Akabreene dayabna kaise thy?
*اکابرین دیابنہ کیسے تھے*
"✍ جواب اکابرین دیابنہ کیسے تھے چند مثالیں دی جارہی ہے جس سے قارئین حضرات خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اکابرین دیانبہ کیسے تھے
✍اکابرین دیابنہ *شرارتی تھے اور کمر بند دوسرے کا کھولنے میں ماہر تھے* ۔کتاب کا نام ملفوظات حکیم الامت جلد 11 صفحہ 70 *میں دیوبندی نے اپنے اکابرین کی ایک دلچسپی سے بھرپور کہانی خود کی زبانی لکھی ہے ملاحظہ کریں ۔۔لکھا ہے* ۔(مولانا یعقوب صاحب کے صاحبزادے کے کمر بند کو مولانا قاسم نانوتوی کھول دیتے تھے )۔ اس لئے میں کہتا ہوں۔(بانی کا جب یہ عالم ہے پیروکاروں کا عالم کیا ہوگا)
✍*اچھا سوال پیدا ہوتا ہے *بانی دیوبند قاسم نانوتوی کمر بند کیوں کھولتا تھا? کیا کرنے کیلئے? کیا دیکھنے کیلئے* ?
✍۔اسی طرح *اکابرین دیابنہ کھانے کیلئے چھپٹا چھپٹی بھی کرتے تھے*۔(حوالہ ملفوظات حکیم الامت صفحہ 70 جلد 11)
✍ اسی طرح *اکابر دیابنہ جوتیاں چوری کر لیا کرتے تھے اور جوتی چوری کر کے چھوپا دیا کرتے تھے*۔(حوالہ ملفوظات حکیم الامت جلد 11صفحہ 73)
✍اسی طرح *اکابرین دیابنہ میں چپل چور بھی تھے اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی لوگ تھے جو اپنے ماما کی رکابی میں کتے کا پلہ ڈال دیا کرتے تھے اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی لوگ تھے کہ اپنے ہی بھائی کے سر پر پیشاب کرتے تھے اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی لوگ تھے جوپہلے علم حاصل کرتے تھے پھر بھول جایا کرتے تھے*
( ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ 261 )۔دیوبندی مولوی صاحب نے خود لکھا اپنے اکابر کی چوری کی کہانی خود کی زبانی(۔فرمایا *ایک مرتبہ میرٹھ میں میاں الٰہی بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو مسجد تھی سب نمازیوں کے جوتے جمع کر کے اس کے شامیانہ پر پھینک دیئے نمازیوں میں غل مچا کہ جوتے کیا ہوئے*?)
✍قارئین حضرات اپ کو یاد ہے اس سے قبل بھی میں نے آپحضرات کو بتاآیا ہوں کہ اکابرین دیابنہ جوتے چوری کرکے چھپا دیا کرتے تھے اب یہ دوسرا جوتا چور اکابر ہے دیابنہ کا
✍اب دوسرا حوالہ نوٹ کریں (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ یہی 261) ۔لکھا ہے دیوبندی مولوی نے خود کی زبانی اپنے اکابر کے کہانی۔۔لکھا ہے کہ(۔*ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی بہت ہی نیک اور سادہ آدمی تھے والد صاحب نے ان کو ٹھیکہ کے کام پر رکھ چھوڑا تھا ایک مرتبہ کمریٹ سے گرمی میں بھوکے پیاسے پریشان گھر آئے اور کھانا نکال کر کھانے میں مشغول ہو گئے گھر کے سامنے بازار ہے *میں نے (یعنی دیوبندیوں کے حکیم الامت)۔سڑک پر سے ایک کتا کا پلہ چھوٹا سا پکڑ کر گھر آکر ان کی دال کی رکابی میں رکھ دیا بچارے روٹی چھوڑ کر کھڑے ہو گئے)*
✍ اب کیا کہا جائے دیوبندی کے حکیم الامت نے اپنے ماما کے دال کی رکابی میں کتا کا پلہ ہی ڈال دیا تو بچارے کھاتے کیسے ❓اور قارئین آپ کو پتہ ہے یہ صرف دیوبندیوں کے اکابر نہیں مجدد بھی ہیں
✍ تیسرا حوالہ نوٹ کریں ( ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ 262)۔دیوبندی مولوی نے اپنے مجدد کے پیشاب کی کہانی خود کی زبانی لکھی ;لکھا کہ(۔فرمایا *میں (یعنی دیوبندی حکیم الامت) ایک روز پیشاب کر رہا تھا بھائی صاحب آئے (دیوبندی حکیم الامت کے بھائی )آکر میرے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ایک روز ایسا ہوا کہ بھائی پیشاب کر رہے ہیں میں نے ان کے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا*)
