TAQAVIATUL EIMAN KE SIDE EFFECTs-18
TAQAVIATUL EIMAN KE SIDE EFFECTs-18
18تقویۃ الایمان کے سائیڈ ایفیکٹس سلسلہ نمبر
جیسا کہ اسماعیل قتیل نے اپنی کتاب ’’تفویۃ الایمان ‘‘ میں ایک عبارت لکھی جس میں اس نے نبی کریم ﷺ کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ایک دن میں بھی مر کر مٹی میں مل جاؤں گا‘‘ اور آج اس کے مماننے والے اپنے عقائد کی اشاعت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس کی اس بد نام اور ایمان کو تباہ و بر باد کرنے والی کتاب کو گھر میں رکھنا عین اسلام قرار دیتے ہیں ۔تو کیا یہ کتاب اس قابل ہے ۔
پہلی بات تو اس کتاب میں لکھے گئے عقائداختلاف امت کی اصل وجہ ہیں کیوں کہ جن عقائد کو اس منافق مولوی نے گڑھا وہ کسی بھی طرح رسول کریم ﷺ اور انکے ماننے والوں کے نزدیک صحیح نہیں ۔
قرآن پاک میں ہے کہ سورہ بقرہ آیت ۱۵۴:
وَلَا تَقُوْلُوْ الِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَاءٌ وَلَکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ
تر جمہ کنزل الایمان:اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں ۔
اس آیت کریمہ میں رب تعالیٰ خود ارشاد فر ماتا ہے کہ انھیں مردہ نہ کہوجو میری راہ میں مارے جائیں وہ زندہ ہیں مطلب اسماعیل قتیل کا یہ عقیدہ اب تو قرآن سے بھی ٹکراتا ہوا نظر آتا ہے اور یہ ایک ہی آیت نہیں بلکہ ’’سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۶۹ پارہ ۴ *سورہ انبیاء آیت نمبر ۱۰۷۔پارہ ۱۷ *سورہ نساء آیت نمبر ۶۴۔پارہ ۴ ‘‘ یہ تمام آیات قرآنیہ اور اس کے علاوہ اور بھی آیتیں ہیں جو حضور ﷺ اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات پر دلیل ہیں کیونکہ یہ آیات شہداء کی حیات پر صراحت کے ساتھ دلالت کررہی ہیں تو انبیاء کرام علیہم السلام کا مرتبہ ومقام شہداء سے بہت اعلیٰ وافضل اور بلند ہےاور ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تو خود شہید ہیں لہٰذا ان کے لئے حیات بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتی ہے ۔
اب وہ اسماعیلی منافق جو مسلمانوں کے درمیان کبھی توحید کی باتیں کرتیں ہیں تو بھی شرک کی باتیں کرتے ہیں ان آیات قرآنیہ کے بارے میں کیا کہیں گے ۔کیا مسلمان اب بھی ان مروجہ تبلیغ کو سراہنا چاہتے ہیں جن کی بنیاد ہی قرآن سے ہٹ کر رکھی گئی ہے جن کے عقائد قرآن مجید سے ٹکراتے ہیں ۔کیا وہ جماعت تبلیغ دین کی حقدار ہے بالکل نہیں ۔اور دوسری طرف جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی تبلیغ نہ کرو مسلمانوں کو گمراہ نہ کرو تو اس پر کہتے ہیں کہ تبلیغ تو صحابہ نے بھی کی اور اس کا حکم قرآن مجید میں بھی ہے ۔تو ان جاہل تبلیغیوں سے میرا سوال ہے کہ کیاصحابہ کی تعلیم یہی تھی کہ معاذ اللہ نبی کریم ﷺ مر کر مٹی میں گئے ہیں ۔کیا قرآن نے یہی حکم دیا ہے کہ منافق کواپنا رہنما بناؤ اور اسکی کتابوں کو عین دین اسلام قرار دو بالکل نہیں ۔صحابہ کی تبلیغ خالص عشق مصطفےٰ میں ڈوبی ہوئی رہتی تھی یہی وجہ ہے کہ لوگ نبی کریم ﷺکا چرچا سنتے اور اسلام میں داخل ہو جاتے ۔مجاہدین نعرہ لگاتے ’’یامحمد‘‘ اور جنگ میں فتح حاصل کرتے انکی تبلیغ میں ایسی تعلیم نہیں ہو تی کہ یارسول اللہ ۔یا محمد (ﷺ) کہنا شرک ہے بلکہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ایک عظیم ذریعہ جانتے رہے اور جو مقام صحابہ کرام نے حاصل کیا وہ صرف اور صرف عشق مصطفےٰ ﷺ ہی کی وجہ سے تھا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان منافقین کی تبلیغ سے بچائے اور اصل دین کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے(آمین)
از:- ص-علی رضوی
*تحریک اصلاح عقائد


Comments