Tahzeerunnas Aur Fitnaye Deobandiyat-part 9
تحذیرالناس اور فتنہ دیوبندیت(نویں قسط)
از سعد حنفی
میرے عزیز دوستوں ہم تحذیرالناس کی اس کفریہ عبارت پر خود انکے گھر کی وضاحت پیش کردی ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا بعد خاتم الانبیاء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے زمانہ میں آنا ہے تو انہیں خود انکے گھر کی کتابوں سے مثال دی جاچکی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا الگ بات ہے لیکن نیا نبی پیدا ہونا الگ بات ہے۔
تحذیرالناس کی اس کفریہ عبارت کی شروع میں ہی مولوی قاسم نانوتوی نے حضور علیہ السلام کی خاتمیت کو باب فضائل سے کاٹنے کی کوشش کی ہے یا پھر یوں کہے کہ اس نے آپ کی خاتمیت نبوت کو باب فضیلت میں شمار ہی نہیں کیا بلکہ آپ کی اس فضیلت کا انکار بھی کیا ہے۔ملاحظہ ہو مولوی قاسم نانوتوی کا اپنا من گھڑت نظر یہ جو نہ کسی صحابہ سے ملتا ہے اور نہ ہی کسی بھی بزرگان دین سے جو کہ عقائد اہل سنت سے بغاوت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

”بعد حمد وصلوٰۃ کے قبل عرض جواب یہ گذارش ہے کہ اول معنی خاتم النبین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ وقت نہ ہو سو عوام کے خیال میں تو رسول صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمایا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے“(صفحہ ۳) اس عبارت میں صاف صاف مذکور ہے کہ ”عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہو نا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں۔مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تأ خر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں،پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمایا اس صور ت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔“جبکہ ہر مسلمان قطعاً یقینا جانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبین ہونا بلاشبہ اس معنی میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ انبیاء سابقین کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں یہ عقیدہ اور اسی طرح یہ عقیدہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہیں جن کا منکر مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اب یہاں بھی انکا کفر واضح ہو گیا اوراس دیوبندی مولوی نے اپنی اس کفریہ عبارت کی ابتدا میں اپنا پہلا کفر بک دیا اور واضح کردیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کا منکر ہے۔اب یہاں بات غور طلب ہے کہ جس مولوی کے نزدیک حضور علیہ السلام کا خاتم النبین ہونا ہی حضور ﷺ کی خصوصیت کی نفی ہو اس کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے والی تاویل کس طرح کی جاسکتی ہے۔دیوبندی حضرات ایک طرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتم النبیین ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے مولوی کی ا قتدا میں لگے ہو ئے ہیں کہ جس کے نزدیک آپ علیہ السلام کا خاتم النبین ہونا مقام مدح ہی نہیں۔ایک جاہل دیوبندی سے ہماری گفتگو ہو ئی جس میں اس نے بڑے دعویٰ سے یہ بات کہی کہ ہم اور علمائے دیوبند حضور علیہ السلام کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور جب اس سے پو چھا گیا کہ خاتم النبین کا معنی تو بتائیے تو اس نے وہی بات کی جو قاسم نانوتوی نے عوام کے بارے میں کہا، مطلب علمائے دیوبند میں کوئی بھی اہل فہم نہیں ہے کیوں قاسم نانوتوی کے نزدیک تو حضور علیہ السلام کو آخری نبی تسلیم کرنا اور یہ اقرار کرنا کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے بعد میں ہے اور آپ کو سب نبیوں کے آخر میں بھیجا گیا ہے یہ تو عوام کا خیال ہے اہل فہم کا خیال نہیں۔مطلب علمائے دیوبند تو ہیں ہی بد عقل لیکن اس بدبخت مولوی نے تو صحابہ کرام وتمام بزرگان دین کو بھی اسی فہرست میں لاکھڑا کردیا تو اب سوال یہ آتا ہے کہ اس بدبخت کے نزدیک اہل فہم ہے کو ن؟