✍۔قارئین حضرات کچھ سمجھ آیا کہ نہیں بات یہ ہوئی کہ دیوبندی مجدد کے سر پر دیوبندی مجدد کے بھائی نے پیشاب کی اور غصہ میں آکر بدلہ لینے کیلئے دیوبندی مجدد دیوبندی حکیم الامت نے اپنے بھائی کے سر پر بھی پیشاب کر دی
✍۔دیوبندی کے *حکیم الامت جو ہے جن کو دیوبندی مجدد کہتے ہیں وہ تو بقول دیوبندی کے عالم تھے مگر بعد میں جاہل ہو گے تھے سب بھول گے تھے چوتھا حوالہ بھی نوٹ کریں* ( ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ ہے 306) دیوبندی مولوی نے اپنے حکیم الامت کی جہالت کی کہانی لکھی خود کے قلم سے ۔لکھا کہ(اس واقعہ کو *ختم کر کے پھر فرمایا خدا کا فضل و کرم ہے کہ یہ درس و تدریس کا کام اور جگہ اچھا ہو رہا ہے اب ہر شخص ایک ہی کام میں لگ جائے اس کی کون ضرورت ہے اور میں تو اب اس کام کا رہا ہی نہیں سب بھول بھال گیا جو کچھ لکھا پڑھا تھا*)
✍ یعنی دیوبندی مجدد بعد میں جاہل ہو گے تھے کچھ یاد نہیں رہا یاد بھی کیسے رہے *بھائی کے سر پر پیشاب جو کیا ماما کی دال کی رکابی پر کتا کا پلہ جو ڈالا نمازیوں کے چپل جو چوری کی*
✍اسی طرح دیوبندیوں کے اکابرین میں سے *رشید گنگوہی بھی ہے اور اس کو تو کچھ آتا جاتا ہی نہیں تھا اور یہ میں نہیں کہتا خود دیوبندیوں کے امام ربانی رشید گنگوہی نے اقرار کیا ہیکہ اسکو کچھ آتاجاتا نہیں تھا* {حوالہ نوٹ کریں تذکرة الرشید جلد دوم صفحہ نمبر 306 کتب خانہ اشاعت العلوم سہارنپور یوپی}لکھا دیوبندی مولوی عاشق الہٰی بلند شہری نے کہ( *امام ربانی نے ارشاد فرمایا مجھے بھی کچھ آتا جاتا نہیں ہے*) اب دیوبندیوں کو چاہئے کہ *اپنے امام ربانی کی یہ حقیقت مان لے کہ رشید گنگوہی کو کچھ آتا جاتا نہیں تھا کیونکہ رشید گنگوہی تو وہ ہے جس کی زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا تو جو حقیقت تھی کہ رشید گنگوہی کو کچھ آتا جاتا نہیں وہ نکل گیا رشید کی زبان سے*
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی اکابر تھے جن کو ننگاہ ہو کر گھومنے کا بڑا شوق تھا اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جن کو اپنا عضو تناسل پکڑوانے میں بڑا لطف ملتا تھا اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو اپنے پیچھے کے مقام یعنی دُبر میں اُنگلی ڈلوانے کے بڑے شوقین تھے اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو خود کو بھڑوا کہلاتے اور اور ساتھ میں اپنے بھڑوا ہونے کا پرچار بھی کرواتے تھے
✍حوالہ نوٹ کریں( *ملفوظات حکیم الامت جلد 9۔صفحہ 212*)دیوبندی مولوی نے خود اپنے نوکے قلم سے اپنے اکابرین کی لطف اندوز کھانی جو حقیقت پر مبنی ہے بیان کی ہے( واقعہ تو طویل ہے بس مفہوم نقل کرتا ہوں کہ (۔*اشرف علی تھانوی (یعنی *دیوبندی فرقہ کے حکیم الامت) کے ماموں صاحب کانپور آئے عبد الرحمٰن صاحب اشرف علی تھانوی کے ماموں سے ملنے آئے مل کر بڑے خوش ہوئے پھر عبدالرحمٰن صاحب نے* *اشرف علی تھانوی کے ماموں سے واعظ کرنے کی فرمائش کی پہلے پہل تو اشرف علی تھانوی کے ماموں نے انکار کیا جب عبد الرحمٰن نے بار بار اصرار کیا تو* *اشرف علی تھانوی کے ماموں نے کہا واعظ کرونگا مگر اسکی ایک شرط ہے عبدالرحمٰن صاحب نے کہا شرط کیا ہے کہا شرط یہ ہیکہ میں بالکل ننگاہ ہوکر بازار میں سے نکلوں اس طرح کہ ایک شخص تو آگے سے میرے عضو تناسل* *کو پکڑ کر کھینچےاور دوسرا پیچھے سے اُنگلی کرے اور ساتھ میں لڑکوں کی فوج ہو اور وہ یہ شور مچاتے جائیں بھڑوا ہے رے بھڑوا بھڑوا ہے رے بھڑوا۔اس وقت میں عقائق و معارف بیان کرونگا*)
