TAQVIATUL EIMAN KE SIDE EFFECTS SILSILA NO 10
سلسلہ نمبر 10
اسماعیل قتیل کی عبارت کے رد میں ہم نے قرآن وحادیث سے ثبوت پیش کیا ہے ،ملاحظہ ہو تقویۃ الایمان کی عبارت جس میں اسماعیل قتیل نے لکھا ہے کہ ’ ’جس کا نام محمدؐ یاعلیؓ ہے وہ کسی چیز کا مالک ومختار نہیں ہے ‘‘۔
اب اس منافق مولوی کو ماننے والے اسماعیلی منافق اس عبارت کا رد پسند کرے یا نہ کریں صلح کلیوں کو اس کے رد میں دلچسپی ہو یا نہ ہو لیکن اہل حق اہلسنت شروع سے ہی صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہو ئے منافقین کا رد کیا ہے اور یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔اہل سنت جماعت نہ صلح کلیوں کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی منافق کی پیروی کرنے والوں کی جماعت کو ۔اب اختیارات مصطفیﷺ کو جاننے کیلئے ہم ایک حدیث پاک ملاحظہ کریں گے ۔
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے اور تمہارے بغیر کسی کو حلال نہیں کہ وہ جنابت میں مسجد کے اندر داخل ہو ۔(تر مذی شریف:ج:۲،ص:۲۱۴)
اس حدیث پاک سے واضح ہو گیا کہ حضور ﷺ نے حالت جنابت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو مسجد میں جانے کی اجازت عطا فر مائی ۔جبکہ کسی شخص پر حالت جنابت طاری ہو یعنی غسل واجب ہو تو وہ غسل جنابت کئے بغیر مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا ۔لیکن میرے نبی کریم کا اختیار دیکھئے کہ جس فعل کی اجازت اور مسلمانوں کو نہیں اس کی اجازت دوسرے مسلمان ( حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ) کو عطا فر مائی ۔
اسی طرح شرعی مسئلہ ہے کہ اگر بکرا یا بکری کی عمر ایک سال سے کم ہے تو ان کی قربانی کرنا جائز نہیں لہٰذا اگر کسی نے سال سے کم عمر کا بکرا یا بکری ذبح کی تو اس کی قربانی نہیں ہو گی اسے دوبارہ نیا جانور لے کر قربانی کرنی پڑے گی ۔لیکن حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک سال سے کم عمر کی بکری ذبح کرنے کی اجازت مرحمت فر مائی جیسا کہ حدیث پاک میں ہے ۔’’حضرت براء عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابودردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کا جانور ذبح کر لیا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا دوبارہ قربانی کرتو انھوں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ میرے پاس صرف ایک بکری کا بچہ ہے جو ایک سال سے کم عمر کا ہے ۔تو رسول اللہ ﷺ نے فر مایا اسی کی قربانی کر لو لیکن تمہارے علاوہ دوسرے کو یہ کافی نہیں ہو گا ۔(یعنی تمہیں ہی میں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہوں لیکن اور کوئی اس طرح نہیں کر سکتا) ( بخاری شریف ج:۲،ص:۸۳۴۔مسلم شریف:ج:۲،ص:۱۵۴)
اسی طرح خود میرے آقا کریم ﷺ نے فر مایا کہ ’’اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اگر میں چاہوں تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلنا شروع ہو جائیں(مشکوٰۃ شریف،ص: ۲۵۱)
اب تو خود میرے آقا کریم ﷺ نے بھی اپنے اختیار کا اعلان کر دیا کہ اگر میں چاہوں تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلنا شروع ہو جائیں۔
کیا اب بھی اسماعیلی منافقین میرے نبی کریم ﷺ کے اختیارا ت پر طنز کریں گے ۔کیا اب وہ اس عبارت ملعونہ کی تائید کریں گے جس میں اسماعیل قتیل نے لکھا کہ ’’جس کا نام محمدؐ یاعلیؓ ہے وہ کسی چیز کا مالک ومختار نہیں ہے ‘‘تفویۃ الایمان کی ایسی بہت ساری عبارتیں ہیں جس کا رد خود احادیث مبارکہ کرتی ہوئیں نظر آتیں ہیں لیکن کچھ صلح کلیوں نے مسلمانوں کو صلح کا وہ پیغام سکھانا شروع کر دیا کہ منافقوں اور مسلمانوں کے درمیان کا فرق ہی ختم کر دیا ۔
