سرکار سیدنا اعلی حضرت رحمة الله تعالى عليه پر اعتراض کا جواب
ﺑِﺴْـــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ
الصلٰوة والسلام علیک یا رسول اللہ
وعلی الک و اصحابک یا حبیب اللہ
*ریان دجال وکذاب کے شیطانی اعتراض کا ایمانی جواب*
اعتراض نمبر 50
یعنی احمد رضا امت محمدیہ کے تیس دجالوں میں سے ایک
نعوذباللہ
💚 جواب 💚
ریان کذاب اعظم کا سرکار سیدنا اعلی حضرت علیہ الرحمہ کو تیس دجالوں کی فہرست میں شامل کرنا زمین و آسمان بلکہ چاند و سورج سے بھی بڑا جھوٹ ہے لعنة اللہ علی الكاذبين ------------------------ ریان دجال وکذاب نے جن بنیادوں پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو دجالوں کی فہرست میں شامل کیا ہے-------------- اگر آپ ان پر غور کرینگے تو ریان کا جھوٹ آفتاب نصف النہار اور چودھویں کے چاند سے بھی زیادہ روشن ہوگا--------------------------------------
ریان دجال وکذاب نے بحوالہ حدیث ، دجال کی ایک علامت یہ بیان کی کہ دجال کانا ہوگا ------------- تو ریان دجال وکذاب سے میرا سوال ہے کہ----------- کیا یہ علامت سارے دجالوں کی ہوگی ؟ ----- یا صرف ------ اس دجال کی ہوگی جو حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے سے کچھ پہلے ظاہر ہوگا ؟ ----------------------- اگر ریان صحیح النسب ہے تو یہ ثابت کرے کہ ہر ایک دجال " کانا " ہوگا ------------------- تو اگر ہر دجال "کانا "نہیں ہوگا تو ریان کا زبردستی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو کانا ثابت کرکے دجال ثابت کرنا اس کی شیطٰنیت اور خباثت نہیں تو اور کیا ہے؟ ------------------------------------------ نیز جو دجال " کانا " ہوگا ، وہ خدائی دعوی کرےگا جبکہ باقی سارے دجال نبوت کا دعوٰی کریں گے--------------------------------- اور سرکار سیدنا اعلی حضرت علیہ الرحمہ تو زندگی بھر عبدالمصطفی یعنی غلام مصطفی لکھتے رہے -اور جھوٹے نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کا رد بلیغ فرماتے رہے- الحمد للہ ------------ البتہ دیوبندی مولوی اشرفعلی تھانوی کی بی بی بننے کی تمنا کرنے والا مرید حسن العزیز خواب و بیداری دونوں میں مولوی اشرفعلی تھانوی کا کلمہ اور مولوی اشرفعلی تھانوی پر درود پڑھا ---------------- اور جب یہی مسئلہ دیوبندی مولوی اشرفعلی تھانوی کے پاس گیا تو دیوبندی مولوی اشرفعلی تھانوی بجائے اس کے کہ اس دھرم پتنی بننے کی تمنّا کرنے والے مرید کو توبہ اور تجدید ایمان و نکاح کا حکم دیتا ------------- لکھا کہ تم جس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ متبع سنت ہے یعنی تم نے میرا کلمہ پڑھنے اور مجھ پر درود پڑھنے میں غلطی نہیں کی ------------------------- تو بتاؤ ! کلمہ اور درود پڑھنے والے مرید کی تائید کرکے نبوت کا دعوٰی کردیا مولوی اشرفعلی تھانوی نے اور اعتراض اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر -(شرم تم کو مگر نہیں آتی)-------------- بلکہ حدیث " حتی يبعث دجالوں کذابون قريبا من ثلاثين کلھم یزعم انہ رسول اللہ " یعنی تیس کے قریب جھوٹے دجال نکلیں گے اور وہ سب گمان کریں گے کہ وہ رسول اللہ ہیں -------------- اور دیوبندی مولوی اشرفعلی تھانوی اپنے آپ کو رسول گمان کر رہے ہیں اس لئے تو اپنا کلمہ اور درود پڑھنے والے کو نہ تو توبہ و تجدید ایمان کرا رہے ہیں اور نہ کلمہ پڑھوا رہے ہیں ------------ تو بتاؤ !