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو انسان نہیں بلکہ فرشتہ تھے حضرات قارئین آپ کو سن کر حیرانی ہوئی ہوگی ? لیکن میں آپ حضرات کو اور حیران کن بات بتانے جا رہا ہوں کہ اکابرین دیابنہ صرف فرشتہ ہی نہیں بلکہ اکابرین دیابنہ میں تو ایسے تھے جو فرشتہ مقرب تھے
✍حوالہ نوٹ کریں ( *ارواح ثلاثہ حکایت نمبر 189صفحہ نمبر 191کتب خانہ نعیمیہ دیوبند سن اشاعت 2013ء*) لکھا قاسم نانوتوی دیوبندی کے تعلق سے *کہ(انسانیت سے بالا درجہ ان کا دیکھا وہ شخص ایک فرشتہ مقرب تھا جو انسانوں میں ظاہر ہوا تھا*)
✍قارئین حضرات آپ کو یاد ہے یہ وہی قاسم نانوتوی ہے جو شرافت کی حد پار کرکے دوسرے کا کمر بند کھولتے ہیں اور یہاں دیکھا آپ حضرات نے وہی کمر بند کھولنے والا فرشتہ مقرب ہے
✍اسی طرح دیوبندیوں نے قاسم نانوتوی کی طرح رشید احمد گنگوہی کو بھی فرشتہ مانا ہے (حوالہ نوٹ کریں،تذکرہ الرشید جلد دوم صفحہ نمبر 49 کتب خانہ اشاعت العلوم سہارنپور سن اشاعت 2014ء) لکھا ہے دیوبندی مولوی نے رشید احمد گنگوہی کے تعلق سے کہ(کیا وصف کروں میں اس ممتاز ! انسان کی شکل میں فرشتہ دیکھا)
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو گنوارتھے( یعنی جاہل) ۔اور اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو بالکل کالے موٹے (یعنی بھینس) تھے
✍قارئین *حضرات آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں کیسی کیسی باتیں کر رہا ہوں* ? اکابرین دیوبند اور جاہل گنوار ? اکابرین دیوبند اور بھینس *جبکہ قارئین آپ نے بہت سے دیوبندی کو دوسرے کے اکابر کو جاہل کہتے سنا ہوگا یہاں تک کہ دیوبندی تو آج کل کالا حضرت کہتے نہیں تھکتے*
تو حضرات قارئین یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہ رہا کہ دیوبندی اکابر جاہل گنوار تھے بلکہ یہ بات تو دیوبندی نے خود کہا ہے اور دیوبندی اکابر بالکل کالے کلوٹے موٹے بھینس تھے اور یہ بات بھی میں خود نہیں کہ رہا بلکہ یہ بات بھی دیوبندی نے خود کہا ہے
✍حوالہ نوٹ کریں ( *ارواح ثلاثہ حکایت نمبر 242صفحہ نمبر 192*) دیوبندی مولوی نے خود کے قلم سے اپنے اکابرین کی خوبی بیان کی۔لکھا *ہیکہ(نانوتوی اور فیض الحسن یہ دونوں ہمعصر تھے۔اور بہت ہی بے تکلف تھے ایک دفعہ انہوں نے (یعنی فیض الحسن نے)۔غایت بے تکلفی میں ہمعصرانہ طریق پر نانوتوی کو فرمایا بے جا گنوار کے لونڈے تجھے ان چیزوں یعنی علوم سے کیا واسطہ تو جاکر ہل جوت کھیتی کر اسکے جواب میں نانوتوی نے ہنس کر فیض الحسن سے کہا ایک بھینسا تو موجود ہے(۔یعنی فیض الحسن بھینسا) دوسرا ہو جائے گا تو ہل جڑے گا*)
✍حضرات قارئین کچھ بات سمجھ آئی کہ نہیں?۔دیوبندی اکابر جاہل ہے گنوار ہے اور یہ فالتو میں دوسرے کو جاہل کہتے ہیں دوسری بات دیوبندی کے اکابر کالے کلوٹے ہیں بھینس ہیں اس بنا پر دیوبندی اپنے اکابر فیض الحسن کو کالا حضرت بول کر پکارتے ہیں یا پھر دیوبندی آپنے اس کالا حضرت فیض الحسن کو چھپانا چاہتے ہیں *کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے*
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی اکابر تھے جو جاہل تھے اور صرف جاہل ہی نہیں بلکہ اکابرین دیابنہ اجہل تھے
✍حوالہ نوٹ کریں *کتاب کا نام ( اکابر دیوبند کیا تھے۔تقی عثمانی دیوبندی کی کتاب صفحہ نمبر 33* )۔دیوبندی کے حکیم الامت اشرف علی تھانوی کا واقعہ لکھا ہے اور *اشرف علی تھانوی خود اپنے بارے میں کہتے ہیںکہ(۔رہا جاہل ہونا اس کا البتہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں جاہل بلکہ اجہل ہوں*)