تو ظاہر سی بات ہے جو اسکے ہم خیال ہو وہ ہی اس کے مطابق اہل فہم ہے اور وہ اہل فہم غلام احمد قادیانی ہی ہو گا جس نے قاسم نانوتوی کی عبارت پر اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے اور انہیں نظریات کے پیش نظر حضور علیہ السلام کے خاتم النبیین ہونے کو مقام مدح نہیں مانا اور خود کو وہی نبوت کا دعویدار بنا بیٹھا جس کا چور دروازہ جناب مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے کھولا تھا۔غلام احمد قادیانی ہو یا فتنہ شکیلیت یہ دونوں ہی انہیں اہل فہم میں شمار کئے جائے گے جس کی فہرست دیوبندی مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے تیار کی ہے۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین کا معنی یہ لیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا وہ تو بقول قاسم نانوتوی عوام مطلب کم عقل لوگ ہیں جیسا کہ اپنے جملے میں مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے خود آگے اہل فہم کا ذکر کرکے عوام کے مقابل میں پیش کیا مطلب عوام سے مراد بے عقل اور نا سمجھ لوگ اور اہل فہم کا مطلب تو ویسے بھی دانشمند اور عقلمند ہو تا ہے۔اب یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ”اہل فہم پر روشن ہو گا کہ آپ کا خاتم النبین ہونا مقام مدح میں نہیں مطلب وہی لوگ اہل فہم ہیں“جس سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ دیوبندی مولویقاسم نانوتوی صاحب کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی اور شکیل بن حنیف جیسے لوگ ہی اہل فہم ہیں باقی تمام صحابہ کرام و بزرگان دین وعلمائے احناف اہل سنت سبھی کے سبھی عوام مطلب ناسمجھ اور بد عقل ہیں
(معاذ اللہ)
(اگلی قسط میں باقی مضمون ملاحظہ فرمائیں)
نوٹ: تحریک تحفظ ختم نبوت میں ہمارا ساتھ اور قادیانیت اورقادیانی جیسوں کیلئے راہ ہموار کرنے والے دیوبندی دھرم کا مکمل بائیکاٹ کریں۔دیوبندی دھرم کو اپنا کر قادیانیوں کا رد ممکن نہیں اسکی ایک مثال سنہ ۳۷۹۱ میں سامنے آئی تھی۔جس میں قادیانیوں نے اسی تحذیرالناس کا حوالہ دے کر دیوبندی دھرم اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کے منہ بند کر دئیے تھے۔
از سعد حنفی
میرے عزیز دوستوں ہم تحذیرالناس کی اس کفریہ عبارت پر خود انکے گھر کی وضاحت پیش کردی ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا بعد خاتم الانبیاء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے زمانہ میں آنا ہے تو انہیں خود انکے گھر کی کتابوں سے مثال دی جاچکی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا الگ بات ہے لیکن نیا نبی پیدا ہونا الگ بات ہے۔
تحذیرالناس کی اس کفریہ عبارت کی شروع میں ہی مولوی قاسم نانوتوی نے حضور علیہ السلام کی خاتمیت کو باب فضائل سے کاٹنے کی کوشش کی ہے یا پھر یوں کہے کہ اس نے آپ کی خاتمیت نبوت کو باب فضیلت میں شمار ہی نہیں کیا بلکہ آپ کی اس فضیلت کا انکار بھی کیا ہے۔ملاحظہ ہو مولوی قاسم نانوتوی کا اپنا من گھڑت نظر یہ جو نہ کسی صحابہ سے ملتا ہے اور نہ ہی کسی بھی بزرگان دین سے جو کہ عقائد اہل سنت سے بغاوت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

”بعد حمد وصلوٰۃ کے قبل عرض جواب یہ گذارش ہے کہ اول معنی خاتم النبین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ وقت نہ ہو سو عوام کے خیال میں تو رسول صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمایا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے“(صفحہ ۳) اس عبارت میں صاف صاف مذکور ہے کہ ”عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہو نا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں۔مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تأ خر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں،پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمایا اس صور ت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔“جبکہ ہر مسلمان قطعاً یقینا جانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبین ہونا بلاشبہ اس معنی میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ انبیاء سابقین کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں یہ عقیدہ اور اسی طرح یہ عقیدہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہیں جن کا منکر مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اب یہاں بھی انکا کفر واضح ہو گیا اوراس دیوبندی مولوی نے اپنی اس کفریہ عبارت کی ابتدا میں اپنا پہلا کفر بک دیا اور واضح کردیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کا منکر ہے۔