Eide meeladunnabi par mufiko ko jawab
٭عید میلادلانبی ﷺپر منافقین کے اعتراضات اور انکے جواب٭
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :حضور نبی اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہودی یو م عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں ۔آپ ﷺ نے ان سے اس دن روزہ رکھنے کا سبب دریافت فر مایا تو انھوں نے جواب دیا : یہ دن ہمارے لئے متبرک ہے ۔یہ وہ مبارک دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن ( فرعون) سے نجات دلائی ۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا ۔آپ ﷺ نے فرمایا تم زیادہ موسیٰ علیہ السلام کا حق دار میں ہوں۔چنانچہ آپﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم فر مایا ‘‘۔(بخاری،کتاب الصوم،باب یوم عاشورہ،جلد ۲: صفحہ :۷۰۴)
ایک روایت میں یہودیوں کا جواب اور حضور نبی اکرم ﷺ کا فر مان اس طرح منقول ہے :انھوں نے کہا :یہ بہت عظیم دن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات عطا کی جب کہ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا۔حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر اسی دن روزہ رکھا ،لہٰذا ہم بھی روزہ رکھتے ہیں ۔اس پر حضور ﷺ نے فر مایا تمہاری نسبت ہم موسیٰ کے زیادہ حق دار اور قریبی ہیں۔پس اس دن آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم فر مایا ‘‘۔(مسلم شریف ،کتاب الصیام،باب صوم عاشورہ جلد:۲۔صفحہ : ۷۹۶)
مندرجہ بالا حدیث شریف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کی نعمت پر شکر ادا کرنا اور اس کیلئے دن کا تعین سابقہ امت میں بھی جاری تھا اوراس فعل کو خود ہمارے نبی کریمﷺ نے پسند فر مایا اسی لئے جب آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے مقابلہ میں کامیابی پر شکرانہ ادا کرتے ہوئے اور انکی قوم کو اس پر عمل کرتے ہو ئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فر مایا ہم موسیٰ ( علیہ السلام ) کے زیادہ حقدار ہیں ۔
اسی حدیث کی روشنی میں بہت سارے علمائے اہل سنت نے فیصلہ کیا کہ جب قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرعون کے ظلم س ے نجات بخشی تو لوگوں نے اس دن کو خوشی کا دن منایا اور اس دن شکرانے کا روزہ بھی رکھا تو ۔وہ دن کتنا مبارک ہو گا جس دن دونوں جہان کی رحمت،رحمۃ اللعالمین کی تشریف آوری اس دنیا میں ہو ئی ۔تو اس دن خوشی کیوں نہ منائی جائے جبکہ اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت تو نبی کریم ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری ہی ہے ۔تو عاشقان مصطفی نے اس دن کو عید میلادلالنبی کا نام دے کر منانا شروع کر دیا لیکن کچھ منافقین کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھنا اورقوم موسیٰ ( علیہ السلام) کی خوشی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن عاشقان مصطفی ﷺکا میلاد راس نہیں آتا ۔
اور ربیع لاول کا مہینہ شروع ہوتے ہی نئے نئے فتنے پھیلانا شروع کردیتے ہیں ،کہیں کہتے ہیں کہ ’’نبی کریم ﷺ نے کب اپنا میلاد منایا،صحابہ نے کب میلادالنبی منایا،محدثین نے کب منایا ،بزرگان دین نےکب منایا ،ان سب نے کبھی میلاد النبی ﷺ نہیں منایا تو آج کیوں مناتے ہیں ؟
منافقین کے یہ اعتراضات انکی جہالت کی دلیل ہے اسلئے کہ ،نبی کریم ﷺ ،صحابہ کرام ،محدثین اور سبھی بزرگان دین نے میلادالنبی ﷺ منانے اور اسکی حمایت کا اظہار کیا لیکن ان جاہل منافقین کو نظرنہیں آتا�أ
*اب کوئی منافق یہ بھی سوال کر سکتا ہے کہ یہ کیا ہے یہاں تو یوم عاشورہ کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اور آپ اس سے یوم میلاد النبیﷺ کا جواز دے رہے ہیں ۔
*اب کوئی منافق یہ بھی سوال کر سکتا ہے کہ یہ کیا ہے یہاں تو یوم عاشورہ کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اور آپ اس سے یوم میلاد النبیﷺ کا جواز دے رہے ہیں ۔
جواب :۔ دیوبندی منافقین،اور وہابی غیر مقلد منافقین کو جب انکے اعتراض کا منہ توڑ جواب مل جاتا ہے تو یہ اسی طرح بال کھال نکال کر اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ میلادالنبی ﷺ کو یوم عاشورہ سے کیوں ثبوت دیا جاتا ہے تو کبھی کہتے ہیں میلاد اور سیرت النبی ﷺ دونوں الگ الگ ہیں جبکہ بزرگان دین عوام اہلسنت کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں دیکھئے ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی(۷۷۳۔۸۵۲ھ) نے مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے عید میلادالنبی ﷺ پر استدلال کرتے ہوئے اس دن کی شرعی حیثیت کو واضح طور پر متحقق کیا ہے اور اس سے یوم میلاد النبی ﷺ منانے کی اباحت پر دلیل قائم کی ہے حافظ ابن حجر عسقلانی کا استدلال نقل کرتے ہوئے امام جلال الدین سیوطی( ۸۴۹۔۹۱۱ھ) لکھتے ہیں:شیخ الاسلام حافظ العصر ابوالفضل ابن حجر سے میلادشریف کے عمل کے حوالہ سے پوچھا گیا تو آپ نے اس کا جواب دیا کہ میرے نزدیک یوم میلادلاالنبی ﷺ منانے کی اساسی دلیل وہ روایت ہے جسے ’’صحیحین‘‘ میں روایت کیا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہود کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا ۔آپ ﷺنے ان پوچھا ایسا کیوں کرتے ہو ؟ اس پر عرض کناں ہوئے کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی(الخ)
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی احسان وانعام کت عطا ہونے یا کسی مصیبت کے ٹل جانے پر کسی معین دن میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانا اور ہر سا ل اس دن کی یاد تازہ کرنا مناسب تر ہے ۔
’’اللہ تعالیٰ کا شکر نماز وسجدہ ،روزہ صدقہ اور تلاوت قرآن ودیگر عبادات کے ذریعہ بجالایا جاسکتا ہے اور حضور نبی رحمت ﷺ کی ولادت سے بڑھ کر اللہ نعمتوں میں سے کون سی نعمت ہے ؟ اس لیے اس دن ضرور شکرانہ بجالانا چاہئیے‘‘۔
حافظ حجر عسقلانی کے موقف کی تائید امام سیوطی نے ’’الحاوی لفتاویٰ (ص:۲۰۵،۲۰۶) میں کی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضوی ریسرچ سینٹر کے تمام مضامین غور سے پڑھیں اور خوب شئیر کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے جوڑیں تا کہ سنی سنائی باتوں اور اندھی عقیدت سے عوام اہل سنت کو الگ کیا جاسکے۔
Comments