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جن کے اندر ساری گندگی بھری ہوئی تھی قارئین حضرات آپ پریشان ہونگے کہ اکابرین دیوبند اور انکے اندر ساری گندگی بھری ہوئی تھی یہ کیسے ہو سکتا ہے? اورساری گندگی بھری ہوئی تھی اسکا صاف مطلب ہیکہ اکابردیوبند میں ایسے بھی تھے جو گندگی کے بھنڈارتھے ?جی بالکل ایسا ہی ہے
✍ حوالہ نوٹ کریں، *کتاب کا نام ہے (اکابر کا مقام تواضع صفحہ نمبر 76 ادارہ اسلامیات لاہور کراچی سے کتاب چھپی ہے*), دیوبندی نے خود اپنے قلم سے لکھا ہیکہ *ان کے اکابر کہا کرتے تھے کہ(میں کیا ہوں میرے اندر ساری گندگی بھر ہوئی ہے*),
✍اسی طرح *اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی اکابر تھے کہ بدن دبانے والا کوئی نہیں ملتا تو گالیاں دیا کرتے اور بددعاء کیا کرتے تھا* {حوالہ نوٹ کریں تذکرة الرشید حصہ دوم صفحہ 349 مکتبہ اشاعت العلوم سہارنپور یوپی} *لکھا دیوبندی مولوی عاشق الٰہی بلند شہری نے* کہ [ارشاد فرمایا(یعنی رشید گنگوہی نے)مولوی محمد بخش رامپوری میرے استاذ تھے (یعنی رشید گنگوہی کے استاذ تھے)جب وہ حج سے واپس آئے تو لوگوں نے دریافت کیا کہ حضرت ہمارے لئے بھی دعاء کی تھی?مولانا نے فرمایا ہاں گالیاں بھی دی تھیں اور بددعاء بھی کی تھی لوگوں نے کہا حضرت یہ کیوں?آپ نے فرمایا کہ جب میں واپسی میں جہاز میں بیمار ہوا اور کوئی تم میں بدن دبانے والا نہ ملا تو مجھے سخت تکلیف ہوئی ہمراہی سب برابر کے تھے دبواتا کس سے اس وقت بہت بُرا بھلا تم لوگوں کو کہا] *نوٹ،ایک بات اور قابل توجہ ہے (محمد بخش) رشید گنگوہی کے استاذ تھے اور نام کیا ہے? (محمد بخش) جبکہ ایسا نام رکھنا وہابی اصول سے صحیح نہیں*
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو پاخانہ کے اندر حقّہ نوشی کرتے تھے اور رات میں اٹھ اٹھ کر حقہ پیتے رہتے تھے
✍حوالہ *نوٹ کریں (نقش حیات مکمل خود نوشت وسوانح حیات حسین احمد مدنی حصہ اول صفحہ نمبر 103*) حسین احمد ٹانڈوی نے خود اپنے قلم سے *اپنے والد صاحب کے بارے میں لکھا کہ(والد صاحب مرحوم کو حقّہ کی اس قدر عادت تھی کہ پاخانہ میں بھی حقّہ لے کر جاتے تھے اور رات میں اٹھ اٹھ کر پیا کرتے تھے* )
📍یاد رہے ہم نے یہ کچھ نمونے بطور الزام پیش کر دیئے ورنہ ہمیں ضرورت نہیں تھی کیونکہ *آجکل دیوبندی صحابہ رضون اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے بولتا نظر آتا ہیکہ وہ تو ایسے تھے تو کوئی دیوبندی مثلا ابو عیوب پادری (ہم اہل سنت وجماعت سنی حنفی بریلوی) کے اکابرین پر جملے کستا ہوانظر آتا ہیکہ وہ ایسے تھے تو ویسے تھے* توہم نے بس آئینہ دکھایا ورنہ مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے دیوبندیوں ہوش کے ناخن لو ورنہ اسی طرح تمہاری حقیقت سب کے سامنے آتی رہینگی اور *تم سب دیوبندی وہابی کہیں منھ دکھانے لائق نہیں رہوگے*
📋منجانب *تنظیم الشوریٰ گروپ* 📋
📒مرتب *شبیر احمد عرف شاہر ممبئی*📒
"✍ جواب اکابرین دیابنہ کیسے تھے چند مثالیں دی جارہی ہے جس سے قارئین حضرات خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اکابرین دیانبہ کیسے تھے
✍اکابرین دیابنہ *شرارتی تھے اور کمر بند دوسرے کا کھولنے میں ماہر تھے* ۔کتاب کا نام ملفوظات حکیم الامت جلد 11 صفحہ 70 *میں دیوبندی نے اپنے اکابرین کی ایک دلچسپی سے بھرپور کہانی خود کی زبانی لکھی ہے ملاحظہ کریں ۔۔لکھا ہے* ۔(مولانا یعقوب صاحب کے صاحبزادے کے کمر بند کو مولانا قاسم نانوتوی کھول دیتے تھے )۔ اس لئے میں کہتا ہوں۔(بانی کا جب یہ عالم ہے پیروکاروں کا عالم کیا ہوگا)
✍*اچھا سوال پیدا ہوتا ہے *بانی دیوبند قاسم نانوتوی کمر بند کیوں کھولتا تھا? کیا کرنے کیلئے? کیا دیکھنے کیلئے* ?
