طرح جب بہشتی زیور نامی کتاب کے ذریعے ان کے جعلی حکیم الامت نے لوگوں کو گمراہ کر نا چاہا اور کفر و شرک کا الگ ہی نظریہ پیش کیا تو علمائے اہل سنت نے جس کتاب کو منظر عام پر پیش کیا وہ تھی ’’سنی بہشتی زیور‘‘ یہ وہ کتاب تھی جو ان جعلی مولویوں کی جہالت سے پاک تھی اس میں سنی کا لیبل لگا ہوا تھا اس میں شرک اور کفر کا صحیح بیان پیش کیا گےا تھا ۔ جبکہ مولوی تھانوی نے اپنی کتاب میں ’’دولھے کا سہرہ‘‘ اسے بھی شرک بتاےا تھا جو کہ امت کیلئے نا قابل قبول تھا ۔ اس کے علاہ اس کتاب میں بہت سارے عجیب وغرےب فتنے درج کئے گئے تھے جس کی بناء پر اصل موضوع کو عوام میں پیش کرنا اہل سنت کے علماء پر لازمی ہوگےا تھا ۔ اسکے علاہ ہر جگہ جہاں جہاں مریدشیطانی صاحب نے نقل کا الزام لگاےا سبھی جگہ علمائے اہل سنت عوام کو گمراہی سے بچانے کیلئے یہ کام انجام دئیے ۔
دیوبندیت ایک نیا فتنہ ہے
جس وقت اس فتنہ عظیم نے ہندوستان میں جنم لیا اسوقت یہ گستاخ رسول کے طور پر جانے جاتے تھے اور انکا امام وہابیوں کے دین کی تبلیغ کرتا پھرتاتھا اس وقت اعلیٰ حضرت نہ تھے کہ مریدشیطانی ان پر دیوبندیوں کی تکفےر کا ذمہ دار بنا بیٹھے اس مولوی اسمٰعیل دہلوی کے رد میں کئی کتابیں منظر عام پر آئیں اور علمائے اہل سنت نے سخت گرفت فرمائی ۔ پھر اسکے بعد دیوبند مدرسہ کا وجود عمل میں آیا تو انہیں دیوبندی کہا جانے لگا تو اس کی ایک خاص وجہ تھی کہ جن لوگوں نے اسو قت اسماعیل دہلوی کی تکفےر کی وہ علمائے اہل سنت تھے ۔ اور جن علمائے اہل سنت نے دیوبندیوں کی تکفےر کی وہ بھی اہل سنت تھے اور شروع سے ہی اہل سنت کا ہی بول بالا اس ملک میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں تھا ۔ اس بناء پر جب انکی ملعون منافقین کی تکفےر ہو ئی تو ساری دنیا کے علمائے اہل سنت انہیں کافر و گستاخ رسول ہی مناتے تھے ۔ جیسا کہ تحذیرا الناس کی اشاعت کے بعد خود مرید شیطانی کے نیم حکیم اس بات کی گواہی دےتا ہے ۔ کہتے ہیں
’’ جس وقت مولانا نانوتوی صاحب نے تحذیرالناس لکھی ہے کسی نے ہندوستان بھر میں مولاناکے ساتھ موافقت نہیں کی ۔ بجز مولانا عبدالحئی کے ‘‘( الافاضات الیومیہ جلد چہارم صفحہ ۰۸۲ ملفوظ ۷۲۹)اسی طرح ثلاثہ دیوبندی مذہب ایک اور کتاب ارواح ثلاثہ میں اس کا پوارہ قصہ یوں بیان کیا گےا ۔ (جس وقت نانوتوی صاحب ریاست رامپور تشریف لے گئے )’’ اپنے آپ کو ایک ملازم کی حیثیت سے ظاہر کیا اس لئے کہ خفیہ پہنچیں ۔ جب رامپور پہنچے تو حضرت نے اپنا نام خورشید حسن بتایا اور لکھا دیا اور ایک نہایت ہی غےر معروف سرائے میں مقیم ہوئے اس میں بھی ایک کمرہ چھت پر لیا ۔ یہ زمانہ تھا کہ تحذیرالناس کے خلاف اہل بدعات میں ایک شور بر پا تھا ،مولانا کی تکفےر تک ہو رہی تھی ۔
خود مرید شیطانی کے گھر کے ملعونیوں کی گواہی سے پتہ چلا کہ دیوبندی جماعت ایک نیا فتنہ تھا جو دین اسلام کے نام سے خود وجود رکھتا تھا لیکن اصل میں یہ اسلام سے خارج تھا اور اس فرقہ کے نئے نئے نظریات وعقائد کو دیکھتے ہوئے علمائے اہل سنت نے انکی تکفےر اور پورے ہندوستان میں انکی مخالفت ہو ئی اگر یہ پرانا مذہب ’’مذہب اہل سنت ہو تا تو انکے نظریات پر پورا ملک برہم نہ ہوتا ۔ اور جس طرح علمائے اہل سنت اپنے معمولات وعقائد کو بزرگان دین وصحابہ کرام سے دلیل پیش کرتے ہیں اسی طرح انکے یہاں بھی دلیل پیش کی جاتی نہ انکے بھگوڑے مناظرین کو جاہلانہ منطق کا مظاہرہ کرنا پڑتا ۔