اسماعیل قتیل کی عبارت کے رد میں ہم نے قرآن وحادیث سے ثبوت پیش کیا ہے ،ملاحظہ ہو تقویۃ الایمان کی عبارت جس میں اسماعیل قتیل نے لکھا ہے کہ ’ ’جس کا نام محمدؐ یاعلیؓ ہے وہ کسی چیز کا مالک ومختار نہیں ہے ‘‘۔
اب اس منافق مولوی کو ماننے والے اسماعیلی منافق اس عبارت کا رد پسند کرے یا نہ کریں صلح کلیوں کو اس کے رد میں دلچسپی ہو یا نہ ہو لیکن اہل حق اہلسنت شروع سے ہی صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہو ئے منافقین کا رد کیا ہے اور یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔اہل سنت جماعت نہ صلح کلیوں کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی منافق کی پیروی کرنے والوں کی جماعت کو ۔اب اختیارات مصطفیﷺ کو جاننے کیلئے ہم ایک حدیث پاک ملاحظہ کریں گے ۔
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے اور تمہارے بغیر کسی کو حلال نہیں کہ وہ جنابت میں مسجد کے اندر داخل ہو ۔(تر مذی شریف:ج:۲،ص:۲۱۴)
اس حدیث پاک سے واضح ہو گیا کہ حضور ﷺ نے حالت جنابت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو مسجد میں جانے کی اجازت عطا فر مائی ۔جبکہ کسی شخص پر حالت جنابت طاری ہو یعنی غسل واجب ہو تو وہ غسل جنابت کئے بغیر مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا ۔لیکن میرے نبی کریم کا اختیار دیکھئے کہ جس فعل کی اجازت اور مسلمانوں کو نہیں اس کی اجازت دوسرے مسلمان ( حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ) کو عطا فر مائی ۔
اسی طرح شرعی مسئلہ ہے کہ اگر بکرا یا بکری کی عمر ایک سال سے کم ہے تو ان کی قربانی کرنا جائز نہیں لہٰذا اگر کسی نے سال سے کم عمر کا بکرا یا بکری ذبح کی تو اس کی قربانی نہیں ہو گی اسے دوبارہ نیا جانور لے کر قربانی کرنی پڑے گی ۔لیکن حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک سال سے کم عمر کی بکری ذبح کرنے کی اجازت مرحمت فر مائی جیسا کہ حدیث پاک میں ہے ۔’’حضرت براء عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابودردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کا جانور ذبح کر لیا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا دوبارہ قربانی کرتو انھوں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ میرے پاس صرف ایک بکری کا بچہ ہے جو ایک سال سے کم عمر کا ہے ۔تو رسول اللہ ﷺ نے فر مایا اسی کی قربانی کر لو لیکن تمہارے علاوہ دوسرے کو یہ کافی نہیں ہو گا ۔(یعنی تمہیں ہی میں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہوں لیکن اور کوئی اس طرح نہیں کر سکتا) ( بخاری شریف ج:۲،ص:۸۳۴۔مسلم شریف:ج:۲،ص:۱۵۴)
اسی طرح خود میرے آقا کریم ﷺ نے فر مایا کہ ’’اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اگر میں چاہوں تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلنا شروع ہو جائیں(مشکوٰۃ شریف،ص: ۲۵۱)
اب تو خود میرے آقا کریم ﷺ نے بھی اپنے اختیار کا اعلان کر دیا کہ اگر میں چاہوں تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلنا شروع ہو جائیں۔
کیا اب بھی اسماعیلی منافقین میرے نبی کریم ﷺ کے اختیارا ت پر طنز کریں گے ۔کیا اب وہ اس عبارت ملعونہ کی تائید کریں گے جس میں اسماعیل قتیل نے لکھا کہ ’’جس کا نام محمدؐ یاعلیؓ ہے وہ کسی چیز کا مالک ومختار نہیں ہے ‘‘تفویۃ الایمان کی ایسی بہت ساری عبارتیں ہیں جس کا رد خود احادیث مبارکہ کرتی ہوئیں نظر آتیں ہیں لیکن کچھ صلح کلیوں نے مسلمانوں کو صلح کا وہ پیغام سکھانا شروع کر دیا کہ منافقوں اور مسلمانوں کے درمیان کا فرق ہی ختم کر دیا ۔
Comments