✍۔اسی طرح *اکابرین دیابنہ کھانے کیلئے چھپٹا چھپٹی بھی کرتے تھے*۔(حوالہ ملفوظات حکیم الامت صفحہ 70 جلد 11)
✍ اسی طرح *اکابر دیابنہ جوتیاں چوری کر لیا کرتے تھے اور جوتی چوری کر کے چھوپا دیا کرتے تھے*۔(حوالہ ملفوظات حکیم الامت جلد 11صفحہ 73)
✍اسی طرح *اکابرین دیابنہ میں چپل چور بھی تھے اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی لوگ تھے جو اپنے ماما کی رکابی میں کتے کا پلہ ڈال دیا کرتے تھے اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی لوگ تھے کہ اپنے ہی بھائی کے سر پر پیشاب کرتے تھے اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی لوگ تھے جوپہلے علم حاصل کرتے تھے پھر بھول جایا کرتے تھے*
( ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ 261 )۔دیوبندی مولوی صاحب نے خود لکھا اپنے اکابر کی چوری کی کہانی خود کی زبانی(۔فرمایا *ایک مرتبہ میرٹھ میں میاں الٰہی بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو مسجد تھی سب نمازیوں کے جوتے جمع کر کے اس کے شامیانہ پر پھینک دیئے نمازیوں میں غل مچا کہ جوتے کیا ہوئے*?)
✍قارئین حضرات اپ کو یاد ہے اس سے قبل بھی میں نے آپحضرات کو بتاآیا ہوں کہ اکابرین دیابنہ جوتے چوری کرکے چھپا دیا کرتے تھے اب یہ دوسرا جوتا چور اکابر ہے دیابنہ کا
✍اب دوسرا حوالہ نوٹ کریں (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ یہی 261) ۔لکھا ہے دیوبندی مولوی نے خود کی زبانی اپنے اکابر کے کہانی۔۔لکھا ہے کہ(۔*ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی بہت ہی نیک اور سادہ آدمی تھے والد صاحب نے ان کو ٹھیکہ کے کام پر رکھ چھوڑا تھا ایک مرتبہ کمریٹ سے گرمی میں بھوکے پیاسے پریشان گھر آئے اور کھانا نکال کر کھانے میں مشغول ہو گئے گھر کے سامنے بازار ہے *میں نے (یعنی دیوبندیوں کے حکیم الامت)۔سڑک پر سے ایک کتا کا پلہ چھوٹا سا پکڑ کر گھر آکر ان کی دال کی رکابی میں رکھ دیا بچارے روٹی چھوڑ کر کھڑے ہو گئے)*
✍ اب کیا کہا جائے دیوبندی کے حکیم الامت نے اپنے ماما کے دال کی رکابی میں کتا کا پلہ ہی ڈال دیا تو بچارے کھاتے کیسے ❓اور قارئین آپ کو پتہ ہے یہ صرف دیوبندیوں کے اکابر نہیں مجدد بھی ہیں
✍ تیسرا حوالہ نوٹ کریں ( ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ 262)۔دیوبندی مولوی نے اپنے مجدد کے پیشاب کی کہانی خود کی زبانی لکھی ;لکھا کہ(۔فرمایا *میں (یعنی دیوبندی حکیم الامت) ایک روز پیشاب کر رہا تھا بھائی صاحب آئے (دیوبندی حکیم الامت کے بھائی )آکر میرے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ایک روز ایسا ہوا کہ بھائی پیشاب کر رہے ہیں میں نے ان کے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا*)
✍۔قارئین حضرات کچھ سمجھ آیا کہ نہیں بات یہ ہوئی کہ دیوبندی مجدد کے سر پر دیوبندی مجدد کے بھائی نے پیشاب کی اور غصہ میں آکر بدلہ لینے کیلئے دیوبندی مجدد دیوبندی حکیم الامت نے اپنے بھائی کے سر پر بھی پیشاب کر دی