دجال کون ہوا ؟
اعلیٰ حضرت یا اشرفعلی تھانوی؟
⏪ ریان کذاب اعظم اپنے فرقہ باطلہ کی کتاب ازواج ثلاثہ کا حکایت نمبر 315 پڑھو جس میں مولوی قاسم نانوتوی نے حج کے لئے جاتے وقت حدیث مبارکہ • انما انا قاسم واللہ یعطی • کو اپنے اوپر فٹ کرلیا ، مگر تم اور تمہاری جماعت اندھی، گونگی بنی رہی اور بنی ہے - نہ اس پر کبھی کچھ لکھا اور نہ کبھی کچھ تبصرہ کیا ------------ کیا اس حدیث کا مصداق مولوی قاسم نانوتوی ہے
اگر ہاں تو کیسے ؟
اور اگر نہیں تو پھر اس نے اپنے اوپر کیسے فٹ کرلیا ؟ ---------------------
تو لو اب ازواج ثلاثہ دیکھو !
مولوی قاسم نانوتوی کو راستہ میں جو کچھ بھی ملتا وہ سب ان لوگوں کو دیدیتے - اور ساتھیوں نے کہا حضرت آپ تو سب ہی دیدیتے ہیں - کچھ تو اپنے پاس رکھئے تو فرمایا انما انا قاسم واللہ یعطی -
--------------------------------------------------------------------------------
⏪ ریان کذاب اعظم نے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کو " کانا " یعنی ایک آنکھ والا، ثابت کرنے کے لیے تین عبارتیں پیش کی ہیں ----------------- مگر ان تینوں عبارتوں کا کیا مطلب ہے اور کذاب اعظم نے اس میں کیا کیا گڑبڑی اور خیانتیں کی ہیں آپ بھی ملاحظہ کیجیے
🚫 پہلی عبارت کذاب اعظم نے انوار رضا صفحہ 366 کی پیش کی ہے ---------------- انوار رضا میں کیا ہے ملاحظہ فرمائیں
● ایک بار بیگم صاحبہ نے ان کی مصروفیت دیکھ کر جہاں وہ کاغذات اور کتابیں پھیلائے ہوئے بیٹھے تھے، دسترخوان بچھا کر قورمہ کا پیالہ رکھ دیا اور چپاتیاں دسترخوان کے ایک گوشے میں لپیٹ دیں کہ ٹھنڈی نہ ہو جائیں - کچھ دیر بعد وہ دیکھنے تشریف لائیں کہ حضرت کھانا تناول فرما چکے یا نہیں تو یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں کہ سالن آپ نے نوش فرما لیا ہے لیکن چپاتیاں دسترخوان میں اسی طرح لپٹی رکھی ہوئی ہیں - پوچھنے پر آپ نے فرمایا - چپاتیاں تو میں نے دیکھی نہیں - سمجھا کہ ابھی نہیں پکی ہیں - میں نے اطمینان سے بوٹیاں کھالیں اور شوربہ پی لیا اور خدا کا شکر ادا کیا ----------------------------- کذاب اعظم ریان ! تم نے درمیان سے "" ان کی مصروفیت دیکھ کر جہاں وہ کاغذات اور کتابیں پھیلائے ہوئے بیٹھے تھے "" اڑا دیا اور آگے کا جملہ جوڑ دیا، جبکہ مذکورہ بالا جملہ ہی سے ثابت ہو رہا ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ پڑھنے لکھنے میں اس قدر مشغول تھے کہ دسترخوان میں لپٹی ہوئی روٹی کی طرف آپ کی توجہ نہ گئی اور آپ نے روٹی نہ دیکھی ------------------------------- تو روٹی کا نہ دیکھنا -------------------------- دو وجہ سے ہے--------------------- ایک تو یہ کہ روٹی دسترخوان میں لپیٹی گئی تھی ---------------- اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ لکھنے پڑھنے میں اس قدر مشغول تھے کہ جو چیز اوپر تھی اسے دیکھا اور جو چیز دسترخوان میں لپیٹی گئی تھی اسے نہ دیکھا -------------------------------- اس لیے اس روایت کو اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے " کانا " ہونے کی دلیل میں پیش کرنا معترض کے یتیم العقل اور خبیث النفس ہونے کی واضح اور روشن دلیل ہے --------------------------