اصل یہ ہے کہ دیوبندیوں نے اہل سنت کی نقل کی
اصل یہ ہے کہ جب یہ فتنہ اپنے نئے نظریات اور باطل عقائد کی بناء پر در در کی ٹھوکریں کھانے لگا تو اس وقت اس فرقے کے مولویوں نے خود کوبظاہر جماعت اہل سنت وابسطہ کیا اور امت کو فریب دینے کیلئے خود سنی کہنے لگے ۔
المہند علی المفند نامی کتاب میں اہل سنت کے عقائد ونظریات اور معمولات کو نقل کرکے اپنے عقائد سے جوڑنے کی کوشش کی اور جب پورا عالم اسلام انکی خباثت کا بائیکاٹ کررہا تھا تو ان کے ناکارہ مولویوں نے اس کتاب کو جنم دیا ۔ اور سنیوں کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کی ۔
خود کو قادری، چشتی،رحمانی و دیگر سلاسل اولیا سے جوڑا یہ بھی اہل سنت کی نقل تھی جبکہ انکے امام اسمٰعیل قتیل صاحب نے واضح طور پر اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں لکھ دیا تھا ’’ اسماعیل قتیل نے تو اپنی کتاب میں آیات قرآنیہ(سورۃ آل عمران کی آیت) کا مفہوم گڑھتے ہوئے لکھا کہ ’’یعنی پہلی قوم کو خدا کا صاف صاف حکم پہنچ چکا تھا کہ فرقہ بندی نہ کرنا لیکن ان لوگوں میں باہمی اختلاف کی بنا پر بہت کچھ فر قے بن گئے ۔ یہودی اور عیسائی بہتر بہتر فرقوں میں بٹ گئے ،اور سزا وار عذاب عظیم بن گئے تم ان کی طرح نہ ہوجانا اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالنا تمہارے پاس قرآن وحدیث ہے جن میں صاف صا ف احکام ہیں خبر دار اپنے دین میں نئی نئی رس میں ۔ نئے نئے عقیدے طریقے نہ نکالنا اور جماعت میں پھوٹ نہ ڈال دینا ۔ لیکن افسوس مسلمانوں کو جس بات سے روکا گیا تھا انھوں نے وہی بات کی ۔ کوئی معتزلی ہے کوئی خارجی ۔ کوئی رافضی ہے کوئی شیعہ ۔ کوئی جبری ہے کوئی قدری ۔ کوئی مر جیہ ہے کوئی بال رکھ کر چارا برو کا صفایا کرکے فقیری جتارہا ہے ۔ کوئی قادری ہے کوئی سہر وردی ۔ کوئی نقشبندی ہے کوئی چشتی ،کوئی حنفی ہے کوئی شافعی کوئی حنبلی ہے کوئی مالکی کوئی قادیانی ہے کوئی چکڑالوی ۔ کوئی بر یلوی ہے اور کوئی دیوبندی ،حق تو یہ تھا کہ سب مل کر قرآن واحادیث پر عمل کرو اور سنت کے مطابق پکے مسلمان بن جاوَ‘‘ ۔
(تقویۃ الایمان صفحہ 81،کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)
مولوی اسماعیل قتیل کی اس عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے نزدیک یہ کفار کی طرح الگ الگ فرقے ہیں ۔ لیکن کیا جائے اگر ان دیوبند کے منافقین کو اپنا اصل چہرا چھپانا تھا تو ضروری تھا کہ سنیوں کی نقل کی جائے اور پھر ا سکے بعد کیا ہوا ان میں بھی کوئی رحمانی ،بن گیا کوئی قادری بن گےا کوئی چشتی بن گےا اور کوئی سنیوں کی نقل کرتے ہو ئے غریب نواز کی درگاہ پر چادر لئے چلا جارہا ہے ۔
تو بتائیے اپنی پہچان چھپانے کیلئے تم نے یہ سب سنیوں کی نقل کی یا نہیں ;238;
اس کے بعد ہم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں منعقد کی جس کے بدلے میں تم سیرت النبی کے جلسے منعقد کئے ۔ جبکہ یہ بھی آپ کے ہی اکابرین کے اصولوں کی بناء پر بدعت تھا ۔

Comments