✍۔دیوبندی کے *حکیم الامت جو ہے جن کو دیوبندی مجدد کہتے ہیں وہ تو بقول دیوبندی کے عالم تھے مگر بعد میں جاہل ہو گے تھے سب بھول گے تھے چوتھا حوالہ بھی نوٹ کریں* ( ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ ہے 306) دیوبندی مولوی نے اپنے حکیم الامت کی جہالت کی کہانی لکھی خود کے قلم سے ۔لکھا کہ(اس واقعہ کو *ختم کر کے پھر فرمایا خدا کا فضل و کرم ہے کہ یہ درس و تدریس کا کام اور جگہ اچھا ہو رہا ہے اب ہر شخص ایک ہی کام میں لگ جائے اس کی کون ضرورت ہے اور میں تو اب اس کام کا رہا ہی نہیں سب بھول بھال گیا جو کچھ لکھا پڑھا تھا*)
✍ یعنی دیوبندی مجدد بعد میں جاہل ہو گے تھے کچھ یاد نہیں رہا یاد بھی کیسے رہے *بھائی کے سر پر پیشاب جو کیا ماما کی دال کی رکابی پر کتا کا پلہ جو ڈالا نمازیوں کے چپل جو چوری کی*
✍اسی طرح دیوبندیوں کے اکابرین میں سے *رشید گنگوہی بھی ہے اور اس کو تو کچھ آتا جاتا ہی نہیں تھا اور یہ میں نہیں کہتا خود دیوبندیوں کے امام ربانی رشید گنگوہی نے اقرار کیا ہیکہ اسکو کچھ آتاجاتا نہیں تھا* {حوالہ نوٹ کریں تذکرة الرشید جلد دوم صفحہ نمبر 306 کتب خانہ اشاعت العلوم سہارنپور یوپی}لکھا دیوبندی مولوی عاشق الہٰی بلند شہری نے کہ( *امام ربانی نے ارشاد فرمایا مجھے بھی کچھ آتا جاتا نہیں ہے*) اب دیوبندیوں کو چاہئے کہ *اپنے امام ربانی کی یہ حقیقت مان لے کہ رشید گنگوہی کو کچھ آتا جاتا نہیں تھا کیونکہ رشید گنگوہی تو وہ ہے جس کی زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا تو جو حقیقت تھی کہ رشید گنگوہی کو کچھ آتا جاتا نہیں وہ نکل گیا رشید کی زبان سے*
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی اکابر تھے جن کو ننگاہ ہو کر گھومنے کا بڑا شوق تھا اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جن کو اپنا عضو تناسل پکڑوانے میں بڑا لطف ملتا تھا اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو اپنے پیچھے کے مقام یعنی دُبر میں اُنگلی ڈلوانے کے بڑے شوقین تھے اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو خود کو بھڑوا کہلاتے اور اور ساتھ میں اپنے بھڑوا ہونے کا پرچار بھی کرواتے تھے
✍حوالہ نوٹ کریں( *ملفوظات حکیم الامت جلد 9۔صفحہ 212*)دیوبندی مولوی نے خود اپنے نوکے قلم سے اپنے اکابرین کی لطف اندوز کھانی جو حقیقت پر مبنی ہے بیان کی ہے( واقعہ تو طویل ہے بس مفہوم نقل کرتا ہوں کہ (۔*اشرف علی تھانوی (یعنی *دیوبندی فرقہ کے حکیم الامت) کے ماموں صاحب کانپور آئے عبد الرحمٰن صاحب اشرف علی تھانوی کے ماموں سے ملنے آئے مل کر بڑے خوش ہوئے پھر عبدالرحمٰن صاحب نے* *اشرف علی تھانوی کے ماموں سے واعظ کرنے کی فرمائش کی پہلے پہل تو اشرف علی تھانوی کے ماموں نے انکار کیا جب عبد الرحمٰن نے بار بار اصرار کیا تو* *اشرف علی تھانوی کے ماموں نے کہا واعظ کرونگا مگر اسکی ایک شرط ہے عبدالرحمٰن صاحب نے کہا شرط کیا ہے کہا شرط یہ ہیکہ میں بالکل ننگاہ ہوکر بازار میں سے نکلوں اس طرح کہ ایک شخص تو آگے سے میرے عضو تناسل* *کو پکڑ کر کھینچےاور دوسرا پیچھے سے اُنگلی کرے اور ساتھ میں لڑکوں کی فوج ہو اور وہ یہ شور مچاتے جائیں بھڑوا ہے رے بھڑوا بھڑوا ہے رے بھڑوا۔اس وقت میں عقائق و معارف بیان کرونگا*)
