*بےاصل روایات کی تحقیق فتاوی رضویہ کی روشنی میں*
_عوام میں مشہور چند مسائل_
-----------پارٹ-16----------------
📝 *حسن نوری* وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
------------------------------------------
امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ
*نور نامہ اعلیحضرت کی نظر میں*
1) *نورنامہ* ہندی جومیلاد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے تفصیلی ذکرپر مشتمل ہے، کوپڑھنے پرثواب اس قدرلکھاہے کہ چالیس شہیدوں اورحج وغیرہ نیک امورکے برابر ثواب حاصل ہوتاہے۔
*الجواب : رسالہ منظومہ ہندیہ*
ہندی زبان میں لکھاہوارسالہ جونورنامہ کے نام سے مشہورہے، *اس کی روایت بے اصل ہے* اس کوپڑھنا جائزنہیں ہے، اس لئے کہ اس میں ثواب کی جگہ پر اوردعاؤں پرمطبعوں میں جواسنادی روایتیں لکھتے ہیں *وہ اکثر بے اصل ہیں۔*
*کیا مسجد کے آس پاس اونچی عمارت جائز نہیں*
2) _بعض لوگوں نے مسجد میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور عزر یہ ہے کہ جس مسجد کے قریب کوئی اونچی عمارت ہو اس مسجد میں نماز نہیں جائز ہے_
*امام اہلسنت نے فرمایا*
_الجواب_
*یہ محض جاہلانہ باطل خیال ہے شریعت میں اس کی*_کوئی اصل نہیں
کعبہ معظمہ کے گرد مکہ مکرمہ میں بہت بلند بلند کئی کئی منزل کے مکان ہیں کہ بظاہر کعبہ معظمہ سے اونچے معلوم ہوتے ہیں حالانکہ نہ کوئی مکان کعبہ معظمہ سے اونچا ہوسکتا ہے نہ کسی مسجد سے ، کعبہ و مسجد ان ظاہری دیواروں کانام نہیں بلکہ اتنی جگہ کے محاذی ساتوں آسمان تک سب مسجد ہے اس سے اونچا کیا اُس کے کروڑویں حصے برابر کوئی مکان بلند نہیں ہوسکتا اگرچہ سو منزلہ ہو،درمختارمیں ہے :انہ مسجد الٰی عنان السماء ۱؎۔۔
(یہ آسمان تک مسجد ہے۔ت)
(۱؎ درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ مطبوعی مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۳)
*جماعت جمعہ فوت ہوجائے تو؟*
3) ایک شخص کا کہنا ہے کہ اگر کسی گروہ کی جماعت جمعہ فوت ہوگئی تومسجد سے دور انگریزی سوگز یا ایک سو پچیس گز کے فاصلے پر چلے جائیں اور وہاں جمعہ ادا کریں
*اعلیحضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا*
اگر مقرر امامِ جمعہ کو شہر یا فنائے شہر میں مسجد کے علاوہ پالیتے ہیں تو وہاں بھی جمعہ جائز ہوگا کیونکہ جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں اور اگر ایسی کوئی صورت نہیں تو ظہر کی ادائیگی فرض ہوگی لیکن جماعت جائز نہ ہوگی بلکہ الگ الگ ادا کریں یہ تمام کتب مذہب میں صراحۃً موجود ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے
*اور مذکور شخص نے جوگزوں کی مقدار کا تعیّن کیا ہے اس کی*
*کوئی اصل نہیں*
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
_بچوں کی عبادت کا ثواب_
4) *یہ جو عوام میں مشہور*
*ہے کہ بچّوں کی عبادت کا ثواب ماں باپ پاتے ہیں اُنہیں نہیں ہوتا، غلط ہے، بلکہ عبادت کا ثواب اِنہیں اور تعلیم کا اُنہیں*
_جاری--------_
--------23/01/2017-----------------
*وہابیہ کے مکروفریب جاننے کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں*
وہابی مذھب کی حقیقت '' عقائد وہابیہ '' وہابیت کا پوسٹ مارٹم '' قہرخداوندی بر فرقہ دیوبندی '' وہابیت اپنے جال میں '' شیشے کا گھر''وہابیت کے بطلان کا انلشاف''بدعات وہابیہ کا علمی محاسبہ '' نظریات وہابیہ کا علمی محاسبہ وغیرہ''
*نوٹ*:: مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز روا نہیں
--------------------------------------------
