Tahezeerunnas Aur Fitnaye Deobandiyat Quist-8

:از سعد حنفی
دیوبندی حضرات پہلے اپنے اس مولوی کی کفریہ عبارت کو ہی پڑھ لیتے اور اگر انکے اعتقاد ایسے نہ ہوتے
 جیسے انکے بدفعلی مولوی نے بیان کیا ہے تو جس قاسم نانوتوی کے بارے میں یہ صفائی پیش کی جارہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سب نبیوں سے پہلے نبی تھے اور آدم علیہ السلام ودیگر انبیاء آپ کے بعد پیدا ہوئے ۔اس تاویل سے باز آجاتے کیوں کہ خود قاسم نانوتوی نے واضح طور پر تحریر کیا ہے کہ ’’غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے ‘‘۔(ص:۱۳) اب یہاں تو خود مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے ہی اپنے ان اندھے جاہل مقلدین کے منہ پر تھوک دیا کہ آپ کچھ بھی تاویل گڑھو میں اپنے کفر سے باز نہ آؤ گا ۔نانوتوی صاحب کے مریدین تو انہیں بچا نے کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء سے اول مان کر بعد کے انبیاء کا پیدا ہونا پیش کردیا جبکہ قاسم نانوتوی صاحب نے تو گزشتہ انبیاء کے زمانے کو سامنے رکھ کر واضح کردیا کہ وہ کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں اور انکے مریدین تاویل کچھ اور گڑھ رہے ہیں ۔اندھے مقلدین کے نزدیک پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان سے پہلے کوئی اور نبی موجود نہیں تو یہاں قاسم نانوتوی صاحب کن گزشتہ انبیاء کی بات کررہے ہیں ۔اور وہ بھی آگے یہاں تک اپنے کفر کو واضح بیا ن کررہے ہیں کہ ’’اگر آپ کے زمانہ میں کوئی نبی موجود ہو ‘‘ مطلب یہاں تو آپ کے مولوی نے تو کھلا اقرار کردیا ہے کہ ان کا نظریہ اسی دور کی نشاندہی کررہا ہے جس دور کو خاتم الانبیاء کادور کہا جاتا ہے اور وہ ہیں کہ اپنی ڈھٹائی پر اڑے ہوئے ہیں کہ ’’بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہوتو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئیگا ۔‘‘اب یہاں اندھے مقلدین کو سمجھنا چاہئے کہ خود مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے واضح کردیا کہ وہ دورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ظاہری کا ہے نہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے کا ۔
مندرجہ بالاعبارت سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ مولوی قاسم نانوتوی صاحب اپنے کفر پر ڈٹے ہو ئے ہیں اور انکے مقتدی ہیں بھی ایسے جنھیں کچھ بھی منوایا جائے وہ مان لے گے ۔
ایک جاہل دیوبندی نے تاویل میں کہا کہ یہاں قاسم نانوتوی صاحب نے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی نبی آنے کا جو نظریہ بتایا وہ صحیح ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہو نا اپنی جگہ ہے اور آپکے بعد نبی کا آنا بھی صحیح ہے مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے خاتم النبیین کے خاتم ہونے پر کوئی فرق نہیں آئے گا ۔مطلب حضور کے بعد نبی کا آنا سے مراد حضرات عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔
جہاں دیوبندیت وہاں جہالت ۔یہ بالکل حقیقت بات ہے اسطرح کی تاویل وہی مانے گا جو انہیں کی طرح جاہل اور عقل سے اندھا یا بقول بدفعلی تھانوی کے اس کے اعتقاد گدھے کے عضو تناسل کی مانند ہو گا ۔اہل سنت کا نہ اعتراض سمجھتے ہیں نہ اپنے مولوی کا کفر ۔علمائے اہل سنت نے ان سب باتوں پر نہیں بالکل نانوتوی صاحب کے قول یعنی حضور کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو جائے اس پر گرفت کی نبی کے آنے کی بات نہیں نبی کے پیدا ہونے کی بات ہے جیسے دیوبندیوں کے اس فتنے سے غلام احمد قادیانی پیدا ہوا ،شکیل بن حنیف پیدا ہوا ۔اور بات رہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تو آپ اتارے جائے گے ناکہ دوبارا پیدا کئے جائے گے اللہ عزوجل نے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس بشریت میں بھیجنے سے پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرما دیا اب دوبارہ آپ پیدا نہیں ہو نگے بلکہ آپ اسی وقت سے حیات ہیں اور آپ کو حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اتارا جائے گا نہ کہ آپ کی کوئی الگ امت ہو گی ۔
دیوبندی مولوی امین صفدر اوکاڑوی نے’’خطبات صفدر جلد۱ کے صفحہ نمبر ۴۲ ‘‘ پر واضح کردیا ہے کہ ’’عام طور دین دشمن دھوکہ دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے یہ دو عقیدے آپس میں متضاد ہیں ۔ایک طرف وہ یہ کہتے ہیں کہ محمد رسو ل اللہ ،اللہ کے آخری رسول ہیں اور دوسری طرف ان کا یہ عقیدہ ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہم السلام دوبارہ تشریف لائیں گے ۔ہم مسلمان کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام پہلے 


