اشرفعلی تھانوی کی علمی صلاحیت
*اشرفعلی تھانوی کی علمی صلاحیت*
📢📢📢📢📢📢📢📢📢📢
*ترســـــــیل ســـلوک⬇*
_✍🏻محمد رمضان رضا_
*اصلاح عقائد گروپ (مالیگاﺅں)*
📞+918482952578
=========================
وہابی دیوبندی اور تبلیغی جماعت کے حکیم الامت تھانوی صاحب جن کی یاداشت بالکل کمزور تھی اور انھیں یاد نہیں رہتاتھا.وہ ضروریات دین کے مسائل میں کیا کیا گل کھلاتے تھے.وہ خود تھانوی صاحب کی زبانی سماعت کریں اور ان کی ”شان مجددیت“ کے گل کھلتے دیکھیں.. نماز جو افضل العبادات ہے،اس کو صیحح طور پر ادا کرنا لازمی ہے اور نماز صیحح اداتب ہی ہوگی، جب نماز کے مسائل معلوم ہونگے،ایک عام مسلمان بھی کافی حد تک نماز کے مسائل کی واقفیت رکھتا ہے- لیکن وہابی،دیوبندی اور تبلیغی جماعت کے حکیم الامت اور نام نہاد مجدد جناب تھانوی صاحب کی نماز کے مسائل میں کیسی معلومات تھی،وہ ملاحظہ فرمائیں...
*”نماز میں سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہ غلط پڑھنا“*
_⬇️عبارت ملاحظہ فرمائیں⬇️_
اور غلطی کی بھی ایک حد ہے،اگر غلطی پر اصرار ہوتو کہہ سکتا ہےـ
*چنانچہ پہلے نماز کے اندر ”سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ“ میں دال کو کھنچ کرکہا کرتا تھا، ایک شخص جو مرید تھے، انہوں نے مجھ کو غلطی پر مطلع کیا، میں نے کہا کہ میں خیال رکھوں گا.پھر میں نے اصلاح کرلی- اگر اصرار ہوتو کہہ دے مگر کہے ادب سے، ہر بات طریقہ سے اچھی معلوم ہوتی ہے-*
📓حــــــوالــــہ📓
*{حسن العزیز (تھانوی صاحب کے ملفوظات کا مجموعے) جلدنمبر 3 / صفحہ نمبر 44}*
مندرجہ بالاعبارت میں تھانوی صاحب چھوٹے لوگوں کو ادب سکھارہے ہیں اور وہ یہ کہ اگر کسی بزرگ شخص سے کبھی اتفاقیہ کوئی غلطی ہوجاۓ، تو اس بزرگ کی ایسی اتفاقیہ غلطی پر گرفت نہیں کرنی چاہیئے بلکہ خاموش رہنا چاہیے، ہاں! اگر وہ بزرگ اس غلطی پر اصرار کرتا ہو،یعنی ہمیشہ وہی غلطی کرتا ہو تو بہت ادب سے اس بزرگ کو اس کی غلطی پر متنبہ کرنا چاہیے- اور بزرگ کی دائمی غلطی کی مثال دیتے ہوئے تھانوی صاحب نے اپنا خود کا ہی معاملہ بیان کردیا- یعنی تھانوی صاحب نماز کی امامت کرتے تو رکوع سے کھڑے ہوتے ہوئے *”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہ“* کہتے وقت لفظ *”حــــَمِـــدَہ“* ادا کرتے وقت حرف *”دال“* کو کھینچ کر کہتے تھے اور اس طرح کہنا غلط ہے- تھانوی صاحب کی یہ غلطی ایک دو مرتبہ کی یا اتفاقیہ نہ تھی بلکہ وہ ہمیشہ یہی غلطی کرتے تھے- لیکن تھانوی صاحب کے ایک مرید نے تھانوی صاحب کی روزانہ پنج وقتہ نماز میں ہمیشہ کی جانے والی غلطی کو ایک عرصہ تک برداشت کیا- پیر صاحب آج اپنی غلطی درست فرمالیں گے،کل درست فرمالیں گے- اس امید میں ایک عرصہ تک انتظار کیا لیکن مرید کی امید بر نہ آئی- پیرصاحب اپنی جہالت کا دائمی طور پر مظاہرہ فرماتے رہے- مرید کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور ایک دن مرید نے اپنے پیر صاحب یعنی وہابی، دیوبندی اور تبلیغی جماعت کے جاہل مجدد تھانوی صاحب سے عرض کردیا کہ پیر جی! ایک عرصہ سے آپ اس غلطی میں مبتلا ہیں لہذا اصلاح فرمالیں، مرید کے متنبہ کرنے پر تھانوی صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انھوں نے اصلاح کرلی-
*📢الـــــــــحــــال📢*
تھانوی صاحب کو نماز میں صیحح طور پر *”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہ“* کہنا بھی نہیں آتا تھا- ایک عام مسلمان بھی ایسی غلطی نہیں کرتاـ جاہل سے جاہل مومن مسلمان بھی عام طور پر *”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہ“* کا تلفظ صیحح ادا کرتا ہے، کیوں کہ یہ جملہ اتنا آسان ہے کہ ہر شخص صیحح تلفظ کے ساتھ ادا کرلیتا ہے- ایسا آسان تلفظ بھی نام نہاد مجدد کے لیے دشوار تھا- ایک طویل عرصہ تک غلط ادا کرتے رہے اور جب مرید نے غلطی پر مطلع کیا تو اصلاح کی- یعنی نام نہاد مجدد تھانوی صاحب عوام کی اصلاح کرنے دنیا میں نہیں آئے تھے بلکہ عوام سے اپنی اصلاح .کروانے دنیا میں تشریف لائے تھے.
*〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰*
*اصلاح عقائد واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے ان نمبرات پر رابطہ کرئے.⬇*
📞+919272606631
📞+918975790997
📞+918482952578
*ٹیلی گرام پر ہماراچینل جوائن کرنے کے لیے اس لنک کو پریس کرئے..⬇*
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID


Comments