فضائل مکتہ المکرمہ
💥 *فضـــــائل مکتہ المکرمہ* 💥
*کعبے کی رونق کعبہ کامنظر اللہ اکبر اللہ اکبر،،،،*
*یکھوں تودیکھے جاؤں برابراللہ اکبراللہ اکبر،،،،*
*تیرے حرم کی کیابات مولاتیرے کرم کی کیابات مولا….*
*تاعمرکردے آنامقدراللہ اکبراللہ اکبر*
ارشادباری تعالیٰ ہے ۔ترجمہ ’’اورعرض کی ابراہیم علیہ السلام نے کہ اے میرے رب اس شہرکوامان والاکردے اوراس کے رہنے والوں کوطرح طرح سے روزی دے جوان میں سے اللہ اورپچھلے دن پرایمان لائیں فرمایااورجوکافرہواتھوڑابرتنے کواسے بھی دوں گاپھراسے عذاب دوزخ کی طرف مجبورکروں گا اوروہ بہت بُری جگہ ہے پلٹنے کی اورجب اُٹھاتاتھاابراہیم علیہ السلام اس کے گھرکی نیویں اوراسماعیل علیہ السلام یہ کہتے ہوئے اے ربّ ہمارے ہم سے قبول فرمابے شک توہی سنتاجانتاہے اے ربّ ہمارے اورکرہمیں تیرے حضورگردن رکھنے والااورہماری اولادمیں سے ایک اُمت تیری فرمانبرداراورہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتااورہم پراپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرمابے شک توہی ہے بہت توبہ قبول کرنیوالا مہربان‘‘۔( پارہ۲آیت۱۲۶تا۱۲۸)
اللہ رب العزت نے بعض رسولوں کوبعض رسولوں پرفضیلت عطاکی ہے ۔اسی طرح دنوں میں سے جمعۃ المبارک کو،مہینوں میں سے ،ماہِ رمضان المبارک کو،راتوں میں سے لیلۃ القدرکی رات کواسی طرح شہروں میں سے مکۃ المکرمہ اورمدینہ منورہ کوفضیلت عطاکی ہے۔شہرمکہ کی اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں قسم اٹھائی ہے۔سوال پیداہوتاہے کہ اس شہرمیں اللہ رب العزت کاگھرہے،حجراسودجنتی پتھرہے میدان عرفات، مسجدنمرہ،جنت المعلیٰ قبرستان ہے۔اس لئے اللہ رب العزت نے اس شہرکی قسم اٹھائی ہے ۔نہیں! بلکہ اللہ رب العزت نے اس شہرکی قسم اس لئے اٹھائی ہے کہ اے محبوب علیہ الصّلوٰۃ والسلام اس (شہرمکہ)میں تم تشریف فرماہو۔لَااُقْسِمُ بِھٰذَالْبَلَدِ،وَاَنْتَ حِلّ’‘بِھٰذَالْبَلَدِ۔(پارہ 30) مجھے اس شہرمکہ کی قسم ،اس شہرمیں تم تشریف فرماہو۔قرآن پاک سے اس بات کاپتاچلاکہ جس جگہ محبوبان خداکے پاؤں لگ جائیں وہ جگہ عام جگہ نہیں رہتی بلکہ اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول جگہ ہوتی ہے ۔جس پہاڑی پرحضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا دوڑیں اللہ رب العزت نے ان پہاڑیوں کو\"شعائراللہ\"قراردیایعنی یہ کوئی دنیاوالی عام پہاڑیاں نہیں بلکہ میری نشانیاں ہیں ۔پس قیامت تک جوآدمی حج یاعمرہ کرے وہ ان پہاڑیوں پردوڑے تاکہ میری محبوب بندی حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی سنت زندہ رہے۔اسی طرح جوانسان نبی کریمﷺکے ساتھ عشق و محبت کرتاہے وہ عام انسان نہیں رہتا۔بلکہ وقت کا غوث ،قُطب ،ابدال بن جاتاہے۔ شہرمکہ کی فضیلت کے بارے میں حدیث مبارکہ میں آتاہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا\"کوئی شہرایسانہیں جسے دجال نہ روندے سوائے مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کے ان کے راستوں میں سے ہرراستہ پرصف بستہ فرشتے حفاظت کررہے ہیں۔(بخاری)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب مکہ فتح فرمایا تو اس روزفرمایاکہ اس شہرکواللہ پاک نے اس دن سے حرمت عطافرمائی جس روززمین اورآسمان کوپیداکیاتھا۔یہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کے باعث تا قیامت حرام ہے اوراس میں جنگ کرناکسی کے لئے نہ مجھ سے پہلے حلال ہوااورنہ میرے لئے مگردن کی ایک ساعت کے لئے ، پس وہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرام ہے نہ اس کاکانٹاتوڑاجائے اورنہ اسکاشکاربھڑکایاجائے اوراسکی گری پڑی چیزصرف وہ اٹھائے جس نے اعلان کرناہواورنہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے۔(بخاری)حضرت عبداللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکومقام حزورہ پرکھڑے ہوکرفرماتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم!اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کی ساری زمین سے بہتراوراللہ تعالیٰ کوساری زمین سے زیادہ محبوب ہے اگرمجھے تجھ سے نکل جانے پرمجبورنہ کیاجاتاتومیں ہرگزنہ جاتا(ترمذی ،ابن ماجہ) حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمﷺکوفرماتے ہوئے سناکہ تم میں سے کسی کویہ جائزنہیں کہ مکہ معظمہ میں ہتھیاراٹھائے پھرے۔ (مسلم)ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ ایک لشکرکعبہ معظمہ پرحملہ کرے گاتوجب میدانی زمین میں ہوں گے توانکے اگلے پچھلے سب کودھنسادیا جائے گامیں نے عرض کیایارسول اللہﷺانکے اگلے پچھلوں کوکیسے دھنسادیاجائے گاان میں سوداگربھی ہوں گے اوروہ بھی جواس لشکرسے نہیں رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ دھنسایا توسارے اگلے پچھلوں کوجائے گا پھراپنی نیتوں پراٹھائے جائیں گے(مسلم، بخاری)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں رسول اللہﷺنے مکہ معظمہ سے فرمایاتوکیسا پاکیزہ شہرہے اورتومجھے کیساپیاراہے اگرمیری قوم مجھے یہاں سے نہ نکالتی تومیں تیرے علاوہ کہیں نہ ٹھہرتا۔(ترمذی)حضرت ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عمروابن سعیدرضی اللہ عنہ سے فرمایاجبکہ وہ مکہ معظمہ پرلشکربھیج رہاتھاکہ اے امیرمجھے اجازت دے کہ میں تجھے وہ فرمان پاک سناؤں جسے کل فتح مکہ کے دن رسول اللہﷺنے کھڑے ہوکرفرمایاجسے میرے کانوں نے سنااورمیرے دل نے محفوظ کیااور حضورﷺ کومیری آنکھوں نے کلام کرتے وقت دیکھاآپﷺنے اللہ پاک کی حمدوثناء کی پھرفرمایاکہ مکہ کواللہ پاک نے حرم بنایاہے کسی انسان نے نہیں بنایاہے توکسی بھی اس شخص کوجواللہ اورقیامت کے دن پرایمان رکھتاہویہ جائزنہیں کہ وہاں خون بہائے اورنہ وہاں کادرخت کاٹے اگرکوئی رسول اللہ ﷺ کے جہادسے اجازت سمجھے تواسے کہہ دوکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کواسکی اجازت دے دی تھی اورتم کونہ دی رب نے مجھے دن کی ایک گھڑی اجازت دے دی تھی اب آج اسکی حرمت کل کی طرح ہی لوٹ آئی حاضرین غائبین کوپہنچادیں ابوشریح رضی اللہ عنہ سے کہاگیاکہ پھرتم سے عمرونے کیاکہافرمایاوہ بولااے ابوشریح رضی اللہ عنہ میں تم سے زیادہ جانتاہوں کہ حرم شریف نہ تومجرم کوپناہ دے سکتاہے نہ خون کرکے بھاگے ہوئے کونہ فسادکرکے بھاگے ہوئے کو۔(مسلم،بخاری)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاگھرمیں آدمی کی نمازایک نمازکاثواب رکھتی ہے ، محلہ کی مسجدمیں نمازپڑھنے کاثواب پچیس نمازوں کے برابرہے،جوجامع مسجدمیں نمازپڑھے اسے پانچ سونمازوں کاثواب ملے گا۔جومسجداقصیٰ اورمیری مسجدیعنی مسجدنبویﷺ میں نمازپڑھے اسے پچاس ہزارکاثواب ملے گااورمسجدحرام میں نمازپڑھنے کاثواب ایک لاکھ نمازکے برابرہے ۔(ابن ماجہ)حضرت ابوذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺکی بارگاہ اقدس میں عرض کیایارسول اللہﷺزمین پرسب سے پہلے کون سی مسجدبنائی گئی ؟آقاﷺنے فرمایابیت الحرام راوی فرماتے ہیں کہ میں نے پھرعرض کیایارسول اللہﷺاس کے بعد؟آپﷺنے فرمایامسجداقصیٰ!پھر میں نے عرض کیایارسول اللہﷺان دونوں (مسجدوں )کی تعمیرکے درمیان کتناوقفہ ہے ؟آپﷺنے فرمایاچالیس سال۔لیکن تم جہاں وقت ہوجائے اسی جگہ نمازپڑھ لیاکرواسی میں تمہارے لئے فضیلت ہے۔حضرت عیاش ابن ابوربیعہ مخزومی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایایہ امت ہمیشہ خیرکے ساتھ رہے گی جب تک اس حرمت کی پوری تعظیم کرتی رہے گی اورجب لوگ اسے ضائع کردیں گے ہلاک ہوجائیں گے۔(ابن ماجہ)
💌💌💌💌💌💌💌💌💌💌
اسی لئے امام اہل سنت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتےہیں
*حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا*
*ارے سرکاموقع ہے اوجانے والے*
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
*ان شـــآاللہ اسکے بعد مضائل مدینہ منورہ*
🖋📩 *کفش بردار حضورِ تاج الشریعــــہ*
*محمّـــــدعتیـــــق احمدخان رضوی نعیمی غفرلہ، بلرامپوراترپردیش، ثم احمدآباد گجـــرات*
☎📞 *+91-9662848786*
جلدبازی میں کچھ لفظی غلطیاں ہوگئ ہیں
نظراندازفرمائیں
Comments