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو انسان نہیں بلکہ فرشتہ تھے حضرات قارئین آپ کو سن کر حیرانی ہوئی ہوگی ? لیکن میں آپ حضرات کو اور حیران کن بات بتانے جا رہا ہوں کہ اکابرین دیابنہ صرف فرشتہ ہی نہیں بلکہ اکابرین دیابنہ میں تو ایسے تھے جو فرشتہ مقرب تھے
✍حوالہ نوٹ کریں ( *ارواح ثلاثہ حکایت نمبر 189صفحہ نمبر 191کتب خانہ نعیمیہ دیوبند سن اشاعت 2013ء*) لکھا قاسم نانوتوی دیوبندی کے تعلق سے *کہ(انسانیت سے بالا درجہ ان کا دیکھا وہ شخص ایک فرشتہ مقرب تھا جو انسانوں میں ظاہر ہوا تھا*)
✍قارئین حضرات آپ کو یاد ہے یہ وہی قاسم نانوتوی ہے جو شرافت کی حد پار کرکے دوسرے کا کمر بند کھولتے ہیں اور یہاں دیکھا آپ حضرات نے وہی کمر بند کھولنے والا فرشتہ مقرب ہے
✍اسی طرح دیوبندیوں نے قاسم نانوتوی کی طرح رشید احمد گنگوہی کو بھی فرشتہ مانا ہے (حوالہ نوٹ کریں،تذکرہ الرشید جلد دوم صفحہ نمبر 49 کتب خانہ اشاعت العلوم سہارنپور سن اشاعت 2014ء) لکھا ہے دیوبندی مولوی نے رشید احمد گنگوہی کے تعلق سے کہ(کیا وصف کروں میں اس ممتاز ! انسان کی شکل میں فرشتہ دیکھا)
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو گنوارتھے( یعنی جاہل) ۔اور اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو بالکل کالے موٹے (یعنی بھینس) تھے
✍قارئین *حضرات آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں کیسی کیسی باتیں کر رہا ہوں* ? اکابرین دیوبند اور جاہل گنوار ? اکابرین دیوبند اور بھینس *جبکہ قارئین آپ نے بہت سے دیوبندی کو دوسرے کے اکابر کو جاہل کہتے سنا ہوگا یہاں تک کہ دیوبندی تو آج کل کالا حضرت کہتے نہیں تھکتے*
تو حضرات قارئین یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہ رہا کہ دیوبندی اکابر جاہل گنوار تھے بلکہ یہ بات تو دیوبندی نے خود کہا ہے اور دیوبندی اکابر بالکل کالے کلوٹے موٹے بھینس تھے اور یہ بات بھی میں خود نہیں کہ رہا بلکہ یہ بات بھی دیوبندی نے خود کہا ہے
✍حوالہ نوٹ کریں ( *ارواح ثلاثہ حکایت نمبر 242صفحہ نمبر 192*) دیوبندی مولوی نے خود کے قلم سے اپنے اکابرین کی خوبی بیان کی۔لکھا *ہیکہ(نانوتوی اور فیض الحسن یہ دونوں ہمعصر تھے۔اور بہت ہی بے تکلف تھے ایک دفعہ انہوں نے (یعنی فیض الحسن نے)۔غایت بے تکلفی میں ہمعصرانہ طریق پر نانوتوی کو فرمایا بے جا گنوار کے لونڈے تجھے ان چیزوں یعنی علوم سے کیا واسطہ تو جاکر ہل جوت کھیتی کر اسکے جواب میں نانوتوی نے ہنس کر فیض الحسن سے کہا ایک بھینسا تو موجود ہے(۔یعنی فیض الحسن بھینسا) دوسرا ہو جائے گا تو ہل جڑے گا*)
✍حضرات قارئین کچھ بات سمجھ آئی کہ نہیں?۔دیوبندی اکابر جاہل ہے گنوار ہے اور یہ فالتو میں دوسرے کو جاہل کہتے ہیں دوسری بات دیوبندی کے اکابر کالے کلوٹے ہیں بھینس ہیں اس بنا پر دیوبندی اپنے اکابر فیض الحسن کو کالا حضرت بول کر پکارتے ہیں یا پھر دیوبندی آپنے اس کالا حضرت فیض الحسن کو چھپانا چاہتے ہیں *کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے*
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی اکابر تھے جو جاہل تھے اور صرف جاہل ہی نہیں بلکہ اکابرین دیابنہ اجہل تھے
