ایک مشہور حکایت اعلیحضرت رضی اللہ عنہ کی نظر میں
*ایک مشہور حکایت اعلیحضرت رضی اللہ عنہ کی نظر میں*
_واعظین اپنا محاسبہ کریں_
------------پارٹ-21-------------------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
-----------------------------------------
قارئین کرام :: یہ حکایت خاص و عام میں مشہور ہے
مگر اس کی حقیقت جان کر آپ انگشت بدنداں رہ جائیں گے
*امام اہلسنت سیدنا امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ*
_رسالہ غلام امام شہید میں ہے کہ_
(ترجمہ حکایت )
(۱) رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں مجھے ایک حکایت یاد ہے جو تمام نیک لوگوں میں مقبول ہے۔
(۲) تاکہ تجھے آپ کی ہمتِ اقدس کا پتا چلے کہ امت پر آپ کی کس قدر شفقت ہے۔
(۳) اس کے بعد میں چاروں یاروں کی مدح کی طرف آؤں گا، اے بھائی ! تھوڑا سا وقت غور سے سُن،
(۴) مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تمام راتیں بیدار رہتے ، ایک رات اتفاقاً آپ پر نیند غالب آگئی۔
(۵) نماز کے وقت تک آپ نیند میں تھے۔ اچانک آپ کو خدائے بے نیاز کا حکم پہنچا۔
(۶) کہ میں نے آپ کو اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ آپ امت کے پشت پناہ بنیں۔
(۷) اے میرے محبوب ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) سونا آپ کو زیب نہیں دیتا، جو خدمت میں مشغول نہ ہو وہ بندہ نہیں ہے۔
(۸) جب آدھی رات کو نیند میں مشغول ہیں تو میں آپ کی اُمت پر غضب نازل کروں گا۔
(۹) ہر خاص و عام کو دوزخ میں ڈالوں گا ان میں سے کسی ایک کو چھٹکارا نہیں دوں گا۔
(۱۰) جب خیر البشر (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) نے یہ آیت سنی تو فوراً وہاں سے امتی کہتے ہوئے باہر نکل گئے۔
(۱۱) وہاں سے آپ تشریف لے گئے، کسی نے آپ کو نہیں دیکھا، آپ کے بارے میں فقط چھپی باتیں جاننے والے کو علم تھا۔
(۱۲) اس قصّہ کو جب دو تین دن گزر گئے آپ کے دوست یعنی صحابہ کرام غم سے دل کا خون پیتے رہے
۔(۱۳) آخر کار تیسرے دن نماز کے بعد تمام صحابہ کرام سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس گئے ۔
(۱۴) جب انہوں نے اُم المومنین سے پوچھا تو آپ نے انہیں یہ جواب دیا
۔(۱۵) آپ نے کہا کہ پچھلی رات رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو حق کی طرف سے خطاب ہوا، امت کے عذاب سے متعلق آیت نازل ہوئی۔
(۱۶) جب آپ کے کان مبارک تک یہ آیت پہنچی آپ حجرہ سے باہر چلے گئے کسی نے آپ کو نہیں دیکھا
۔(۱۷) نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دوستوں سے اس قدر شور بلند ہوا کہ جنوں اور دیوؤں پر لرزہ طاری ہوگیا۔
(۱۸) صحابہ نے اچانک دور سے ایک چرواہے کو دیکھا اس چرواہے کو دیکھنے سے ان کے دلوں کو کچھ چین آیا۔
(۱۹) اس کے پاس پہنچے اور پوچھا اگر پیغمبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی تجھے کوئی خبر ہے تو بتا۔
(۲۰) اس نے کہا میں نے مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو کب دیکھا ہے بلکہ میں نے ان کے بارے میں کسی سے سُنا بھی نہیں ہے۔
(۲۱) لیکن تین دنوں سے پہاڑ کے درمیان سے شور کی آواز میرے کانوں میں آتی ہے۔
(۲۲) اس کے رونے سے جانوروں کے دل زخمی ہوگئے ہیں، چراگاہ سے انہوں نے اپنے منہ بند کرلیے ہیں۔
(۲۳) ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتے ہیں، نیند سے انہوں نے آنکھیں باندھ رکھی ہیں۔
(۲۴) جماعتِ صحابہ نے جب یہ خبر سنی تو ان سب نے اپنا رُخ پہاڑ کی طرف کرلیا۔
(۲۵) پہاڑ کے درمیان ایک غار ظاہر ہوئی، اس غار کے اندر انہوں نے بڑوں کے سردارکو دیکھا۔
(۲۶) بے نیاز کی بارگاہ میں سر سجدہ میں رکھے ہوئے تھے، اپنے خدا سے راز داری میں کہہ رہے تھے۔
(۲۷) فریاد کررہے تھے اور کہہ رہے تھے اے اﷲ ! جب تک تو میری اُمت کے گناہ نہیں بخشے گا،
(۲۸) میں اپنا سر زمین سے نہیں اٹھاؤں گا، روزِ حشر تک میں اسی طرح روتا رہوں گا۔
(۲۹) اس طرح کہہ رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے ، موسم بہار کی طرح آنسو بہہ رہے تھے۔
(۳۰) جب غار کے چمگادڑوں اور صحابہ کرام نے گریہ وزاری کا یہ زور سُنا تو سرکار کے رونے سے سب کے جگر خون ہوگئے۔
(۳۱) صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا اے مومنوں کی شفاعت فرمانے والے ! مہربانی فرمائیں ، زمین سے سر اٹھائیں۔
(۳۲) میں نے عمر بھر جو طاعت کی ہے، اور دنیا میں جتنی عبادت کی ہے ۔
(۳۳) اس کا ثواب آپ کی اُمت کے لیے دیتا ہوں میں اے نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)
*اب تاجدار اہلسنت امام عشق و محبت مجدد اعظم اعلیحضرت رضی اللہ عنہ کا پیارا جواب ملاحظہ فرمائیں*
*الجواب* :ایں نقل باطل و بے اصل ست ودرہیچ کتاب معتبر ازونشانے نیست، واﷲ تعالٰی اعلم
یہ نقل باطل اور بے اصل
ہے ، کسی معتبر کتاب میں اس کا نام نشان نہیں ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
------------29/01/2017--------------
*وہابیہ کے مکروفریب جاننے کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں*
وہابی مذھب کی حقیقت '' عقائد وہابیہ '' وہابیت کا پوسٹ مارٹم '' قہرخداوندی بر فرقہ دیوبندی '' وہابیت اپنے جال میں '' شیشے کا گھر''وہابیت کے بطلان کا انلشاف''بدعات وہابیہ کا علمی محاسبہ '' نظریات وہابیہ کا علمی محاسبہ وغیرہ''
*نوٹ*:: مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز روا نہیں
--------------------------------------------
Comments