ماہ صفر کا آخری چہار شنبہ اعلیحضرت کی نظر میں
*ماہ صفر کا آخری چہار شنبہ اعلیحضرت کی نظر میں*
----------پارٹ-19----------------------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
--------------------------------------------
_امام اہل سنت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ایک سوال کے جواب فرماتے ہیں کہ_
*سوال*
عوام میں مشہور
ہے کہ اس روز حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مرض سے صحت پائی تھی بنابر اس کے اس روز کھانا اور شیرینی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کی سیر کو جاتے ہیں علی ہذا القیاس مختلف جگہوں میں مختلف معمولات ہیں کہیں اس روز کو نحس ونامبارک جان کر گھر کے پرانے برتن گلی تڑوالیتے ہیں اور تعویذ وچھلہ وچاندی کہ اس روز کی صحت بخشی جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں مریضوں کو استعمال کراتے ہیں یہ جملہ امور بربنائے صحت یا بی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عمل میں لائے جاتے ہیں لہذا اصل اس کی شرع میں ثابت ہے کہ نہیں؟ اور فاعل عامل اس کا بربنائے ثبوت یاعدم ثبوت گرفتار معصیت ہوگا یا قابل ملامت وتادیب؟
*--------*الجواب *----------*
_آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل نہیں_
*نہ اس دن صحت یابی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا کوئی ثبوت*
_بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارک ہوئی اس کی ابتداء اسی دن سے بتائی جاتی ہے_
اور ایک حدیث مرفوع میں آیا ہے:آخر اربعاء فی الشھر یوم نحس مستمر ۱؎۔
ماہ صفر کا آخری چہار شنبہ دائمی نحوست والا دن ہے۔
(۱؎ کنز العمال حدیث ۲۹۳۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۲/۱۱)
*اور مروی ہواکہ ابتدا ابتلائے سیدناایوب علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اسی دن تھی اور اسے نحس سمجھ کر مٹھی کے برتن توڑدینا گناہ و اضاعت مال ہے۔ بہر حال یہ سب باتیں بے اصل وبے معنی ہیں*
واللہ تعالٰی اعلم۔
*چہرہ دیکھ لیں توکام نہیں ہوتا؟*
امام اہلسنت رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ
ایک شخص کی نسبت عام طور پر جملہ مسلمانان ِ واہل ہنود میں
*یہ بات مشہور ہے کہ*
اگر صبح کو اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کہیں کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضرور کچھ نہ کچھ وقت اور پریشانی اٹھانی پڑے گی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر کام ہوجانے کا وثوق ہو لیکن ان کا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور رکاوٹ اور پریشانی ہوگی
*آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں*
*الجواب :*
_شرع مطہر میں اس کی کچھ اصل نہیں، لوگوں کا وہم سامنے آتا ہے۔_
شریعت میں حکم ہے:اذا تطیرتم فامضوا ۱۔
*جب کوئی شگون بدگمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو،*
( ۱ ؎فتح الباری کتاب الطب باب الطیرۃ مصطفٰی البابی مصر۱۲ /۳۲۳)
وہ طریقہ محض ہندوانہ ہے مسلمانوں کو ایسی جگہ چاہیے کہ :اللّھم لا طیر الا طیرک ولا خیرالا خیرک ولا الٰہ غیرک۲ ؎۔
اے اﷲ ! نہیں ہے کوئی برائی مگر تیری طرف سے اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری طرف سے اور تیرے بغیر کوئی معبود نہیں۔
پڑھ لے ، اور اپنے رب پر بھروسا کرکے اپنے کام کو چلا جائے ، ہر گز نہ رُکے نہ واپس آئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
-------------25/01/2017--------------
*وہابیہ کے مکروفریب جاننے کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں*
وہابی مذھب کی حقیقت '' عقائد وہابیہ '' وہابیت کا پوسٹ مارٹم '' قہرخداوندی بر فرقہ دیوبندی '' وہابیت اپنے جال میں '' شیشے کا گھر''وہابیت کے بطلان کا انلشاف''بدعات وہابیہ کا علمی محاسبہ '' نظریات وہابیہ کا علمی محاسبہ وغیرہ''
*نوٹ*:: مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز روا نہیں
--------------------------------------------
Comments