✍حوالہ نوٹ کریں *کتاب کا نام ( اکابر دیوبند کیا تھے۔تقی عثمانی دیوبندی کی کتاب صفحہ نمبر 33* )۔دیوبندی کے حکیم الامت اشرف علی تھانوی کا واقعہ لکھا ہے اور *اشرف علی تھانوی خود اپنے بارے میں کہتے ہیںکہ(۔رہا جاہل ہونا اس کا البتہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں جاہل بلکہ اجہل ہوں*)
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جن کے اندر ساری گندگی بھری ہوئی تھی قارئین حضرات آپ پریشان ہونگے کہ اکابرین دیوبند اور انکے اندر ساری گندگی بھری ہوئی تھی یہ کیسے ہو سکتا ہے? اورساری گندگی بھری ہوئی تھی اسکا صاف مطلب ہیکہ اکابردیوبند میں ایسے بھی تھے جو گندگی کے بھنڈارتھے ?جی بالکل ایسا ہی ہے
✍ حوالہ نوٹ کریں، *کتاب کا نام ہے (اکابر کا مقام تواضع صفحہ نمبر 76 ادارہ اسلامیات لاہور کراچی سے کتاب چھپی ہے*), دیوبندی نے خود اپنے قلم سے لکھا ہیکہ *ان کے اکابر کہا کرتے تھے کہ(میں کیا ہوں میرے اندر ساری گندگی بھر ہوئی ہے*),
✍اسی طرح *اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی اکابر تھے کہ بدن دبانے والا کوئی نہیں ملتا تو گالیاں دیا کرتے اور بددعاء کیا کرتے تھا* {حوالہ نوٹ کریں تذکرة الرشید حصہ دوم صفحہ 349 مکتبہ اشاعت العلوم سہارنپور یوپی} *لکھا دیوبندی مولوی عاشق الٰہی بلند شہری نے* کہ [ارشاد فرمایا(یعنی رشید گنگوہی نے)مولوی محمد بخش رامپوری میرے استاذ تھے (یعنی رشید گنگوہی کے استاذ تھے)جب وہ حج سے واپس آئے تو لوگوں نے دریافت کیا کہ حضرت ہمارے لئے بھی دعاء کی تھی?مولانا نے فرمایا ہاں گالیاں بھی دی تھیں اور بددعاء بھی کی تھی لوگوں نے کہا حضرت یہ کیوں?آپ نے فرمایا کہ جب میں واپسی میں جہاز میں بیمار ہوا اور کوئی تم میں بدن دبانے والا نہ ملا تو مجھے سخت تکلیف ہوئی ہمراہی سب برابر کے تھے دبواتا کس سے اس وقت بہت بُرا بھلا تم لوگوں کو کہا] *نوٹ،ایک بات اور قابل توجہ ہے (محمد بخش) رشید گنگوہی کے استاذ تھے اور نام کیا ہے? (محمد بخش) جبکہ ایسا نام رکھنا وہابی اصول سے صحیح نہیں*
✍اسی طرح اکابرین دیابنہ میں ایسے بھی تھے جو پاخانہ کے اندر حقّہ نوشی کرتے تھے اور رات میں اٹھ اٹھ کر حقہ پیتے رہتے تھے
✍حوالہ *نوٹ کریں (نقش حیات مکمل خود نوشت وسوانح حیات حسین احمد مدنی حصہ اول صفحہ نمبر 103*) حسین احمد ٹانڈوی نے خود اپنے قلم سے *اپنے والد صاحب کے بارے میں لکھا کہ(والد صاحب مرحوم کو حقّہ کی اس قدر عادت تھی کہ پاخانہ میں بھی حقّہ لے کر جاتے تھے اور رات میں اٹھ اٹھ کر پیا کرتے تھے* )
📍یاد رہے ہم نے یہ کچھ نمونے بطور الزام پیش کر دیئے ورنہ ہمیں ضرورت نہیں تھی کیونکہ *آجکل دیوبندی صحابہ رضون اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے بولتا نظر آتا ہیکہ وہ تو ایسے تھے تو کوئی دیوبندی مثلا ابو عیوب پادری (ہم اہل سنت وجماعت سنی حنفی بریلوی) کے اکابرین پر جملے کستا ہوانظر آتا ہیکہ وہ ایسے تھے تو ویسے تھے* توہم نے بس آئینہ دکھایا ورنہ مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے دیوبندیوں ہوش کے ناخن لو ورنہ اسی طرح تمہاری حقیقت سب کے سامنے آتی رہینگی اور *تم سب دیوبندی وہابی کہیں منھ دکھانے لائق نہیں رہوگے*
📋منجانب *تنظیم الشوریٰ گروپ* 📋
📒مرتب *شبیر احمد عرف شاہر ممبئی*📒
Comments