اسلامی تعلیمات اور Self Help Courses Books
✍تحریر : فرحان قادری عفی عنہ
اسلامی تعلیمات اور Self Help Courses Books
کچھ عرصہ قبل مجھے بھی سیلف ہیلپ کورس کی کتابوں کو پڑھنے کا شوق چڑھا جو ابھی بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ باقی ہے. میں مزید کتابوں کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں بھی رہتا ہوں. میں ان کتب کی افادیت کا منکر ہرگز نہیں. اس کے ساتھ یہ دیکھنے کو بھی آیا ہے کہ پاکستانی سیلف اسپیکر قاسم علی شاہ صاحب بھی اپنے جوبن پر ہیں کہ پاکستان میں سیلف کورسس کے ذریعے نوجوان نسل کی سوچ میں نئی روح پھونکنے میں کوشاں ہیں یہ قدم بھی قابل تحسین ہے .............لیکن
ایک بات بیان کرنا ضروری سمجھو گا کہ سیلف ہیلپ کورسس کتب میں جتنا بھی مواد جمع ہیں ان کا اکثر حصہ اسلامی تعلیمات سے میل کھاتا ہے. جن محقق اسکالرز نے یہ کتابیں لکھی ہیں، انہوں نے کامیاب اور پر سکون زندگی گزارنے کے جو اصول بیان کیے ہیں وہ تقریباً اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں. یہ بات شاید میرے دل میں ہی رہتی، لیکن اس کا اظہار کرنے پر مجھے آمادہ اسٹیفن آر کووے کی کتابSEVEN HABITS OF HIGHLY EFFECTIVE PEOPLE کا اردو ترجمہ کرنے والے ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کی اس بات نے کیا ہے جو انہوں نے خود اس کتاب کے متعلق لکھی کہ "اس میں ہمارے مشرقی ماحول، روایات اور سوچ کی بہت باتیں کی گئی ہیں"
اس کے علاوہ M. R KOPMEYR, BRINE TRACY,DR DAVID J SCHWARTZ اور مردولال اگروال، وغیرہ کی کتب جو میرے پاس موجود ہیں ان کا حال بھی ملتا جلتا ہی ہے...
اسلامی تعلیمات اور ان سیلف ہیلپ کورسس کتابوں میں دو طرح سے فرق ہے.
اول : اسلامی تعلیمات میں تھیوریز بیان کی گئی ہیں جبکہ سیلف کورسس اسکالرز نے تجربات و مشاہدات کے ذریعے اصول کو بیان کیا ہے... اور جو اصول نکلے وہ اسلامی تعلیمات کی تھیوریز ہی نکلی.. میں یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے اسلامی اصولوں کو چوری کیا ہے اور ایسا کہنا بلا دلیل بالکل غلط ہے. لیکن میں یہ ضرور کہنے کا حق دار ہوں کہ تحقیقات کے بعد جو اصول انہوں نے بنائے وہ پہلے اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں گویا کہ وہ شعوری یا لاشعوری طور پر اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ کامیاب زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ اسلام ہی ہے
دوم: ان محققین کے اصول کا مرکز دنیاوی زندگی ہے بعد موت سے اس کا کوئی تعلق نہیں. صرف اور صرف اس زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے اصول ہیں جبکہ اسلام کی تعلیمات کا مقصد بعد موت فلاح وکامیابی ہے... جب آخرت پر نظر رکھ کر، اللہ کی رضا کے لیے ان اصولوں کے مطابق زندگی گزاری جائے تو آخرت تو سنورے گی ہی لیکن اس کے ضمن میں دنیا میں کامیابی حاصل بھی حاصل ہو جائے گی.
