اے رضا مرتبہ کتنا ہوا بالا تیرا
ہند تو ہند عرب میں ہوا شہرہ تیرا
کام اَولیٰ ہے تِرا اے شہِ والا تیرا
اصفیا چومنا چاہیں وہ ہے تلوا تیرا
سر پہ باطل کے اٹھا کرتا تھا تیغا تیرا
غوثِ اعظم کو کیا آقا و مولیٰ تیرا
پھر بھلا کیا کوئی بد خواہ کرے گا تیرا
غوث تک لے گیا تجھ کو یہ وسیلہ تیرا
اتنی مدّت میں ہوا علم کا چرچا تیرا
اہلِ حق چلتے ہیں جس پہ وہ ہے رستہ تیرا
کون سا علم کہ جس میں نہیں حصّہ تیرا
پھیلتا جاتا ہے ہر سمت اجالا تیرا
غوثِ اعظم کی کرامت تھی سراپا تیرا
تیرا گھر، کوچہ و بازار، محلّہ تیرا
قصرِ باطل میں بلند ہوتا ہے نعرہ تیرا
شانِ تحقیق ادا کر گیا خامہ تیرا
تیرے ہر کام میں ہے رنگ نرالا تیرا
عالم ایسا کہ ہر عالم ہوا شیدا تیرا
ایک قانونِ مکمّل ہے فتاوٰی تیرا
تیری تقریر تھی کہ قادری تیغا تیرا
حشر تک جاری یہ فیضان رہے گا تیرا
عشقِ سرکارِ دو عالَم تھا وظیفہ تیرا
نام ہر بار میں لیتا رہا آقا تیرا
مسلکِ اہلِ سُنن بن گیا رستہ تیرا
اہلِ سنَّت پہ ہے احسان یہ آقا تیرا

Comments