-کیا تم دیوبندیوں کو امام مسلم علیہ الرحمہ کے انتقال کا سبب حدیث تلاش کرتے کرتے کھجور کثرت سے کھالینے کا واقعہ یاد نہیں ؟---------------- اگر یاد ہے تو بتاؤ --------------- کیا کسی چیز پر نظر کا نہ پڑنا اندھے ہونے کی دلیل ہے ------------ اگر ہاں تو پھر تم دیو بندی امام مسلم علیہ الرحمہ کو کیا کہوگے? -------------------------------------------------- ریان کذاب اعظم ! کیا تم نے
اپنے آقا مولوی اشرفعلی تھانوی کے ملفوظات جلد نہم صفحہ 336 کو پڑھا ہے?------------------ اگر نہیں پڑھا ہے تو پڑھ لو ---------- اس میں لکھا ہے کہ----------------- تمہارے کسی بزرگ نے بی بی کے پاس شب گزاری کے بعد صبح کوچلتے وقت اپنا عمامہ چھوڑ کر بی بی کے شلوار کو ہی عمامہ کی جگہ باندھ لیا -------------------------- ریان تم ہی بتاؤ ! ---------------------- کیاوہ کانا تھا یا اندھا کہ اسے نظر نہ آیا کہ یہ عمامہ ہے یا شلوار------- اور شلوار ہی کو اپنے سر پر باندھ لیا ------------------------------'----
🚫 کذاب اعظم ریان نے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے " کانا " ہونے پر جو دوسری دلیل پیش کی اس کی ابتداء ہی جھوٹ سے کی --------------
کذاب اعظم لکھتا ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی اکثر آنکھیں خراب ہو جاتی تھیں ------------ پھر آگے لکھتا ہے کہ ------------- وہ خود فرماتے ہیں کہ مجھے نو عمری میں آشوب چشم ہو جاتا تھا اور بوجہ حدت مزاج بہت تکلیف دیتا تھا ---------------------
تو آپ ہی بتائیں کہ کیا آشوب چشم ہونے کو آنکھ کا خراب ہونا کہا جائے گا ---اگر تم دیوبندیوں کے یہاں کانا ہونے کی یہی دلیل ہے ------------ تو پھر جنگ خیبر کے موقع پرحضرت علی رضی اللہ عنہ کے اشوب چشم ہونے کا واقعہ تو تمہیں یاد ہی ہوگا -------- تو کیا تم بددماغ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی کانا کہنا شروع کر دوگے(معاذ اللہ) ------ نہیں اور ہرگز نہیں ---
تو کیا یہ جھوٹ نہیں ہے ؟
اور کیا جھوٹے پر اللہ کی لعنت نہیں ہے ؟
یقینا ہے ------------ تو پھر لعنة اللہ علی الكاذبين پڑھو-----------------------------------------------------
🚫 کذاب اعظم ریان نے جو اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے " کانا " ہونے پر تیسری دلیل پیش کی وہ یہ ہے کہ ------------------- أعلی حضرت علیہ الرحمہ کی آنکھ دو مرتبہ دبتی معلوم ہوئی ---------- اور ایک مرتبہ نہاتے وقت سر پر پانی پڑتے ہی معلوم ہوا کہ کوئی چیز سر سے داہنی آنکھ میں اتر آئی - بائیں آنکھ بند کرکے داہنی سے دیکھا تو وسط شی مرئی میں ایک سیاہ حلقہ نظر آیا اس کے نیچے شی کا جتنا حصہ ہوا وہ ناصاف اور دبا معلوم ہوتا ------------ اس کے بعد کئی ڈاکٹروں سے دکھایا تو انہوں نے بتایا کہ بیس برس بعد پانی اتر آئیگا ---------- مذکورہ بالا دونوں باتیں درست ہیں ----------------- مگر آگے کیا ہوا اعلی حضرت علیہ الرحمہ خود فرماتے ہیں ----------------- میں نے نزول آب والے کو دیکھ کر دعا پڑھ لی ---------------- الحمد للہ بیس در کنار تیس برس سے زائد گزر چکے ہیں اور وہ حلقہ ذرہ بھر نہ بڑھا نہ بعونہ تعالٰی بڑھے گا نہ میں نے کتاب بینی میں کبھی کمی کی نہ کمی کروں ---------------------------------------------------- ● ریان کذاب اعظم ! اعلی حضرت علیہ الرحمہ تو فرمائیں جو حلقہ جہاں تھا وہیں رہا، ذرہ برابر بھی ادھر ادھر نہ ہوا اور پڑھنے میں کبھی دقت نہ ہوئی اور تم زبردستی " کانا " ثابت کررہےہو- ------------------------- کیا تمہیں رب کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہونا ہے اور اپنے کذب بیانی کا حساب نہیں دینا ہے --------------------------------------------------
■ الحاصل ریان دجال وکذاب نے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے کانا ہونے پر جو تین عبارتیں پیش کی ان میں سے کسی بھی عبارت سے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا کانا ہونا ثابت نہ ہوا ------------- اور کیوں ثابت ہو --------------- جبکہ اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی دونوں آنکھیں ٹھیک تھیں ---------- تو اب لعنة اللہ علی الكاذبين پڑھو --------------------------------
• اور سنو ! ریان کذاب اعظم ------------ تمہارا خدا رشید احمد گنگوہی تو دونوں آنکھوں کا اندھا ہوگیا تھا ---------- تو کیا تم نے کبھی اس پر کوئی تبصرہ کیا ؟ بلکہ تم دیوبندیوں کے حساب سے تو مولوی رشید احمد گنگوہی ڈبل کانا ہوا یعنی تمہاری زبان میں کہا جائے گا کہ مولوی رشید احمد گنگوہی ڈبل دجال تھا ----------------------------------------------------------
🚫 آگے کذاب اعظم لکھتا ہے ------------ اب میں ایسی حقیقت کا انکشاف کرنے جا رہا ہوں جس کو دیکھ کر آپ بھی حیرت زدہ ہونگے ------------- تو لیجیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ احمد رضا کا دوسرا نام " المختار " ہے ------------------------ اور اعلیٰ حضرت نے اپنی کتاب ختم نبوت صفحہ 45 پر لکھا کہ اس وقت تک قیامت نہیں ہوسکتی جب تک تین کذاب ودجال نہ آجائیں اور اس میں ایک دجال کا نام " المختار " ہے ----- اٙپنے اعلیٰ حضرت کا دجالی نام خود اسی کی کتاب سے المختار پڑھا اور دجال کا نام بھی " المختار " ہے -------------------------------------- مذکورہ بالا عبارت پیش کر کے ریان دجال وکذاب نے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کو انہیں کی کتاب سے دجال ثابت کرنے کی بےجا کوشش کی ہے حالانکہ جب آپ ختم نبوت کی عبارت پڑھینگے تو حیرت زدہ بھی ہونگے اور حیران بھی کہ ریان اتنا بڑا فراڈی، جعل ساز اور دروغ گو ہے --------------- اب آیئے دیکھتے ہیں کہ ختم نبوت میں کیا ہے ----------تو ختم نبوت میں یہ ہے