_عوام میں مشہور چند مسائل_
-----------پارٹ-16----------------
📝 *حسن نوری* وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
------------------------------------------
امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ
*نور نامہ اعلیحضرت کی نظر میں*
1) *نورنامہ* ہندی جومیلاد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے تفصیلی ذکرپر مشتمل ہے، کوپڑھنے پرثواب اس قدرلکھاہے کہ چالیس شہیدوں اورحج وغیرہ نیک امورکے برابر ثواب حاصل ہوتاہے۔
*الجواب : رسالہ منظومہ ہندیہ*
ہندی زبان میں لکھاہوارسالہ جونورنامہ کے نام سے مشہورہے، *اس کی روایت بے اصل ہے* اس کوپڑھنا جائزنہیں ہے، اس لئے کہ اس میں ثواب کی جگہ پر اوردعاؤں پرمطبعوں میں جواسنادی روایتیں لکھتے ہیں *وہ اکثر بے اصل ہیں۔*
*کیا مسجد کے آس پاس اونچی عمارت جائز نہیں*
2) _بعض لوگوں نے مسجد میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور عزر یہ ہے کہ جس مسجد کے قریب کوئی اونچی عمارت ہو اس مسجد میں نماز نہیں جائز ہے_
*امام اہلسنت نے فرمایا*
_الجواب_
*یہ محض جاہلانہ باطل خیال ہے شریعت میں اس کی*_کوئی اصل نہیں
کعبہ معظمہ کے گرد مکہ مکرمہ میں بہت بلند بلند کئی کئی منزل کے مکان ہیں کہ بظاہر کعبہ معظمہ سے اونچے معلوم ہوتے ہیں حالانکہ نہ کوئی مکان کعبہ معظمہ سے اونچا ہوسکتا ہے نہ کسی مسجد سے ، کعبہ و مسجد ان ظاہری دیواروں کانام نہیں بلکہ اتنی جگہ کے محاذی ساتوں آسمان تک سب مسجد ہے اس سے اونچا کیا اُس کے کروڑویں حصے برابر کوئی مکان بلند نہیں ہوسکتا اگرچہ سو منزلہ ہو،درمختارمیں ہے :انہ مسجد الٰی عنان السماء ۱؎۔۔
(یہ آسمان تک مسجد ہے۔ت)
(۱؎ درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ مطبوعی مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۳)
*جماعت جمعہ فوت ہوجائے تو؟*
3) ایک شخص کا کہنا ہے کہ اگر کسی گروہ کی جماعت جمعہ فوت ہوگئی تومسجد سے دور انگریزی سوگز یا ایک سو پچیس گز کے فاصلے پر چلے جائیں اور وہاں جمعہ ادا کریں
*اعلیحضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا*
اگر مقرر امامِ جمعہ کو شہر یا فنائے شہر میں مسجد کے علاوہ پالیتے ہیں تو وہاں بھی جمعہ جائز ہوگا کیونکہ جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں اور اگر ایسی کوئی صورت نہیں تو ظہر کی ادائیگی فرض ہوگی لیکن جماعت جائز نہ ہوگی بلکہ الگ الگ ادا کریں یہ تمام کتب مذہب میں صراحۃً موجود ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے
*اور مذکور شخص نے جوگزوں کی مقدار کا تعیّن کیا ہے اس کی*
*کوئی اصل نہیں*
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
_بچوں کی عبادت کا ثواب_
4) *یہ جو عوام میں مشہور*
*ہے کہ بچّوں کی عبادت کا ثواب ماں باپ پاتے ہیں اُنہیں نہیں ہوتا، غلط ہے، بلکہ عبادت کا ثواب اِنہیں اور تعلیم کا اُنہیں*
_جاری--------_
--------23/01/2017-----------------
*وہابیہ کے مکروفریب جاننے کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں*
وہابی مذھب کی حقیقت '' عقائد وہابیہ '' وہابیت کا پوسٹ مارٹم '' قہرخداوندی بر فرقہ دیوبندی '' وہابیت اپنے جال میں '' شیشے کا گھر''وہابیت کے بطلان کا انلشاف''بدعات وہابیہ کا علمی محاسبہ '' نظریات وہابیہ کا علمی محاسبہ وغیرہ''
*نوٹ*:: مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز روا نہیں
--------------------------------------------
Comments