اب یہاں بات غور طلب ہے کہ جس مولوی کے نزدیک حضور علیہ السلام کا خاتم النبین ہونا ہی حضور ﷺ کی خصوصیت کی نفی ہو اس کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے والی تاویل کس طرح کی جاسکتی ہے۔دیوبندی حضرات ایک طرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتم النبیین ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے مولوی کی ا قتدا میں لگے ہو ئے ہیں کہ جس کے نزدیک آپ علیہ السلام کا خاتم النبین ہونا مقام مدح ہی نہیں۔ایک جاہل دیوبندی سے ہماری گفتگو ہو ئی جس میں اس نے بڑے دعویٰ سے یہ بات کہی کہ ہم اور علمائے دیوبند حضور علیہ السلام کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور جب اس سے پو چھا گیا کہ خاتم النبین کا معنی تو بتائیے تو اس نے وہی بات کی جو قاسم نانوتوی نے عوام کے بارے میں کہا، مطلب علمائے دیوبند میں کوئی بھی اہل فہم نہیں ہے کیوں قاسم نانوتوی کے نزدیک تو حضور علیہ السلام کو آخری نبی تسلیم کرنا اور یہ اقرار کرنا کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے بعد میں ہے اور آپ کو سب نبیوں کے آخر میں بھیجا گیا ہے یہ تو عوام کا خیال ہے اہل فہم کا خیال نہیں۔مطلب علمائے دیوبند تو ہیں ہی بد عقل لیکن اس بدبخت مولوی نے تو صحابہ کرام وتمام بزرگان دین کو بھی اسی فہرست میں لاکھڑا کردیا تو اب سوال یہ آتا ہے کہ اس بدبخت کے نزدیک اہل فہم ہے کو ن؟تو ظاہر سی بات ہے جو اسکے ہم خیال ہو وہ ہی اس کے مطابق اہل فہم ہے اور وہ اہل فہم غلام احمد قادیانی ہی ہو گا جس نے قاسم نانوتوی کی عبارت پر اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے اور انہیں نظریات کے پیش نظر حضور علیہ السلام کے خاتم النبیین ہونے کو مقام مدح نہیں مانا اور خود کو وہی نبوت کا دعویدار بنا بیٹھا جس کا چور دروازہ جناب مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے کھولا تھا۔غلام احمد قادیانی ہو یا فتنہ شکیلیت یہ دونوں ہی انہیں اہل فہم میں شمار کئے جائے گے جس کی فہرست دیوبندی مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے تیار کی ہے۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین کا معنی یہ لیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا وہ تو بقول قاسم نانوتوی عوام مطلب کم عقل لوگ ہیں جیسا کہ اپنے جملے میں مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے خود آگے اہل فہم کا ذکر کرکے عوام کے مقابل میں پیش کیا مطلب عوام سے مراد بے عقل اور نا سمجھ لوگ اور اہل فہم کا مطلب تو ویسے بھی دانشمند اور عقلمند ہو تا ہے۔اب یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ”اہل فہم پر روشن ہو گا کہ آپ کا خاتم النبین ہونا مقام مدح میں نہیں مطلب وہی لوگ اہل فہم ہیں“جس سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ دیوبندی مولویقاسم نانوتوی صاحب کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی اور شکیل بن حنیف جیسے لوگ ہی اہل فہم ہیں باقی تمام صحابہ کرام و بزرگان دین وعلمائے احناف اہل سنت سبھی کے سبھی عوام مطلب ناسمجھ اور بد عقل ہیں
(معاذ اللہ)
(اگلی قسط میں باقی مضمون ملاحظہ فرمائیں)
نوٹ: تحریک تحفظ ختم نبوت میں ہمارا ساتھ اور قادیانیت اورقادیانی جیسوں کیلئے راہ ہموار کرنے والے دیوبندی دھرم کا مکمل بائیکاٹ کریں۔دیوبندی دھرم کو اپنا کر قادیانیوں کا رد ممکن نہیں اسکی ایک مثال سنہ ۳۷۹۱ میں سامنے آئی تھی۔جس میں قادیانیوں نے اسی تحذیرالناس کا حوالہ دے کر دیوبندی دھرم اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کے منہ بند کر دئیے تھے۔
Comments