● ابویعلی مسند میں بسند حسن حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں • لا تقوم الساعة حتی یخرج ثلاثون کذابا منهم مسیلمہ والعنسی والمختار • یعنی قیامت نہ آئیگی جب تک کہ تیس کذاب نہ نکلیں ، ان میں سے مسیلمہ اور اسود عنسی و مختار ثقفی ، اخذھم اللہ تعالٰی - الحمد للہ ، بفضلہ تعالٰی یہ تینوں خبیث کتے شیران اسلام کے ہاتھ سے مارے گئے ، اسود مردود خود زمانہ اقدس اور مسیلمہ ملعون زمانہ خلافت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اور مختار ثقفی ملعون زمانہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما میں، وللہ الحمد -----------------
ختم نبوت کی عبارت سے ثابت ہوگیا کہ تیس دجالوں میں سے ایک دجال کا نام مختار بھی ہوگا -------------- اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ مختار نامی دجال حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے زمانہ میں مارا گیا -------- مگر ریان دجال زبردستی اعلیحضرت علیہ الرحمہ کو دجال کی فہرست میں شامل کر رہا ہے ---------------------- تو اگر ریان صحیح النسب حلالی ہے تو ثابت کرے کہ مختار نام کا دو دجال ہوگا ایک تو وہ جو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے زمانہ میں مارا گیا اور دوسرا کوئی اور ------------------------- پھر اعلیحضرت علیہ الرحمہ پر دجال ہونے کا الزام لگائے ----------------------- مگر میں ایک ہزار نہیں بلکہ ایک لاکھ فیصد یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ریان کذاب کیا اس کی زندہ اور مردہ دونوں جماعت مل کر بھی ثابت نہیں کرسکتی کہ مختار نام کا دو دجال ہوگا ---------------------------------- --------------------------------------------------------------
▶ اب آیئے دیکھتے ہیں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا اصل نام کیا ہے ------ اور یہ المختار کیا ہے ----------------تو سوانح اعلیحضرت میں ہے ⬇
پیدائشی نام محمد اور تاریخی نام المختار ہے اور جد امجد مولانا رضا علی نے آپ کا اسم شریف احمد رضا رکھا - خود اعلی حضرت نے اپنی ولادت کا سن ہجری اس آیت کریمہ سے نکالا -------أولئك کتب فی قلوبهم الایمان وایدھم بروح منہ -------------- اور مولانا محمد صابر نسیم بستوی صاحب لکھتے ہیں --------------- حضور کا پیدائشی اسم گرامی محمد ہے - والدہ ماجدہ محبت و شفقت میں امن میاں، والد ماجد و دیگر اعزہ احمد میاں کے نام سے یاد فرماتے ، جد امجد نے آپ کا اسم شریف احمد رضا رکھا اور تاریخی نام المختار 1372 ہے----------------------------------------- مذکورہ بالا دونوں حوالوں سے معلوم ہوا کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا نہ اصلی نام " المختار " ہے اور نہ پکارو نام بلکہ یہ تاریخی نام ہے یعنی صرف اس سے آپ کی ولادت کا سن ہجری نکلتا ہے - اسی لیے نہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اور نہ آپ کے کسی مرید و معتقد نے کہیں بھی نام کی جگہ المختار لکھا ---------------------------