قبل اس کے کہ کوئی شخص یہ گمان کر رہا ہو کہ دعوی تو جناب آپ نے کر دیا آپ اس پر کوئی دلیل بھی دیں تو مضمون کے لمبا ہونے کے خوف سے صرف چند مثالوں پر اکتفا کرتا ہوں
میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
بشروا ولاتنفروا يسروا ولا تعسروا (بخاری و مسلم)
خوشخبریاں دو. نفرت نہ پھیلاؤ... آسانیاں پیدا کروں تنگی نہ کرو
یہی بات the ten rules of happiness کے دوسرے اصول میں بیان کی گئی
خوشی پھیلائیں
جب آپ خوشیاں پھیلاتے ہیں تو اس کا کچھ حصہ آپ کے ساتھ چپک جاتا ہے pg18
The magic of thinking big
کے صفحہ 139 پر ڈاکٹر ڈیوڈ لکھتا ہے
اچھی خبر بتائیں : جب کوئی کہتا ہے کہ میرے پاس اچھی خبر ہے تو سب لوگ اس کی جانب متوجہ ہوجائیں گے اچھی خبر سے لوگ خوش ہوتے ہیں..................... بری خبر دینے والے لوگ کبھی دوست نہیں بنا سکتے، پیسہ نہیں کما سکتے اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتے.
قرآن پاک میں ہے.... ولا تجسسوا
ایک دوسرے کے عیب تلاش مت کرو
ایم آر کوپ مییر how you can get richer quicker میں لکھتا ہے..سب سے پہلے میری اس بات کو ذہن نشین کر لیں آپ دوسروں کے نقائص اور یا ان کی خامیاں تلاش نہیں کریں گے.
اللہ تعالٰی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ ﴿۱۵۹﴾ پارہ 4
اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں،
حدیث پاک ہے : جس نے مشورہ کیا وہ نادم نہیں ہو گا. (مجم اوسط حدیث 6627)
مشورہ اور پکا ارادہ و یقین
مشورے کے متعلق ایم آر کوپ مییر لکھتا ہے: کامیابی کےلیے مشورہ ضروری ہے.
پکا ارادہ اور یقین دو ایسی عادتیں ہیں میرے مطالعے میں آنے والی سیلف کورسس بکس میں شاید کسی اور اصول پر اتنا زور نہیں دیا گیا جتنا ان دونوں پر دیا گیا ہے... گویا کہ جس شخص کو یہ دو چیزیں حاصل ہوگئی وہ ضرور کامیاب ہو گا..
Maximum achievement
کے صفحہ 131 پر برائن ٹریسی یقین کے متعلق اپنے تجربات لکھنے کے بعد لکھتا ہے " یہ بہت سادہ سی تکنیک ہے لیکن ذہن اعلی کے قانون کی وجہ سے بہت ہی طاقتور ہے اس تکنیک کو آپ لوگ آزما کر دیکھیں آپ ضرور کامیاب ہوں گے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کے ذہن م
یں شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے" .
اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے:
لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ
اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دونگا.
ایم آر کوپ مییر لکھتا ہے
جوں جوں آپ اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں آپ کی دولت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے 117
حدیث پاک: بندہ کسی کا قصور معاف کرے تو اللہ اس کی عزت بڑھائے گا( مسلم )
برائن ٹریسی لکھتا ہے : اگر کسی نے آپ کو نقصان پہنچایا ہے تو آپ بھی اسے دل سے معاف کردیں کیونکہ احساس جرم سے انسان کئی قسم کی ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو سکتا ہے.
طوالت کےخوف سے اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور یہ صرف چکھنے کے برابر وگرنہ یہ ایسا موضوع ہے جس پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے. مذکورہ امثلہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیلف ہیلپ محققین آج جس نتیجے پر پہنچے ہیں اسلام نے وہ 14 صدیاں پہلے ہی بتا دیا
آخر میں.....
ہمارے وہ بھائی جو ان کتابوں اور کورسس میں مشغول ہیں انہیں چاہیے کہ قرآن، احادیث اور علماء و صوفیا کے اقوال پر بھی اپنی گہری نظر رکھے اسلام حقانیت آفتاب کی طرح روشن اور دلوں میں راسخ رہے گی. سیلف ہیلپ کتب میں سے ایک اسلامی سیلف ہیلپ کتاب"احیاء العلوم" بھی ہے.
مدارس سے تعلق رکھنے والے طلباء کو یہی مشورہ ہے کہ جہاں ہم دینی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں وہی ان کتابوں کی طرف بھی رجوع کرنا چاہیے کہ جہاں یہ اسلام کے بارے میں ہمارے یقین کو مزید پختگی بخشے گئیں، وہیں ہم زندگی گزارنے اور کامیابی حاصل کرنے کے اصول و قوانین کے ایک نئے رنگ سے بھی واقف ہو جائیں گے...
✍تحریر : فرحان قادری عفی عنہ
Comments