انبیاء علیہم السلام میں سے ہیں آپ (عیسیٰ) کے آنے سے نبیوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ‘‘۔
دیوبندی مولوی امین صفدر کے مطابق بھی عیسیٰ علیہ السلام پہلے پیدا ہو چکے اب انہیں اتارا جائے گا ان کے آنے سے انبیاء کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ۔جبکہ اگر نانوتوی صاحب کے کفریہ کلمات پر غور کیا جائے تو جناب نے نئے نبی کو پیدا کرنے کی بات کی ہے مطلب جتنے انبیاء علیہم السلام کی تعداد طے ہو چکی اور ان میں سب کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بناکر بھیجا گیا لیکن اب نانوتوی صاحب ایک اور نبی کے اضافہ کی بات کررہے ہیں اوراپنے اندھے مقلدین سے دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں کوئی فرق نہ آئے گا ۔جبکہ مولوی قاسم نانوتوی کا دعویٰ تمام صحابہ کرام ،بزرگان دین ،ائمہ اہل سنت احناف سبھی کے خلاف جارہا ہے پھر بھی دیوبندی ہیں کہ تمام صحابہ کرام ،بزرگان دین ،ائمہ اہل سنت واحناف سے بغاوت کرتے ہو ئے اس گستاخ مولوی کی تائد میں اپنی عقلیں لڑا رہے ہیں اور جہالت سے پر باطل تاویلات کو پیش کررہے ہیں ۔
جس طرح نبیوں کی تعداد مکمل ہو چکی اب کوئی نیا نبی نہیں پیدا ہو گا اور پہلے انبیاء کا بعد میں دوبارا تشریف لانا آپ کی خاتمیت پر کوئی فرق نہیں آنے دے گا کیونکہ اب کوئی بھی نبی آئے گا تو وہ آپ کی امت میں آئے گا ۔لیکن اگر کوئی کہے کہ بالفرض آپکے زمانے میں یا آپکے بعد کوئی نبی پیدا ہو جائے تب بھی آپ کا خاتمیت پر کوئی فرق نہیں آئے گا ۔تو وہ باطل ہے ۔اس بات کو ایک آسان سی مثال کے ذریعے سمجھانا چاہتا ہو ۔جسے دیوبندی مولوی امین صفدر صاحب نے خطبات صفدر میں تحریر کیا ہے کہ ۔قرآن میں سورتوں کی تعدادایک سو چودہ(۱۱۴) ہیں اب اگر پہلی سورہ کو آخر میں کردیا جائے اور آخر سورہ سورہ الناس کو پہلے کردیا جائے تو قرآن تو ہی ہے اس میں اتنی ہی سورہ مانی جائیں گے اور سورہ الناس آخری سورہ کہلائے گی ۔اب یہاں اس بات پر غورکیجئے کہ اگر بقول نانوتوی صاحب کے بالفرض قرآن میں ایک اور سورہ پیدا کی جائے (یا اضافہ کردیا جائے) تب بھی قرآن میں ۱۱۴ سورتیں ہوگی ۔
اب یہاں قارئین غور کریں کہ قاسم نانوتوی کے جملے میں کیا فرق ہے کیا ۱۱۴ میں ایک کا اضافہ اسے ۱۱۵ نہیں بنائے کیا ایک اضافہ کے بعد بھی وہ ۱۱۴ ہی رہے ۔اور جو ۱۱۴ میں ایک اضافہ کے بعد بھی یہی کہے کہ ۱۱۵ نہیں یہ ۱۱۴ ہی ہے وہ حقیقت میں جاہل ہو گا ۔
(اگلی قسط میں باقی مضمون ملاحظہ فرمائیں)
نوٹ : تحریک تحفظ ختم نبوت میں ہمارا ساتھ اور قادیانیت اورقادیانی جیسوں کیلئے راہ ہموار کرنے والے دیوبندی دھرم کا مکمل بائیکاٹ کریں ۔دیوبندی دھرم کو اپنا کر قادیانیوں کا رد ممکن نہیں اسکی ایک مثال سنہ ۱۹۷۳ میں سامنے آئی تھی ۔جس میں قادیانیوں نے اسی تحذیرالناس کا حوالہ دے کر دیوبندی دھرم اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کے منہ بند کر دئیے تھے ۔

Comments

Popular posts from this blog

یہ د رد کس کے لئے ہے؟

Bidatiyon Ke Propagende Part 4

Hussamul Harmain Par Bahes Kio????