اور نام کی تعریف جو فیروز اللغات میں کی گئی ہے وہ یہ ہے ------- نام وہ لفظ ہے جس سے کوئی شخص یا چیز پہچانی جائے ------------- تو کیا اعلی حضرت علیہ الرحمہ " المختار " کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں --------------------- نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر اس نام کی وجہ سے اعلی حضرت علیہ الرحمہ دجال کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ------------- جبکہ مختار نام کاجو دجال گزرا ہے وہ اسی نام سے جانا پہچانا جاتا تھا ----------------------------------- یہاں پر ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے کہ " المختار " اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا تاریخی نام ہے تو اگر اس سے الف لام نکال دیا جائے تو کیا اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ولادت کا سن ہجری نکلے گا اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا تاریخی نام ہوگا ------- نہیں اور ہرگز نہیں ------------- جبکہ مختار نامی دجال کو المختار کہاجائے یا مختار کہا جائے دونوں جگہ وہی دجال مختار ثقفی ہی مراد ہوگا -------- اس لیے اس حدیث کو اعلی حضرت علیہ الرحمہ پر ہرگز ہر گزمحمول نہیں کیا جا سکتا ----------------------------------------'
🚫 آگے ریان کذاب اعظم لکھتا ہے کہ استاد محترم حضرت مفتی مجاہد قادری صاحب فرماتے ہیں کہ میری تحقیق کے مطابق وہ مختار نامی دجال اعلی حضرت بریلوی ہیں ------------ مگر جناب وہ تحقیق کہاں ہے ؟ ذرا میں بھی تو دیکھوں ------------------ مگر میں جانتا ہوں کہ تم وہ تحقیق پیش نہیں کر سکتے ہو-----------------------
تو سنو ! ریان دجال ----------- جس طرح تم جھوٹے ہو اسی طرح تمہارا استاد بھی جھوٹا ہے ----------- اگر تمہارا استاد سچا ہوتا اور تم سچے ہوتے تو تم اپنے استاد کی بھی تحقیق پیش کرتے ---------- تاکہ سمجھ میں آجاتا کہ اس کی تحقیق میں کتنی سچائی اور کتنی جھوٹ ہے ---------------- لیکن تمہارا استاد یا تم سچ کیا لکھوگے اور سچ کیابولوگے ------------- جبکہ تمہارا خدا حسین احمد مدنی ہی ہمارے بزرگوں کے نام سے جھوٹی کتابیں گڑھ کر حوالہ میں پیش کر چکا ہے تو جس کا خدا ہی جھوٹ گڑھے ---------- اگر اس کا بندہ جھوٹ گڑھے تو اس میں تعجب کیا ہے ؟
یونہی جس کا حجةالاسلام، قاسم العلوم والخبرات ہی صریح جھوٹ بولے تو اگر اس کا دم چھلہ جھوٹ لکھے تو اس میں تعجب کیا ہے ؟ ------------------------------------------------------------------
🚫 آگے ریان کذاب اعظم لکھتا ہے کہ ایک اور واضح دلیل اعلیٰ حضرت کے کذاب و دجال ہونے پر کہ اس نے قرآن و حدیث پر بہت سارے جھوٹ باندھے ہیں ------------------------ تو میرا اس کذاب اعظم سے سوال ہے کہ اگر وہ صحیح النسب ہے تو بہت سارے جھوٹ کی بات تو بہت دور ہے قرآن و حدیث سے صرف تین تین جھوٹ ثابت کرے ☆☆☆☆☆ ------------------------- اب دیکھئے کذاب اعظم لکھتا ہے ----------------- قرآن عظیم پر جھوٹ ------------------ أحمد رضا بریلوی ڈاڑھی منڈ نے کے متعلق لکھتا ہے کہ کہ قرآن عظیم میں اس پر لعنت کی گئی ہے ( احکام شریعت )----------------'----------- ظالم حوالہ پیش کرتا ہے احکام شریعت کا جبکہ احکام شریعت ایک میلاد خواں کی جمع کردہ ہے ---------- فقیہ عصر شارح بخاری حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدي علیہ الرحمہ لکھتے ہیں --------------- الملفوظ کا جو حال ہے وہ اھل علم سے مخفی نہیں - اس میں سیکڑوں غلطیاں اب تک مل چکی ہیں - احکام شریعت ایک میلاد خواں کی جمع کردہ ہے - یہ دونوں کتابیں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد چھپی ہیں اس لئے اس میں غلطی کا امکان بعید نہیں اور ایک دوسرے عالم مولانا محمد کاشف اقبال مدنی صاحب لکھتے ہیں کہ " احکام شریعت " اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی اپنی تصنیف نہیں ہے اس کے مولف سید شوکت علی ہیں -اس لیے اس کی مکمل ذمہ داری اعلیٰ حضرت پر نہیں ڈالی جا سکتی ----------------- اس کے باوجود دیابنہ وھابیہ ان کتابوں کا حوالہ پیش کر کر کےاپنی بے ایمانی اور ان سے شدید دشمنی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں ---------------- بلکہ ڈاڑھی سے متعلق اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا تصنیف کردہ مستقل رسالہ " لمعة الضحی فی إعفاء اللحی " موجود ہے اس میں کہیں نہیں ہے کہ ڈاڑھی منڈ نے اور منڈوانے والوں پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے -------------- اگر اعلیحضرت علیہ الرحمہ کا یہ قول ہوتا تو لمعة الضحی فی إعفاء اللحی میں ضرور ہوتا -- مگر اس میں اس قول کا نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اعلیحضرت علیہ الرحمہ کا یہ قول نہیں ہے ----------- اس لیے اس کے ذریعے اعلیحضرت علیہ الرحمہ پر اعتراض کرنا ان پر بہتان وافترا اور ان سے بغض و عداوت کی روشن دلیل ہے ------------------------------------------------------ واضح ہو کہ مذکورہ بالا عبارت سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اعلیحضرت علیہ الرحمہ نے یہ نہیں لکھا کہ قرآن مقدس میں ڈاڑھی منڈ نے اور منڈوانے پر لعنت کی گئی ہے -------------- مگر احکام شریعت کے مولف پر تو یہ اعتراض باقی ہے----------------------- لیکن اس اعتراض کو بھی دفع کر دیا دیوبندی مولوی کی کتاب ، اسلام میں ڈاڑھی کامقام اور تفریح الخواطر فی رد تنویر الخواطر نے --------------- کیونکہ احکام شریعت کی جس عبارت پر ریان دجال وکذاب نے اعتراض کیا ہے بعینہ اسی عبارت کو اسلام میں ڈاڑھی کا مقام نامی کتاب کے صفحہ 42 پر مرتب نے اپنی تائید میں پیش کیا ہے جس کا مرتب مفتی ابراہیم ہے اور افاضہ مفتی رشید احمد کا ہے ------------------------------ اور دیوبندی مولوی سرخراب یعنی سرفراز خان صفدر اپنی کتاب تفریح الخواطر فی رد تنویر الخواطر کے صفحہ نمبر 29 پر یہ اصول لکھ چکا ہیکہ جب کوئی مصنف کسی کا حوالہ اپنی تائید میں نقل کرتا ہے اور اسکے کسی حصہ سے اختلاف نہیں کرتا تو وہی مصنف کا نظریہ ہوتا ہے.....------------------.
ریان کذاب اب اس اصول سے تمہارے مولوی کا بھی وہی نظریہ قرار پایا جو کہ احکام شریعت کا ہے------------------------ اس لیے ریان کذاب اب تمہیں بتاؤ------------ اگر یہ قرآن کے نام پر جھوٹ بولنا ہے تو جھوٹا تو تمہارا دیوبندی مولوی بھی ہوا ---------------------------------------
● آگے ریان کذاب اعظم لکھتا ہے ---------------- حدیث پر جھوٹ --'---------------------- أحمد رضا لکھتا ہے کہ نبی علیہ السلام کی خدمت میں ایک عورت اپنی لڑکی کو لائی اور عرض کی کہ یہ صبح و شام مصروعہ ہوجاتی ہے - پھر حضور نے اس کو قریب کیا اور سینہ پر ہاتھ مار کر فرمایا--------- اخرج عدواللہ وانا رسول اللہ ---- حیات اعلیحضرت صفحہ 782 ----------------------------------------- ساری دنیا جانتی ہے کہ حیات اعلیٰ حضرت ملک العلماء حضرت علامہ مولانا ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ کی تصنیف ہے اور انہوں نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال کے سترہ سال بعد یعنی 1938 میں آپ کے حالات قلم بند کرنا شروع کئے --------------- اور بہت سی باتوں کو انہوں نے الملفوظ سے نقل کیا ہے اور الملفوظ کے بارے میں ہم اوپر شارح بخاری حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق علیہ الرحمہ کا قول نقل کر چکے ہیں کہ اس میں سیکڑوں غلطیاں اب تک مل چکی ہیں--------------------- اس لئے ریان کذاب اعظم کا یہ کہنا کہ احمد رضا لکھتا ہے ---------------- سراسر جھوٹ اور بہتان وافترا ہے ----------------------------------------
☆ رہ گئی بات لڑکی کے سینہ پر ہاتھ مارنے کی تو یہ کتابت کی غلطی ہے کیونکہ جب میں نے حوالہ تلاش کرنا شروع کیا تو مسند احمد بن حنبل، مجمع الزوائد ، المستدرک، بدایہ نہایہ ، خصائص کبری اور دلائل النبوت کی عبارت دیکھی تو اس میں ابن اور صبی کا لفظ پایا اور عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھنے والا بھی جانتا ہے کہ ابن اور صبی کا معنی لڑکا اور بچہ ہے، لڑکی اور بچی نہیں ہے --------------- تو پھر وہ ماہر اور کامل علماء ابن اور صبی کا معنی لڑکی کیسے کر سکتے ہیں -اس لیے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ یہ کتابت کی غلطی ہے ----------------------------------------------- ● اب رہی بات سینہ پر ہاتھ مارنے کی تو یہ روایت خصائص کبری اور دلائل النبوت میں موجود ہے ---------------- لہٰذا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی طرف کذب و دجل کا انتساب ، الزام و افترا اور خبث باطنی کا اظہار ہے ------------------------------------------------ ⏪ دوستو !
ریان کذاب اعظم نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی طرف جھوٹ منسوب کر دیا مگر اپنے آقا مولوی قاسم نانوتوی جسے دیابنہ حجتہ الاسلام اور قاسم العلوم والخبرات کہتے ہیں، کے صریح جھوٹ بولنے اور اقرار کرنے کو نہ دیکھا --------------- تو ریان کذاب -
اٹھاؤ اپنی کتاب ازواج ثلاثہ اور پڑھو حکایت نمبر 391 - جس میں مولوی قاسم نانوتوی کے بارے میں لکھا ہے کہ --------------------- میں سخت نادم ہوا اور مجھ سے بجز اس کے کچھ بن نہ پڑا کہ میں جھوٹ بولوں لہٰذا میں نے جھوٹ بولا اور صریح جھوٹ میں نے اسی روز بولا تھا -----------------
ریان کذاب اعظم
بتاؤ !
تمہارا آقا تو کہہ رہا ہے کہ صریح جھوٹ میں نے اسی روز بولا تھا یعنی پہلے بھی
جھوٹ بولتا تھا مگر صریح جھوٹ اسی روز بولا -------------- تو صریح جھوٹ بولے اور اقرار بھی کرے تمہارا آقا اور الزام لگے اعلی حضرت علیہ الرحمہ پر - اسی کو کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے -----------------------☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
از ⬅ محمد نورالہدی خان رضوی مصباحی سیتامڑھی بہار انڈیا
03/10/2017
Comments